کالم

پاک بھارت ویزا پالیسی۔۔۔!

برصغیر جنوبی ایشیا کی تاریخ صدیوں پر محیط تہذیب، ثقافت، روایات اور مشترکہ انسانی اقدار سے عبارت ہے۔ اس خطے کے لوگ زبان، لباس، خوراک، رسم و رواج اور معاشرتی اقدار میں بے شمار مماثلتیں رکھتے ہیں۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں صدیوں تک ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے رہے اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے رہے۔ گلی محلوں میں ایک دوسرے کے گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، تہوار مشترکہ خوشی کا سبب بنتے تھے اور شادی بیاہ کی تقریبات میں مذہب سے زیادہ انسانیت کی خوشبو نمایاں ہوتی تھی۔ وقت کے دھارے نے ایک ایسا موڑ لیا کہ 1947میں پاکستان اور بھارت دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔بٹوارے کے وقت ہونیوالی ہجرت انسانی تاریخ کے بڑے سانحات میں شمار ہوتی ہے۔لاکھوں لوگوں کو اپنے آبائی گھروں، زمینوں، یادوں اور رشتوں کو چھوڑ کر نئی سرزمینوں کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ اس ہجرت نے نہ صرف خاندانوں کو جدا کیا بلکہ دوستوں، پڑوسیوں اور برسوں کے تعلقات کو بھی بکھیر دیا۔ بہت سے لوگوں نے اپنی جنم بھومی کو ہمیشہ کیلئے الوداع کہا اور نئے وطن میں نئی زندگی شروع کی۔ اس سانحے نے دونوں طرف کے لوگوں کے دلوں میں گہرے زخم چھوڑے۔تقسیم کے باوجود دونوں ممالک کے عوام کے درمیان جذباتی اور تہذیبی رشتہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ پاکستان اور بھارت کے لاکھوں لوگ آج بھی ایک دوسرے کے شہروں، گلیوں اور گھروں کی یادوں کو دل میں بسائے ہوئے ہیں۔ بزرگ نسل کے بہت سے افراد آج بھی اپنے بچپن کے قصے سناتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے ہندو یا مسلمان دوستوں کے ساتھ کھیلتے تھے، ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا تھا اور تہوار مل کر منائے جاتے تھے۔ یہ یادیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ برصغیر کی اصل روح باہمی احترام اور مشترکہ انسانیت میں پوشیدہ تھی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی سیاسی تاریخ اپنی جگہ موجود ہے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے ہمدردی اور اپنائیت کے جذبات اب بھی زندہ ہیں۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان ویزوں میں نرمی یا سرحدی آمدورفت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں تو ہزاروں لوگ اپنے بچھڑے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں۔ ایسے مناظر انسانی جذبات کی گہرائی کو واضح کرتے ہیں۔دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے مذہبی اور روحانی مقامات بھی موجود ہیں جو صدیوں پرانی تاریخ اور عقیدت کی علامت ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے کئی اہم مزارات اور درگاہیں موجود ہیں ۔ دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ، اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور ممبئی میں واقع حاجی علی درگاہ، جہاں لوگ حاضری دیتے ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔اسی طرح پاکستان میں ہندو برادری کے کئی تاریخی اور مقدس مقامات موجود ہیں، بلوچستان میں ہنگلاج ماتا مندر، عمرکوٹ میں شیو مندر تاریخی، کراچی میں شری سوامی نارائن مندر، لاہور میں کرشنا مندر اور شیو مندر اور چکوال میں راج کیٹاس مندر صدیوں پرانی تاریخ اور مذہبی عقیدت کی علامت ہیں۔ سیاسی کشیدگی اور سخت ویزا پالیسیوں نے عام لوگوں کو ان مقدس مقامات تک رسائی سے محروم کردیا ہے۔ بہت سے عقیدت مند برسوں سے اس انتظار میں ہیں کہ انہیں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کا موقع مل سکے۔ اسی طرح ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو سرحد کے دونوں جانب آباد ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہونا چاہتے ہیں مگر ویزا پابندیوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ شادی بیاہ انسانی معاشرت کا اہم حصہ ہے اور برصغیر میں اس کی خاص ثقافتی اہمیت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کے باوجود بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے رشتہ دار دونوں ممالک میں آباد ہیں۔ ایسے خاندانوں میں شادی بیاہ کے مواقع پر ایک دوسرے کی شرکت فطری خواہش ہوتی ہے۔ سخت ویزا قوانین اور طویل سفارتی عمل اکثر لوگوں کو ان خوشیوں میں شریک ہونے سے محروم کردیتا ہے۔علاج معالجہ بھی ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جس کا تعلق براہ راست زندگی اور صحت سے ہے۔ بعض اوقات مریضوں کو بہتر علاج کیلئے سرحد پار جانا پڑتا ہے۔ ایسے مواقع پر اگر ویزا کے حصول میں مشکلات پیدا ہوں تو مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ علاج معالجے کے معاملات میں ویزا کے حصول کو آسان بنایا جائے ۔پاکستان نے بیساکھی کے موقع پر تین ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کرنا ایک مثبت قدم ہے جو مذہبی آزادی اور بین المذاہب احترام کی مثال پیش کرتا ہے۔ سکھ یاتری پاکستان میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے آتے ہیں اور انہیں یہاں مکمل مذہبی آزادی اور احترام فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور خیرسگالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسی جذبے کو وسیع تر دائرے میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر ویزا پالیسیوں کو نرم کریں تاکہ عام لوگوں کو اپنے مذہبی مقامات کی زیارت، شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت اور علاج معالجے کیلئے سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کریں گے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد اور محبت کے رشتے کو بھی مضبوط کریں گے ۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ عوامی سطح پر روابط کسی بھی خطے میں امن کے فروغ کیلئے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور براہ راست رابطے میں آتے ہیں تو غلط فہمیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ سرحدوں کے دونوں طرف رہنے والے لوگ امن اور شانتی چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان فاصلے سیاسی بنیادوں پیدا کیے گئے ہیں ، دلوں کے درمیان فاصلے اتنے زیادہ نہیں ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور تعاون کی راہ میں کئی سیاسی اور سفارتی مسائل موجود ہیں مگر انسانی روابط کو ان مسائل کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔ مذہبی زیارتوں، خاندانی ملاقاتوں اور علاج معالجے کے معاملات کو سیاست سے بالاتر رکھنا ناگزیر ہیں ۔ سرحدیں جغرافیائی حقیقت ضرور ہوتی ہیں مگر انسانی جذبات اور رشتوں کو مکمل طور پر محدود نہیں کرسکتیں۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان موسیقی، ادب اور روایات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جو اس خطے کی اصل پہچان ہے۔پاکستان اور بھارت حکومتوں کو چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر ویزا پالیسیوں میں نرمی پیدا کریں۔ شادی بیاہ، مذہبی مقامات کی زیارت اور علاج معالجے کیلئے ویزوں کا اجرا آسان اور تیز تر ہونا چاہیے۔ اس عمل میں کسی قسم کی غیر ضروری رکاوٹ یا پابندی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔جب لوگ اپنے بچھڑے رشتہ داروں سے ملیں گے جب عقیدت مند اپنے مقدس مقامات پر حاضری دے سکیں گے اور جب مریض بہتر علاج کیلئے سرحد پار جاسکیں گے تو دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے احترام اور محبت کے جذبات مزید مضبوط ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انسانیت کی قدر ہر سیاسی اختلاف سے زیادہ اہم ہے۔انسانی رشتوں کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سرحدوں کو نفرت کی دیوار کے بجائے رابطے کے پل میں تبدیل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے