اداریہ کالم

کراچی میں بلدیاتی انتخابات پرالیکشن کمیشن کافیصلہ

idaria

الیکشن کمیشن ایک آ زاد اورخودمختار ادارہ ہے جو پاکستان میں منصفانہ اورآزادانہ انتخابات کرانے کاذمہ دار ہے ،اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے لئے اکتیس دسمبر کی تاریخ متعین تھی جس پراسلام آباد ہائی کورٹ نے انتخابات کے انعقادکابھی حکم دیاتھا مگر عین موقع پر الیکشن کمیشن تیاریا ں نہ ہونے کاکہہ کرپیچھے ہٹ گیا اسی طرح سندھ میں پندرہ جنوری کو عام انتخابات کے انعقاد کااعلان کیاگیاتھا جسے حکومت نے ملتوی کرنے کافیصلہ کیاتھا تاہم اسلام آباد کی صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقررہ تاریخ پر ہی الیکشن کرانے کااعلان کیاہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں ہونےوالے ہنگامی اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد کی صورتحال پر بھی غورکیا گیا، ۔ اجلاس کے دوران سندھ میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے ہنگامی اجلاس میں سندھ حکومت کے اقدام پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سندھ حکومت کے خلاف سخت کارروائی پر بھی غورکیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں کوئی بھی بلدیاتی انتخاب کرانا نہیں چاہتیں، اسلام آباد بلدیاتی قانون میں ترمیم کا سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالا گیا، سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تمام انتظامات مکمل تھے دو دن پہلے عین وقت پر سندھ حکومت نے ایسا اقدام کیا ۔ الیکشن کمیشن نے اعلامیہ میں کہا کہ کراچی ڈویژن ، حیدر آباد اور دیگر اضلاع میں انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے، جلد ایک آرڈر جاری کریں گے، وزارات داخلہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر فوج اور رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنائے۔دوسری جانب سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید نے کراچی و حیدرآباد کے عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ الیکشن کی تیاری کریں، سب کچھ ٹھیک ہوگا، پولیس و رینجرز کی خاطر خواہ نفری تعینات ہوگی، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، تھریٹ الرٹ کوئی سیریس چیز نہیں۔ الیکشن کمیشن کا واضح فیصلہ آچکا ہے، اب بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کی کوئی وجہ نہیں، تمام جماعتوں نے جس جگہ پر کوشش کرنی تھی وہ کر لی، الیکشن کمیشن میں باقاعدہ سب کو سنا گیا۔ اب سارے الیکشن کی تیاری کریں، سکیورٹی اداروں نے یقین دلایا ہے کہ پوری تیاری ہے، سندھ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ ہے، الیکشن کروانا قومی فریضہ ہے۔ ادھرمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی میں حلقہ بندیوں کے معاملے پر وفاقی حکومت سے علیحدگی پر غورشروع کردیاہے۔اس حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم کو کہا کہ اب عمل درآمد چاہیے ، عوام اور کارکنان کا پریشر ہے اور دن سے آپ کے مثبت جواب کا انتظار کررہے ہیں۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی خالد مقبول صدیقی کو فون کرکے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ایم کیو ایم پاکستان کے کنویئر نے دو ٹوک مو¿قف اختیار کیا کہ اگر اس بار بھی دھوکا دیا گیا تو ہمارا فیصلہ سب کو معلوم ہے کیا ہوگا۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بھی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور معاملات کو افہام وتفہیم اور باہمی مشاورت سے حل کرنے کی درخواست کی۔ایاز صادق نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کے کنونئیر خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وزیراعظم کو اپ کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور معاملے کو دیکھ رہے ہیں، مثبت چیزیں سامنے آئیں گی۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماﺅں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، ماضی میں کی گئی مردم شماری پر تحفظات ہیں۔ فیصل سبزواری نے فروغ نسیم اور دیگر پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کا مقدمہ ہے۔ شفاف حلقہ بندیوں کےلئے آخری حد تک جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ ادارہ اپنی غیرجانبداری ظاہر کرنے کے لئے یہ اقدام کررہاہے کیونکہ الیکشن بچوں کا کھیل نہیں بلکہ اس پراربوں روپے کے اخراجات آتے ہیں ،بیلٹ پیپروں کی تیاری اور دیگرمعاملات کے انتظامات پراٹھنے والے اخراجات یکدم انتخابات ملتوی کرکے قومی سرمائے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کایہ فیصلہ درست ہے ۔
وزیراعظم کے دورہ یواے ای کامشترکہ اعلامیہ
وزیراعظم شہبازشریف کے دورے کے اختتام پرجاری ہونے والے اعلامیے میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزیدفروغ دینے کااعادہ کیاگیاہے اورفیصلہ کیاگیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں معاشی بحالی کے منصوبوں پرکام جاری رکھے گا یہ۔ اعلامیہ وزیراعظم شہباز شریف کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی صدر یو اے ای سے ملاقات ہوئی اعلامیے کے مطابق یو اے ای کے صدر سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور ٹھوس اقدامات اٹھانے پر بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں علاقائی، سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں سیاسی، دفاعی، معاشی، تجارتی وثقافتی شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا گیا ۔ مشترکہ جوائنٹ وینچرز، باہمی تعاون، ہیومن ریسورس کے شعبے میں باہمی تعاون پر غور کیا گیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یو اے ای کے صدر کا حالیہ سیلاب میں مدد پر شکریہ بھی ادا کیا ۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ تیسرا دورہ ہے۔
اوآئی سی کاپاکستان کے بارے میں اظہارخیال
پاکستان کواسلامی دنیا میں ایک قلعے کی حیثیت حاصل ہے پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اورواحد ایٹمی طاقت بھی ہے اس لحاظ سے اوآئی سی میں پاکستان خاصی اہمیت کاحامل ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ابراہیم حسن طہ نے کہا ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا ایک اہم ستون ہے۔امت مسلمہ کی ترقی کا واحد راستہ اعلی تعلیم ہے۔انھوں نے او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر جدہ میں پاکستان کے معروف اسکالر پروفیسر سجاد قمر سے ملاقات میں کہا کہ علم اور دریافت مسلمانوں کا ورثہ ہے۔ابن خلدون،الرازی،ابن الہیثم اور دیگر بہت بڑے بڑے سائنسدان مسلمان تھے۔اگر ہم اپنی غم شدہ میراث واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہو گا۔ حسین ابراہیم طہ نے پاکستان کے دورے کے دوران کنٹرول لائن کا دورہ کر کے کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل جیتے۔مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے اور رائے شماری ہی اس کا واحد حل ہے۔ یو ایم ٹی او آئی سی کے ساتھ مل کر مسلم دنیا کے بہترین مسلمان سائنسدانوں کی ایک کانفرنس پاکستان میں منعقد کرے گی اور اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف اورنوازشریف کے مابین ٹیلیفونک رابطہ
پنجاب میں اچانک وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک بھونچال برپاکردیاہے اوراب نہ پائے رفتن اورنہ جائے ماندن والی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میںپنجاب کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،ٹیلیفونک گفتگو میں اسمبلی تحلیل ہونے پر ممکنہ پیدا ہونیوالی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی ، وزیراعظم شہبازشریف گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کو کچھ اہم ہدایات دیں گے اگر مارچ یا اپریل میں عام انتخابات ہوں تو ن لیگ کی حکمت عملی کیا ہوگی؟دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے پنجاب میں آئین کے مطابق چلنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں رہنماﺅں نے پنجاب کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ حکومتی بڑوں نے پنجاب میں آئین کے مطابق چلنے پر اتفاق کیا ہے اور آئینی اور قانونی مشاورت کے تحت حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے