(گزشتہ سے پیوستہ)
اوس و خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے، جن سے ان کے مدت ہائے دراز کے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بعث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کو وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے۔ تاکہ ان کے درمیان ایک بار پھر تلوار چل جائے۔لین دین میں جس کے بقایا جات تھے۔جب وہ اسلام لائے تو کہتے تھے تم بددین ہو گئے ہو۔ لہٰذا تمہارے بقایا جات واپس نہیں کریں گے۔اس پر اب کوئی حق نہیں رہا۔اس کی متعدد مثالیں تفسیر طبری، تفسیرنیسا بورمیں موجود ہیں۔معاہدے کی خلاف کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی روز اختیار کر چکے تھے۔بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اُٹھاکہ” پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سردار مارے گئے تھے، ان کی نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اُکسایا۔ پھر مدینہ واپس آکر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفا کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہار عشق کیا گیا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ٣ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کر دیا( ابن سعد،ابن ہشام تاریخ طبری) یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماہی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑدیا بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلے میں آباد تھے اورچونکہ یہ سنار، لوہار، اور ظروف ساز تھے ، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مرادانِ جنگی ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے، اور خزرج کا سرادر عبداللہ بن اُبی ان کا پشتیبان تھا۔ ایک روز ان کے بازار میںایک مسلمان عورت کر برسرعام برہنہ کر دیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑاہوا، اور ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا۔رسولۖ اللہ ان کے محلے شریف لیے گئے اور ان جمع کر کے آپُ نے ان کو رائے راست پر آنے کی تلقین فرمائی۔ مگر انھوں نے جواب دیا” اے محمد ۖ تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انھیں مارلیا۔ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمھیںمعلوم ہو جائے گاکی مرد کیسے ہوتے ہیں” یہ گویہ صاف صاف اعلان جنگ تھا۔ آخر کار رسولۖ اللہ نے شوال٢ھ کے آخر میں ان کے محلے کا مھاصرہ کر لیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کے سارے قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپۖ انھیں معاف کر دیں۔ رسولۖاللہ نے اس کی درخواست قبول کی اور فیصلہ سنایا کہ بنی قیقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلاتِ صنعت چھوڑ کر مدینے سے نکل جائیں۔(ابن سعد ابن ہشام، تاریخ طبریٰ) کعب بن اشرف کے قتل اور بنی قینقاع کے اخراج کے بعد یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انھیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مگر جب اس کے بعد شوال ٣ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینے پر چڑھ آئے، اور ان یہودیوں نے دیکھا کی قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلے میں رسولۖاللہ کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں تو انھوں نے معاہدے کی پہل اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینے کی مدافعت میں آپۖساتھ شریک نہ ہوئے حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکہ اُحد میں مسلمانوں کو نقصانِ عظیم پہنچا تو ان کی جراتیں اور بڑھ گئیں، جہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ کو قتل کیلئے باقاعدہ ایک سازش کی، جو عین وقت پر ناکام بن دی گئی۔ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ برمعونہ کے سانحے صفر ٤ھ کے بعد عمرو بن عاص بن امیہ ضمری نے انتقامی کاروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا، جو در اصل ایک معاہد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلے کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون مسلمانوں واجب آ گیا تھا۔، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے، اس لیے رسولۖاللہ چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپۖ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندرہ سازش کی، کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپۖ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے، جس کی دیوار کے سایے میں آپۖ تشریف فرما تھے۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر ر عمل کرتے، اللہ تعالیٰ نے آپۖکو بر وقت خبردارکر دیا، اور آپۖ فوراً وہاں سے اُٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔اب یہودیوں کے ساتھ کسی بھی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیجا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی، وہ میرے علم میں آگئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندرمدینے سے نکل جائو۔اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھیرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی پایا جائے گا، اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ دو ہزار آدمیوں سے تمھاری مدد کروں گا، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئین گے، تم ڈٹ جائے اور ہر گز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔اس پر انھوں نے رسولۖاللہ کو جواب دیا ہم نہیں نکلیںگے، آپۖ سے جو ہو سکے کر لیجیے۔ اس پر ربیع الاول ٤ھ میں رسولۖ اللہ نے ان کا محاصرہ کر لیا اور صرف چند روز کے محاصرے کے بعد وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کیلئے راضی ہو گئے کہ اسلحے کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے ساتھ اُونٹوں پر لاد کر لے جا سکیں گے لے جائیں گے ۔ پھر یہ شام اور خیبر کی طرف چلے گئے۔اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینے کی سر زمیں خالی کرالی گئی۔ (…ختم شد)
کالم
یہودی اللہ سے لڑنے والے
- by web desk
- جنوری 30, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 34 Views
- 2 ہفتے ago

