یہ تحریر کوئی خبر نہیں بلکہ ایک روحانی اضطراب کی صدا ہے ایک صاحب دل بار ہا تا جدار انبیا کی زیارت سعید سے سعید سے بہرہ ور ہوا ان میں صرف جمال نہیں پیام بھی عطا ہوئے ان میں سے کچھ محترمہ مریم نواز کے لئے بھی ہے حکم یہ کہ یہ رموز اہتمام راز داری کے ساتھ صرف وزیر اعلی پنجاب تک پہنچیں جنہیں پنجاب میں تدبیر و قیادت کا بار امانت حاصل ہے۔ میرے نزدیک یہ کلمات ظن و تخمین نہیں بلکہ ادراک یقین ہیں اس لئے راقم الحروف نے پیغام کی ترسیل کو ایمان کی امانت اور نصیب کی سعادت سمجھا چونکہ اہل حکم صدائے حق سے بے خبر رہے۔ایسے نازک اور حساس معاملے پر قلم اٹھانا محض جذبات کا کھیل نہیں بلکہ تحقیق، فہم اور بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ اور بات کی حقانیت پر مکمل زمہ داری لیتا ہوں ۔ ناقدین کچھ بھی کہیں کسی بھی رائے سے حقیقت متزلزل نہیں ہو سکتی ۔ صاحب کلام مصطفی ۖ کی رسائی سی ایم پنجاب تک خاصی دشوار تھی چنانچہ انہوں نے سی ایم کے معتمد رفقائے کار اور ارباب اختیار تک مکتوب روانہ کیئے بذریعہ کال، واٹس ایپ روابط کی سعی کی لیکن ایک خاموشی مسلط رہی ، دنیاوی لذتوں اور مصروفیات کے شور نے روحانی صدائے حق کو مکمل طور پر د باد یا طالب معرفت کا دل جو اخلاص، سچائی اور مسلسل تڑپ کے ساتھ دھڑک رہا تھا کہ کسی بھی طرح سی ایم پنجاب تک اس کی پہنچ ممکن ہو سکے۔ اس کی ہر بار کی جہد اور مساعی مگر بے حسی اور عدم التفات کے سوا سب لاحاصل ، دستکیں دی گئیں لیکن بصیرت کے در بند اور نگا میں اندھی رہیں۔کیا یہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی بے خبری ؟ یہ سوال خود قلم سے ٹپک رہا ہے ۔ صاحب الرویا کا کہنا ہے یہ نہ صرف میرے لئے بلکہ محترمہ مریم نواز کے لئے بھی رحمت باری کا مظہر ، نصیب کی معراج اور سعادت کبریٰ ہے جو صرف چنیدہ ارواح کے نصیب میں لکھی جاتی ہے۔جہاں ظاہری آنکھ بند ، زبان گنگ ، احساس گویا عقل مضمحل اور دل فقط سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ یہ فیصلے زمین کے باسیوں کے نہیں بلکہ عرش کی ان رفعتوں سے صادر ہوتے ہیں جہاں عزتیں تقسیم ہوتی ہیں ایسی عظمتوں کو لفظوں کے دامن میں قید کرنا نور کو مٹی میں تولنے کے مترادف ہے۔یہ معلومات پھر کسی التوا کی نظر نہ ہو اس لئے یہ کالم گوجرانوالہ کے ایم پی اے عمر فاروق ڈار کے توسط سے احسن ڈار صدر یو کے مسلم لیگ نواز کو بھی پہنچایا جارہا ہے ۔ یقین کامل ہے وہ حکم نبوی ۖ کی تعمیل کیلئے ایم پی عمر اے اسکی رسائی سی ایم پنجاب تک فوری یقینی بنائیں گے اور یہ مکتوب سی ایم آفس بھی ارسال کردیا جائے گا۔آخر میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے یہی معروضہ پیش کروں گا کہ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجا آوری ہر صاحب ایمان کے سر کا تاج سر ما یہ روح، جو ہر بندگی اور روحانی شرف کا نشان ہے جس کو یقینا آپ اپنے تاج و تخت اور فانی دنیا کے عارضی اقتدار اور مقام و مرتبے سے زیادہ اہمیت دیں گی، لہذا جس شخص کو دربار نبوت میں عز و وقار بخشا گیا اس کے لئے آپ کی جانب سے فوری توجہ خصوصی وقت و ملاقات اور شفقت عنایت فرمانا عین تقاضائے ایمان اور منصبی فریضہ ہے۔میں نے یہ تحریر کسی عجلت یا گمان کے تحت نہیں بلکہ مکمل شعور و ذمہ داری کے احساس سے لکھی ہے۔ان صاحب کا کہنا بات کی حقانیت کو محترمہ پر مکمل طور پر عیاں کردونگا۔ اہلِ حکم کے گزشتہ طرزِ عمل کے تناظر میں حقیقت کو تحریر کی زینت بنانا ناگزیر ہے۔اب دیکھنا یہ ہے بالآخر، حجابِ حکمت میں ملفوف وہ پیغام جو عرص دراز سے امانتِ خاموشی میں تھا، اب بتدریج ایوانِ اقتدار کی دہلیز تک منتقل ہو گا یا نہیں ،اس کا تذکرہ کچھ وقت بعد کیا جائے گا۔

