یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ امریکا ہمیشہ سے جمہوریت، انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا علمبردار سمجھا جاتا رہا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں یہاں بھارتی ہندوتوا نظریات کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف امریکی پالیسی ساز حلقوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے بلکہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے اندر بھی ایک نمایاں تقسیم پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رجحان محض بھارت کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اب ایک منظم حکمتِ عملی کے ذریعے امریکی سماج، لابنگ گروپس، اکیڈمیا اور سیاسی ڈھانچوں تک پھیل رہا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ہندوتوا کا تصور آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریاتی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کو ایک”ہندو راشٹر”کے طور پر دیکھنے کا خواہاں ہے۔ بھارت کے اندر اس نظریے کے نتیجے میں مسلمان، عیسائی، دلت اور دیگر اقلیتی برادریاں شدید دباو کا شکار ہوئی ہیں، لیکن اب یہی سوچ امریکی سرزمین پر مقیم بھارتی ڈائسپورا گروہوں کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اگرچہ امریکا میں مختلف بھارتی نژاد تنظیمیں اور تھنک ٹینکس کئی برسوں سے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق 2014 کے بعد یہ سرگرمیاں زیادہ مربوط، وسائل سے بھرپور اور سیاسی طور پر جارحانہ ہو گئی ہیں۔ سفارتی ماہرین کے بقول یہ تنظیمیں پاکستان، کشمیر، شہریت ترمیمی قانون اور بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی توجہ کو کمزور کرنے کیلئے منظم مہمات چلاتی ہیں۔دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ چند امریکی قانون ساز، انتخابی فنڈز اور لابنگ کے دباؤ میں آکر ایسے بیانات جاری کر دیتے ہیں جو بھارتی حکومت کے مؤقف کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں بعض امریکی ریاستوں میں تعلیمی نصاب سے متعلق ایسے تنازعات سامنے آئے جن میں ہندوتوا سے متاثر گروہوں نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کو مسخ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔امریکا کی بڑی جامعات عرصہ دراز سے علمی و تحقیقی آزادی کا مرکز رہی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں یہاں بھی ہندوتوا کی نظریاتی مداخلتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف تحقیقی منصوبوں اور علمی کانفرنسوں پر دباؤ ڈالا گیا، بعض پروفیسرز کو دھمکی آمیز مہمات کا سامنا کرنا پڑا، اور کشمیر یا بھارتی اقلیتوں کے انسانی حقوق پر تحقیق کرنیوالے اسکالرز کو”اینٹی انڈین”قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ 2020 میں”عالمی ہندوتوا کو ختم کرنا”کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونے والی تھی جس کے خلاف زبردست آن لائن مہم چلائی گئی۔ کانفرنس کے منتظمین کو دھمکیاں دی گئیں، اسپانسر اداروں پر دباؤ ڈالا گیا، اور ہندوتوا کی عالمی تشہیری مشینری نے اس پروگرام کو”بھارت مخالف سازش”قرار دینے کی کوشش کی۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ امریکی علمی ماحول پر براہِ راست حملہ تھا۔امریکا میں مسلمان، سکھ اور دیگر جنوبی ایشیائی اقلیتیں پہلے ہی امیگریشن، شناخت اور مذہبی آزادی جیسے مسائل سے دوچار ہیں اور ایسے میں ہندوتوا نظریات کے اثر نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر کشمیری مسلمان، پاکستانی نژاد امریکی، سکھ برادری اور دلت گروہ اکثر ایسے تعصبات سے دوچار ہوتے ہیں جو بھارت کے اندر چلنے والی قوم پرستی کی عکاسی کرتے ہیں۔کئی مقامات پر ہندوتوا سے متاثر گروہوں نے پاکستانی یا کشمیری کمیونٹی کے پروگراموں کیخلاف احتجاج کیے، بعض کو”دہشت گردی حمایت”کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا، اور سوشل میڈیا پر منظم کردار کشی مہمات چلائی گئیں۔ امریکا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں یہ رویہ گہری تشویش کا سبب بنتا جا رہا ہے۔انسدادِ انتہاپسندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی نظریہ بیرونِ ملک پھیل کر لابنگ، فنڈنگ اور سیاسی مداخلت کا ذریعہ بن جائے تو اس کے اثرات صرف داخلہ پالیسی تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ہندوتوا کے نظریاتی دھارے میں”دشمن کی شناخت” ، ”قوم پرستی کی انتہا”، اور”اقلیتوں کے خلاف نفرت”جیسے عناصر موجود ہیں، جو کسی بھی ملک میں معاشرتی پولرائزیشن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چونکہ بھارتی ڈائسپورا امریکا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسی لیے ہندوتوا نظریات کا پھیلاؤ امریکی معاشرے میں مستقبل کیلئے ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے: کیا امریکا انتہاپسند قوم پرستی کو اپنے علمی اور سیاسی ماحول میں پنپنے دے گا؟ امریکا کی ریاستی پالیسی ہمیشہ سے مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کے اصولوں پر قائم رہی ہے، مگر ہندوتوا لابنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ان اصولوں کو چیلنج کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ امریکی پالیسی ساز، تھنک ٹینکس، صحافتی حلقے اور سول سوسائٹی نہ صرف اس رجحان کو سمجھیں بلکہ اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے واضح حکمتِ عملی تشکیل دیں۔اس میں شفاف لابنگ قوانین، غیر جانبدار تحقیق کا تحفظ، اکیڈمک آزادی کا دفاع، اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کیخلاف نفرت انگیزی کے سدّباب شامل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ جنوبی ایشیائی اقلیتوں کے مسائل اور ان کی آواز کو مرکزی دھارے میں جگہ دی جائے تاکہ ہندوتوا کے یکطرفہ بیانیے کو توازن مل سکے۔امریکا میں ہندوتوا کا بڑھتا ہوا اثر صرف ایک نظریاتی درآمد نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاست کا ایک عالمی پہلو ہے۔ اس کے اثرات امریکی خارجہ پالیسی، سماجی ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق، اکیڈمیا اور جمہوری اقدار تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا اس ابھرتے ہوئے چیلنج کا بروقت ادراک کرے اور اپنے معاشرتی و سیاسی اصولوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کرے، تاکہ انتہاپسندی کے ہر رنگ کا راستہ روکا جا سکے— چاہے وہ داخلی ہو یا بیرونی۔

