ہزار کوتاہیوں، لاکھ لغزشوں، اپنوں کی بے اعتنائیوں اور غیروں کی مسلسل دسیسہ کاریوں کے باوجود اپنے پورے وقار اور استقامت کے ساتھ قائم مملکتِ خداداد پاکستان درحقیقت تاریخ کا ایک زندہ معجزہ ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جسے قیام کے دن سے ہی سازشوں، جنگوں اور بحرانوں کے حصار میں رکھا گیا، مگر ہر آزمائش کے بعد یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔رمضان المبارک کے ستائیسویں روز اسکا قیام، کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود ریاستِ طیبہ کے بعد دوسری لا الہ الا اللہ سے موسوم ریاست کا ظہور اور محافظِ حرمین الشریفین کے اعزاز کیساتھ اس کا تعلق یہ سب حقائق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ تاریخ کے سینے پر ثبت ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ورنہ اپنے قیام کے صرف ایک برس بعد 1948 سے ہی نومولود ریاست کے خلاف شروع ہونے والی جنگوں سے لے کر مئی 2025 کے معرکہ حق تک اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت سے ٹکرانا اور سرخرو ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔سب سے بڑھ کر نامساعد معاشی حالات کے باوجود مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بن جانا بھی ایک ایسا اعزاز ہے جو 56 اسلامی ممالک میں صرف ریاستِ پاکستان کو حاصل ہے۔آج بھی ہمارا کامل یقین ہے کہ آئے روز کے نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہو کر یہ عظیم ریاست قائم و دائم رہے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کی آنکھوں میں کھٹکنے والی یہ ریاست کبھی بھی مثالی حالات میں زیادہ دیر نہیں رہی۔ چیلنجز ہر دور میں اس کی دہلیز پر دستک دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔البتہ اس بار چاروں اطراف سے تناؤ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔مئی 2025 کی تاریخی فتح کے بعد مشرقی سرحد پر موجود ازلی دشمن کیساتھ ساتھ افغانستان کے راستے بھی چیلنجز درپیش ہیں، ایران کے راستے ایک نیا محاذ اور عالمی سازشوں کا ایک کوریڈور بھی سرگرم نظر آتا ہے۔چند برس قبل ایک نشست میں متعلقین نے بتایا کہ صرف بلوچستان میں پاکستان کیخلاف 25غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں سرگرمِ عمل ہیں۔یہ سن کر ایک لمحے کیلئے کانوں سے دھواں نکل آیا۔ راقم نے حیرت سے پوچھا:واقعی پچیس؟
جواب ملا:جی ہاں، پوری پچیس۔
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یورپ کے ایک دور افتادہ ملک کی ایجنسی کی ایک خاتون خفیہ ایجنٹ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئی اور پکڑی گئی۔ تحقیقات کے بعد جب اس ملک کا نام سامنے آیا تو ہم حیران رہ گئے۔ویڈیو ثبوت متعلقہ ملک کے سفارت خانے کے اہلکاروں کو دکھا کر پوچھا گیا:ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے جو دنیا کے آخری کونے سے اٹھ کر بلوچستان میں تخریب کے ناپاک ارادے سے تمہاری ایجنٹ یہاں چلی آئی ہے؟
جواب میں خاموشی تھی۔ ازاں بعد ریاستی اداروں کی مشترکہ تحقیقات کے بعد یہ رپورٹ سامنے آئی کہ بلوچستان کی سرزمین پر پچیس غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں بیک وقت سرگرم ہیں۔یہ ہے پاکستان، یہ ہے ریاست، اور یہ ہیں آئی ایس آئی اور ہمارے دیگر ادارے جو نہ جانے ایک وقت میں کتنے دشمنوں سے کتنے محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔بنا سوچے، بنا تولے یہ بول دینا کتنا آسان ہے کہ دفاع پر اتنا خرچ کیوں کیا جاتا ہے اور ایٹم بم کی کیا ضرورت تھی؟ ملک کو خوشحال بنانے پر توجہ دی جاتی۔یہ دلیل اپنی جگہ موجود سہی، لیکن آج پڑوسی ملک ایران اور بعض خلیجی ریاستوں کی حالتِ زار سے ایک تلخ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ جو ممالک دفاع کے بجائے صرف عمارات کی تعمیر پر توجہ دیتے رہے، آج وہ کس مشکل سے دوچار ہیں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے بلند و بالا عمارات پر بارود کی بارش دیکھ رہے ہیں اور اپنے ہی دفاع کیلئے کسی کے مرہونِ منت ہیں ۔سٹریٹیجک ڈیپتھ کے معاملے میں افغانستان میں روسی جارحیت کیخلاف کردار پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ کمال حکمتِ عملی تھی۔ سوویت یونین نے ایک پڑوسی مسلم ملک کو روندنے کا جو عزم کر رکھا تھا، اسے جلال آباد، قندھار اور خوست میں شکست دینا پہلے افغانستان کے مفاد میں تھا اور اسکے بعد اس کا تعلق ریاستِ پاکستان کے مفاد سے جڑتا تھا۔اپنے قیام کے بعد سے اب تک اس ریاست نے ہمیشہ پڑوسیوں اور برادر ممالک کی حتی الوسع مدد کی ہے۔عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان کی فضائیہ کا کردار تاریخ کے سنہرے اوراق کا حصہ ہے۔ حرمین الشریفین کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کے مقابل بھی پاکستان کا کردار ہمیشہ مستعد رہا ہے۔اسی طرح سفارتی اور سٹریٹیجک تعاون کے تحت پڑوسی ملک ایران کی غیر معمولی مدد کا بھی ایک ریکارڈ موجود ہے، جس کی قیمت بھی پاکستان کو چکانی پڑی۔بی بی سی کی ایک رپورٹ، جو سی آئی اے کی آرکائیوز سے لیک ہونے والی دستاویزات پر مبنی ہے، میں بتایا گیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر بل کلنٹن سے دو طویل ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد دینے کی شکایت کی، جس پر بل کلنٹن نے نوٹس لیا۔ یہ الزامات اور ان کی بھاری قیمت بھی پاکستان نے چکائی۔افغانستان کو سوویت یونین کی طاقت کے مقابلے میں تربیت، مدد اور لیڈرشپ فراہم کرنے کا معاملہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔سابق افغان وزیرِاعظم گلبدین حکمت یار کا ایک انٹرویو آن ریکارڈ ہے کہ اگر پاکستان ہماری مدد نہ کرتا تو افغانستان روس کے خلاف کبھی جنگ نہیں جیت سکتا تھا۔نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو کے عتاب سے بچنے میں افغانوں کا محض اپنا کردار کافی نہ تھا بلکہ اس جنگ میں پاکستان نے بھی کم و بیش اتنی ہی قربانیاں دیں جتنی افغانوں نے دیں۔معیشت، فوج اور امن ہر حوالے سے پاکستان نے بھاری قیمت چکائی اور آج تک چکا رہا ہے۔نائن الیون کے بعد افغان معاملہ کس قدر سنگین تھا، اس کی ایک مثال کرنل امام کی ایک گفتگو سے واضح ہوتی ہے۔ کرنل امام، جو ملا محمد عمر کے استاد تھے، نے لاہور میں ایک فورم پر بتایا کہ جب افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کچھ ساتھیوں نے ملا محمد عمر سے پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت مانگی تو ملا عمر نے جواب دیا:ہرگز نہیں۔
(……جاری ہے)
کالم
پاکستان:سازشوں کے بیچ قائم ایک ناقابلِ شکست ریاست
- by web desk
- مارچ 14, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 45 Views
- 2 مہینے ago

