لیجئے صاحب اس صدی کا ایک اور برس ہماری زندگی کا ایک اورسال گھٹا کر ماضی کا قصہ بن گیا ۔وقت کی گھڑیاں ایک جیسی نہیں رہتیں ،گردش ایام جاری رہتی ہے ۔کہتے ہیں کہ ہندسہ بدلتے ہی نئے سال کا آغاز ہو جاتا ہے لیکن نئے سال کا مطلب محض ہندسے کی تبدیلی سے نہیں بلکہ حالات کی تبدیلی سے عبارت ہونا چاہیے ۔اگر کسی قوم کی تقویم تو بدلتی رہے اور حالات نہ بدلیں تو اس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اسے اس کے حکمرانوں نے حیات اجتماعی کی دولت گرانمایہ سے محرومیت دھان کر دی ہے ۔تقویم کے تصور کے ساتھ ساتھ تقدیر کا تبدل بھی لازم ہے ۔ جمود گزیدہ اور انحطاط زدہ معاشروں میں کیلنڈر پر ہندسے تو خاموشی سے بدلتے رہتے ہیں لیکن گردوپیش حالات ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔لیل و نہار کے پیہم تغیر کے باوجود منظر نامہ ایک ہی نقطے پر ساکن و ساکت اور منجمد ہو کر رہ جاتا ہے ۔نئے سال کی شروعات ہے ۔سال نو کے موقع پر سال گزشتہ کے ایام پارینہ کا تذکرہ محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ ہم آئندہ را احتیاط کے مصداق ماضی کی غلطیوں ،کوتاہیوں اور لغزشوں سے اجتناب اور گریز برتنا چاہتے ہیں ۔اس سال میں وہ کیا ہو گا جو پار سال ہوا نہیں تھا ۔معزز قارئین فرق ماہ و سال نہیں ڈالتے فرق طرز احساس اور انداز عمل سے بنتا ہے ۔معزز قارئین سال رفتہ ایک مشکل سال تھا ۔مہنگائی نے قوت خرید کو متاثر کیا ۔یوٹیلٹی بلز خوف کی علامت بنے رہے ،گھریلو بجٹ سکڑ گیا ،متوسط طبقہ مسلسل دبائو کا شکار رہا ،عام آدمی کی آمدن اور اخرجات کے درمیان فرق بڑھتا گیا ۔بیروز گاری ،صحت اور تعلیم جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ۔ اس وقت ہم بیروز گاری میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے جا رہے ہیں ۔خواندگی کی شرح میں بھی ہم پست ہیں ۔آئندہ دس سالوں میں پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے بڑھ کر تیس کروڑ ہونے جا رہی ہے جس تیزی سے آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے اس لحاظ سے ہم دنیا کے پانچویں نمبر پر آ رہے ہیں ۔قدرتی آفات اور مختلف حادثات نے قیمتی جانیں لیں ۔کئی خاندان اجڑ گئے اور کئی خاندان معاشی دبائو کے بوجھ تلے دب گئے ۔دفاعی اعتبار سے 2025ء عسکری اعتماد کی بحالی کا سال رہا ۔ پاکستان کو اپنے ازلی دشمن بھارت کا جواب دیتے ہوئے مسرت و کامیابی ملی ۔دنیا نے ہماری دفاعی برتری کو تسلیم کیا ۔اس چار روزہ جنگ کے اثرات محض جنوبی ایشیا تک محدود نہ رہے بلکہ عالمی طاقتوں ،دفاعی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا میں بھی پاکستان کے بارے میں رائے یکسر تبدیل ہو گئی ۔عالمی دفاعی ماہرین نے اس امر کو خاص طور پر سراہا کہ پاکستان نے کشیدگی کو دانستہ طور پر کنٹرول میں رکھا ۔چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی ۔ پاکستان نے اپنے دفاعی سازوسامان کیلئے عالمی دفاعی منڈی کی توجہ بھی حاصل کی ۔ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،امریکہ اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کیلئے مثبت فضا قائم ہوئی ۔ امریکہ ،سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، ترکیہ ،ایران ،آذر بائیجان ،لیبیا،اور بنگلہ دیش سمیت کئی دیگر ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک شعبوں میں شراکت داری بڑھی جس نے ملک کیلئے نئے مواقع پیدا کئے ۔2025ء پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کیلئے بہتر رہا ۔ ڈھاکہ میں عوامی انقلاب اور نئی قیادت آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط سرد مہری کا خاتمہ ہوا ،براہ راست بحری سروس کا آغاز ہوا اور ویزہ پالیسی میں نرمی نے دونوں برادر اسلامی ممالک کو دوبارہ قریب کر دیا ۔بنگلہ دیش نے بھارت کے تسلط سے نکل کر پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھائے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کیلئے مختلف سفارتی اقدامات کئے ۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان نے ہمیشہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کی بات کی ہے اس کے علاوہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں اپنے کردار کو اہمیت دی ہے اور دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے شکار ملک کی حیثیت سے دکھائی دیتا ہے بلکہ اس نے اپنے یہاں امن قائم کرنے کی خاطر دنیا بھر میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے ۔2025ء غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور یو کرین جنگ کے شعلوں کے علاوہ غریب ممالک کیلئے بطور خاص یہ پیغام دیتا ہوا رخصت ہوا کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ۔2025ء میں اقوام عالم کا مثبت رویہ بھی منظر عام پر آیا کہ اگر ایک طرف اسرائیل اپنے جنگی جہازوں اور ٹینکوں سے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرتے ہوئے لاشوں کے انبار لگا رہا تھا اور امریکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو کر رہا تھا تو دوسری جانب ضمیر عالم غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے یورپ ،امریکہ ،آسڑیلیا ،ایشیا اور افریقہ میں غاصب ظالم اسرائیل کے خلاف مسلسل صدائے احتجاج بلند کرتا رہا ۔ 2025ء وہ سال تھا جس میں عالمی نظام نے با ضابطہ طور پر یہ اعتراف کر لیا کہ وہ انصاف نہیں ،طاقت کے اصول پر چلتا ہے ۔اقوام متحدہ کے وہ ادارے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وعدے پر قائم کئے گئے تھے کہ دنیا دوبارہ اس اندھیرے میں نہیں جائیگی ، 2025ء میں اپنی ناکامی کی علامت بن کر رہ گئے ۔قراردادیں پاس ہوئیں ،مگر عمل نہ ہوا ، قانون موجود تھا مگر صرف کمزوروں کیلئے ۔یہ سال اس بات کو بھی عیاں کر گیا کہ عالمی انصاف اب انصاف کے تصور سے دستبردار ہو چکا ہے ۔عالمی منظر نامہ پر کئی محاذوں پر یوں لگا کہ تیسری عالمی جنگ کا کسی وقت بھی آغاز ہوا چاہتا ہے ۔2025ء میں چھوٹی اقوام بڑی ریاستوں کے ظلم اور خوف کے زیر اثر رہیں ۔ سال رفتہ میں پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کی سربراہی ملی۔چین کے ساتھ آہنی دوستی مزید گہری اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مثالی پیش رفت ہوئی ۔پاکستان میں27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کا نیا میکنزم وجود میں آیا ۔2025ء سزائوں کا سال بھی رہا ۔جنرل (ر) فیض حمید کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی گئی ۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کو اہلیہ سمیت پی ٹی آئی رہنمائوں کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں ۔افغانستان کے ساتھ حالات کشیدہ ہوئے ۔دہشت گردی پر پاکستان نے ٹھوس موقف اپنایا ۔افغانستان کے ساتھ تلخیاں بڑھیں اور نوبت جنگی کیفیت تک جا پہنچی ۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی ،سرحدیں سیل کر دی گئیں اور تجارت منقطع ہو گئی ۔افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کا کامیاب آپریشن کیا گیا ۔سال رفتہ میں سولہ سو کے قریب دہشت گردی کے واقعات ہوئے ۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان دہشت گردی کی زد میں رہے ۔پنجاب میں ایک مذہبی جماعت کیخلاف بھرپور ایکشن ہوا ۔پنجاب میں پولیس کی بالا دستی کا راج رہا ۔بیرون ملک ہجرت کرنیوالوں کی تعداد بڑھی ۔ پاکستانیوں نے بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کا بھی ریکارڈ قائم ہوا ۔ایف آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق 52ہزار پاکستانی مختلف ملکوں میں بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ ہوئے ۔معزز قارئین ہمیں اندرونی اور بیرونی مختلف چیلنجز درپیش ہیں جس کیلئے ایک پر عزم اور حکمت سے بھرپور حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج داخلی سطح پر اقتصادی ترقی اور سماجی اسحکام کی طرف قدم بڑھانا ہے ،معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو برقرار رکھنا ہے ۔ایک مضبوط سیاسی نظام کے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے ،بے وقت بارشیں ،خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی ہمارے مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے ۔سال گزشتہ جیسا تیسا گزر گیا اب سال نو کی امیدوں کا تذکرہ ہے ۔امید بڑا سنہری لفظ ہے ۔اسی امید پر دنیا قائم ہے ۔امید ہیں جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے ۔ان معروضی حلات میں یہی کہا جا سکتا ہے ۔
جو سال گزرا مداوا نہ تھا کسی غم کا
یہ سال نو ہے اسے آزمائیں گے ہم لوگ
کالم
2025 ء کا منظر نامہ
- by web desk
- جنوری 13, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 51 Views
- 5 مہینے ago

