کالم

کشمیری یونیورسٹیوں کے امریکی معاہدے منسوخ

کشمیر کیئر فاؤنڈیشن جس کا ہیڈکوارٹر امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ہے اور جو ایک غیر منافع بخش، غیر مذہبی اور غیر سیاسی تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، نے 2025 میں کشمیر یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کشمیر کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدے تنظیم کے قیام کے ایک سال بعد کیے گئے تھے۔کشمیر کی تین یونیورسٹیوں نے امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ اْس وقت اپنے معاہدے ختم کر دیے جب خفیہ ایجنسیز نے اس کی سرگرمیوں پر اعتراض ظاہر کیا۔ تینوں یونیورسٹیوں نے الگ الگ سرکاری خطوط کے ذریعے کو ان معاہدوں کی منسوخی کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں دسمبر 2025 میں ہونے والا مشترکہ معاہدہ تعلیمی سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی پروگراموں کو فروغ دینے کیلئے تھا، خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، ہیومینیٹیز اور متعلقہ شعبوں میں۔تاہم یونیورسٹی کی جانب سے فاؤنڈیشن کے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ اس معاہدے کو جاری رکھنا "ادارے کے وسیع تر مفاد میں نہیں” ہے۔ اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے "فورس میجر” کی شق کا استعمال کیا۔ یونیورسٹی کے مطابق اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی، معاہداتی یا دیگر ذمہ داری عائد نہیں ہوئی، اور اس خط کو باضابطہ منسوخی کا نوٹس سمجھا جائے۔زرعی یونیورسٹی نے بھی اپریل 2025 میں کیے گئے معاہدے کو ختم کرنے کیلئے KCF کو باقاعدہ خط ارسال کیا ہے۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ مجاز حکام کے جائزے کے بعد ان معاہدوں کو تعلیمی اداروں کے مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔تاہم ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب خفیہ ایجنسیوں نے KCF سے وابستہ کچھ افراد پر اعتراض ظاہر کیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ "ایسے پلیٹ فارمز کو ایک مخصوص نظریاتی ایجنڈا پھیلانے کے لیے نرم ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی عناصر کی شمولیت کے باعث سرحد پار اثراندازی کے خدشات نے نگرانی کو مزید سخت کر دیا ہے۔”آکسفورڈ سمیت 12 برطانوی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حامی طلبہ کی جاسوسی کا انکشاف۔ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے۔دستیاب شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے، جس کا مقصد کیمپس میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں اور خاص طور پر فلسطین کے حامی افراد کی خفیہ نگرانی تھا۔ دستاویزات کے مطابق اس نگرانی میں نہ صرف طلبہ بلکہ ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہیں جنہیں مانچسٹر یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔ یہ ادائیگیاں مبینہ طور پر کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نام پر کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تعلیمی آزادی کے حامی افراد کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور تحقیق کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے اس حوالے سے شفافیت بھی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔مودی راج میں بھارت کو ایک اور عالمی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ آپریشن سندور میں شکست کے بعد امریکی ویزا بحران نے بھارت کا عالمی چہرہ بے نقاب کر دیا۔بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں بھارتی طلبہ کی تعداد میں 70 تا 80 فیصد تک نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی ویزا سلاٹس کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ وعدوں کے باوجود امریکی سفارتخانوں نے اپوائنٹمنٹ سلاٹس بند کر دیے ہیں۔ ویزوں کے مسترد کیے جانے کی شرح میں بے پناہ اضافے کے بعد، ہزاروں بھارتی طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہر کیس میں امریکا کی جانب سے دفعہ 214(b) کے تحت ویزا مسترد کیے جانے پر وطن واپسی کے امکانات پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگر آئندہ چند ہفتوں میں ویزا سلاٹس بحال نہ ہوئے تو ہزاروں بھارتی طلبہ کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے، جس پر مودی حکومت کو اندرون ملک شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے امریکا کی جانب سے بھارتی طلبہ پر عدم اعتماد نہ صرف مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کا وشو گرو بننے کا خواب، عالمی اعتماد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات، داخلی انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں اور یہی مودی کی نام نہاد سافٹ پاور کو زوال کی طرف لے جا رہی ہے۔ امریکا کی اس سرد مہری کو عالمی سفارتی حلقے بھارت کے لیے ایک ‘خاموش مگر فیصلہ کن پیغام’ قرار دے رہے ہیں کہ اقوام عالم اب مودی سرکار کی غیر ذمے دارانہ پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرنے لگی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے