بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 19 June 2026 | پاکستان: 4 محرم 1448

مندروں میں غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع

Friday, 30 January, 2026

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی مدراس ہائی کورٹ نے ریاست کے ہندو مذہبی اور اوقاف کے ادارے (ایچ آر اینڈ سی ای) کے محکمے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ تمام ہندو مندروں کے باہر ایسے بورڈ نصب کرے، جس پر یہ لکھا ہو کہ ”کسی بھی غیر ہندو کو ‘کوڈی مارم’ (یعنی احاطے میں جہاں پرچم کا ستون ہوتا ہے) سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔”مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کی جج ایس شریمتی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”مندر کوئی پکنک یا سیاحتی مقام نہیں ہے۔”حیران کن بات یہ ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا، جس میں صرف ایک مخصوص ‘ارولمیگو پلانی دھندیو تھپانی سوامی’ مندر کے لیے اس کی استدعا کی گئی تھی، تاہم عدالت نے ریاست کے تمام مندروں کے لیے یہ حکم صادر کر دیا۔عرضی گزار کا کہنا ہے تھا کہ مذکورہ مندر میں صرف ہندوؤں کے داخلے کی اجازت ہونی چاہیے، تاہم جج موصوفہ نے ریاست کے سبھی ہندو مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ سنایا ہے۔ جج شریمتی نے اپنے فیصلے میں ہندوؤں کے بنیادی حق پر زور دیا اور کہا کہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اپنے شدت پسند ہندو توا ایجنڈے کو عملی شکل دیتے ہوئے اتراکھنڈ میں غیر ہندو شہریوں کو بڑے ہندو مندروں میں داخلے سے روکنے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں بدرناتھ، کیدارناتھ اور گنگوتری جیسے اہم مذہبی مقامات شامل ہیں۔ یہ اقدام بھارت میں مذہبی امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ بدرناتھ کیدارناتھ ٹیمپل کمیٹی کے حکام نے بتایا کہ غیر ہندوؤں کو مندروں میں داخلے سے روکنے کی یہ تجویز اس ہفتے کے آخر تک رسمی طور پر منظور ہونے کا امکان ہے۔ مندروں کی کمیٹیوں اور بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی حمایت کے ساتھ یہ اقدام حکمران جماعت کے ہندو توا ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔بدرناتھ کیدارناتھ ٹیمپل کمیٹی کے چیئرمین ہیمانت دویویدی نے کہا کہ اس معاملے پر سنتوں، پجاریوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے اور اس پابندی کو مذہبی روایت اور آئینی شقوں کی مخصوص تشریح سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کی بورڈ میٹنگ میں منظوری کے بعد یہ قاعدہ نافذ العمل ہو جائے گا۔ادھر گنگوتری ٹیمپل کمیٹی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ گنگوتری دھام میں غیر ہندو شہریوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا، جبکہ ہریدوار میں مذہبی تنظیموں نے بڑے گنگا گھاٹ کو بھی ”غیر ہندو ممنوع علاقہ” قرار دینے کی درخواستیں دی ہیں، خاص طور پر آنے والے کمبھ میلے کے پیشِ نظر۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کھلے طور پر مذہبی امتیاز کو ریاستی سطح پر جائز قرار دیتے ہیں اور بھارت کے سیکولر ہونے کے دعووں کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر پابندیوں کو معمول بنانے سے ملک میں اقلیتیں مزید پسماندہ ہوں گی اور شدت پسند عناصر کو پورے بھارت میں بے خوف کارروائی کرنے کی ہمت ملے گی۔اس پیش رفت پر بھارت کی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فرقہ وارانہ تقسیم کا استعمال کر کے حکمرانی کی ناکامیوں اور عوامی مشکلات سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ ہریش راوت نے کہا کہ ایسے پابندیوں کے بار بار اعلان کا مقصد عوام کو الجھانا اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔کچھ دنوں پہلے ہی ہریدوار واقع مشہور گنگا گھاٹ ‘ہر کی پوڑی’ پر غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع کرنے والا بورڈ سرخیوں میں تھا۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ بدری ناتھ اور کیدار ناتھ دھام کے علاوہ بدری ناتھ کیدار ناتھ مندر سمیتی کے ماتحت آنے والے سبھی مندروں میں غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ بی کے ٹی سی کی طرف سے آئندہ بورڈ میٹنگ میں اس تعلق سے تجویز پاس کیا جائے گا۔ اْتراکھنڈ کی مذہبی و ثقافتی روایات کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ کیدار کھنڈ سے لے کر مانس کھنڈ تک قائم مندروں کے سلسلہ میں روایتی طور سے غیر ہندووں کا داخلہ ممنوع رہا ہے، لیکن غیر بی جے پی حکومتوں کے وقت روایات کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔ روایات پر صحیح طریقے سے عمل کویقینی بنایا جا سکے، اس کیلئے سخت اقدام کیے جائیں گے۔بی کے ٹی سی چیف نے ریاست میں مزاروں کے خلاف ہو رہی کارروائی پر بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر ریاست بھر میں ناجائز مزاروں کو ہٹانے کی کارروائی قابل قدر ہے۔ یہ قدم اْتراکھنڈ کے مذہبی وقار، ثقافتی وراثت اور نظامِ قانون کو مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہوا ہے۔بی کے ٹی سی چیف نے ریاست میں مزاروں کے خلاف ہو رہی کارروائی پر بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر ریاست بھر میں ناجائز مزاروں کو ہٹانے کی کارروائی قابل قدر ہے۔ یہ قدم اتراکھنڈ کے مذہبی وقار، ثقافتی وراثت اور نظامِ قانون کو مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہوا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اور مندر سمیتی کے کوارڈنیشن سے اتراکھنڈ کی پاکیزگی اور روایات کی حفاظت مزید بہتر ڈھنگ سے کی جا سکے گی۔ اس کیلئے مندر سمیتی بااثر قدم اٹھانے کیلئے سوچ رہی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *