28 مئی 1998 مئی پاکستان کے نظریاتی اور سرحدی دفاع کو یوں مضبوط کرگیا کہ اس کے بعد وطن عزیز کے دور اور نزدیک کے کسی بھی دشمن کے لیے قابل زکر نقصان پہنچانا ناممکن ہوکر رہ گیا ۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا سہرا جہاں سائسندانوں کے سر جاتا ہے وہی سیاست دانوں حتی اس ضمن میں عکسری قیادت کا کردار بھی ناقابل فراموش رہا ، درحقیقت قیام پاکستان کے آغاز سے ہی نئی مملکت کو بھارت ریاست سے شدید خطرات لاحق ہوگے ، یہ بات اب کسی طور راز نہیں رہی کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سمیت کانگریس کے سب ہی اہم رہنما اس ایک نقطہ پر متفق تھے کہ قائد اعظم اور ان کے رفقا کو آزاد ملک لینے دیں مگر درپیش چیلنجز کے مدنظر پاکستان جلد ہی بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا، دوآرا نہیں کہ قائد اعظم کی وفات کے فورا بعد ممملکت خداداد میں ایسی قدرآور سیاسی شخصیت نہ ابھر سکی جو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھ کرملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پالے ، یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں سیاست دانوں یا بیوروکریسی سے کہیں بڑھ کر پاکستانیوں کی اجتماعی دانش نے بھارتی عزائم خاک میں ملانے میں کلیدی کردارادا کیا ، تاریخی طور پر 1971 کے سانحہ نے بھی پاکستان کو گہرے زخم دئیے ،بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اس بیان کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جب بنگہ دیش کے قیام پر انھوں نے کہا کہ "آج ہم نے دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈوبا دیا ، یقینا مشرقی پاکستان کی علحیدیگی کی ایک سے زائد وجوہات ہوسکتی ہیں مگر اس مکروہ کھیل میں کلیدی کردار بھارت ہی کا تھا جو پاکستان پر کاری ضرب لگانے کیلئے بے چین و مضطرب تھا، زوالفقار علی بھٹو کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہ تھی بانی پی پی پی جان چکے تھے کہ پاکستان کی بقا وسلامتی اسی صورت یقینی بنائی جاسکتی ہے جب وہ ایٹی قوت کے طور پر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہو، تاریخ گواہ ہے کہ 28 مئی 1998 سے کہیں پہلے پاکستان ایٹمی قوت بن چکا تھا مگر ہماری سیاسی وعسکری قیادت مناسب وقت کا انتظار کرتی رہی جو بالا آخر بھارت کے ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو فراہم کردیا ، ستم ظریفی دیکھیں کہ زوالفقار علی بھٹو اپنے اقتدار کے خاتمہ اور پھر پھانسی تک اس بات پر یقین کرتے رہے کہ امریکہ اور اس کے ہم خیال ممالک اس لیے ان کے دشمن ہوگے کہ انھوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ، ہوسکتا ہے کہ ان کے دل وماغ میں یہ خیال بھی آیا ہو کہ ان کی موت کے بعد پاکستان کا ایٹمی پروگرام ختم کردیا جائے گا مگر باجوہ ایسا نہ ہو، مرحوم صدر ضیا الحق نے زیڈ اے بھٹو کے اقتدار کے بعد نہ صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھا بلکہ اس کی رفتار بھی تیز کردی ، ڈاکڑ عبد القدیر خان اور ان کے ساتھی سائنسدانوں کو مرحوم ضیا الحق نے ہر ممکن وسائل فراہم کیے ، اس تاریخی سچائی کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ روس کی جانب سے افغانستان پر حملہ نے پاکستان کو موقعہ فراہم کیا کہ وہ امریکہ سمیت مغربی ممالک کی خواہش کے برعکس اپنے ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھے ، ان دنوں ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ واشگنٹن جان چکا تھا کہ اسلام آباد ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھے ہوئے ہے مگر اپنے بڑے حریف روس کو شکست دینے کی دیرینہ خواہش نے اسے پاکستان پر دباو سے باز رکھا، اگر مگر کے باوجود اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ امریکہ کے مصالحتی رویہ کے باوجود پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اگر جراتمندی کا مظاہرہ نہ کرتی تو پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا خواب کسی طور شرمندہ تعبیر نہ ہوتا،اس ضمن میں اہم یہ بھی رہا کہ پاکستان کے ایٹمی تجربہ کے حوالے سے جس علاقہ کو منتخب کیا گیا وہ بلوچستان کا چاغی تھا، بلاشبہ یہ رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے لیے اعزاز ہے وہ علاقائی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کرگیا ، پاکستان کا ایٹمی قوت بن جانا دنیا کیلئے ہر لحاظ سے حیران کن کہلایا، بدقسمتی سے اس سے قبل اپنوں اور غیروں کی ” کرم فرمائیوں ” کی وجہ سے اقوام عالم میں پاکستان بارے تاثر یہ تھا کہ اس کے سائنسدانوں اور دیگر ہنرمندوں میں ایسی اہلیت یا صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کوئی غیر معمولی کارنامہ سرانجام دے سکیں ، وطن عزیز کا ایٹمی قوت بن جانا پاکستانیوں کی خود اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کرگیا ، عام پاکستانی کو یہ یقین ہوگیا کہ اگر ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو اور بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں، ہمارا ایٹمی قوت بننا مسلم دنیا کے لیے باعت افتخار بنا، دراصل مسلم ممالک میں پاکستان ہی سب سے پہلا ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست کہلایا ، اس لیے بعض بدخواہوں نے پاکستان کے ایٹم بم کو اسلامک بم قرار دیا ، اس ضمن میں بھارت کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ اکھنڈ بھارت کے حامیوں کو اب سوچ لینا چاہے کہ پاکستان کو صف ہستی سے مٹانا کسی طور آسان نہیں رہا، بادی النظر میں اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور کو بھی نئی دہلی کی اسی بدلی ہوئی پالیسی کے تناظر میں دیکھا گیا ، یقینا آج بھی پاکستان کو کئی مسائل درپیش ہیں مگر ہمارا ایٹمی قوت کی حامل قوم بننا وطن عزیز کے روشن اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کی مسلسل نوید سنا رہا ۔

