وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کو 26/27 آئینی ترمیم کے بعد بعض وکلا انکی حمایت کرتے ہیں اور بعض وکلا ان کی مخالفت ۔وہ وکلا جو ان کی حمایت کرتے ہیں یہ وہ وکلا ہیں جو انہیں بار کا نمائندہ سمجھتے ہیں کہ یہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں بار کونسلزعدالتی ماحول اور وکلا کے مسائل کواچھی طرح جانتے ہیں ۔ ان وکلا کو یہی لگتا ہے کہ یہ وزیر ہمیں سمجھتا ہے، ہم پر حکم نہیں چلاتا یہ عدلیہ کے خلاف جارحانہ زبان استعمال نہیں کرتے جیسا کہ دوسرے ادوار میں وزرائے قانون نے ججز پر کھلی تنقیدکی جبکہ اعظم نذیر تارڑ آئینی دلائل دیتے ہیں ذاتی حملوں سے گریز کرتے ہیں وکلا برادری کا بڑا حصہ عدلیہ کے وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتا ۔بعض حساس مواقع پر وکلا کے خلاف کریک ڈان کی حمایت نہیں کرتے،مذاکرات، کمیٹیوں اور آئینی فورمز کی بات کرتے ہیں اس لیے بار ایسوسی ایشنز نے اسے مثبت لیا۔ یہ آئینی زبان اور طریقہ کار کا احترام کرتے ہیں آرڈیننس کے بجائے پارلیمانی قانون سازی پر زور دیتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو سیاسی نعرہ بنانے سے یہ اجتناب کرتے ہیں ۔اس لئے وکلا کا ایک بڑا حصہ انہیں پسند کرتا ہے کچھ وکلا ان کی مخالفت اس لییکرتے ہیں وہ شائد عدالتی اختیارات میں کمی کا تاثر سمجھتیہیں بعض مجوزہ اصلاحات سے یہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کا دائرہ محدودکیا جا رہا ہے لہذا نوجوان اورایکٹیوسٹ وکلا نے ان اقدام کو قبول نہیں کیا اور مخالفیت کی۔مخصوص ججز سے متعلق قوانین/ ترامیم ، قوانین بنائے تو انہیں کسی خاص عدالتی صورتحال یا جج سے لڑتے دکھائی دیئے۔ لہذا وکلا برادری نے کہا یہ اصولی اصلاح نہیں، وقتی انتظام لگتا ہے پھر کسی نے کہاانہوں نے بار سے باضابطہ مشاورت کی مگر کم کی۔ کچھ مواقع پر آل پاکستان بار کونسل یا صوبائی بار کونسلز کو مسودے پر پوری طرح شامل نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔بطور وزیر وہ حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکومت مخالف وکلا نے فطری طور پر ایسا کرنے پر انکی مخالفت کی۔ توازن کی بات یہ ہے کہ جن وکلا نے حمایت کی، وہ زیادہ تر سینئر آئینی پریکٹس پر یقین رکھنے والے وکلا ہیں اور جنہوں نے مخالفت کی، وہ زیادہ تر ایکٹیوسٹ سیاسی مزاحمتی سوچ کے حامل وکلا ہیں۔ یہ تقسیم وکلا کے اندرونی نظریاتی فرق کی عکاسی کرتی ہے ، نہ کہ صرف اعظم نذیر تارڑکی شخصیت کا ردعمل ہے۔ مختصر یہ کہ وکلا نے اعظم نذیر تارڑ کی حمایت ان کی آئینی شائستگی اور بار فہم سوچ پر کی اور مخالفت اس خدشے پر کہ کہیں اصلاحات کے نام پر عدلیہ کمزور نہ ہو جائے۔ عدلیہ اور وکلا کے حوالے سے اعظم نذیر تارڑ کا کردار عملی اور دیرپا نوعیت کا رہا ہے مگر یہ کردار نعروں یا محاذ آرائی کے بجائے آئینی زبان کے ذریعے ادا کیا۔اعظم نذیر تارڑ ان چند وزرائے قانون میں سے ایک ہیں جنہوں نے عدلیہ پر براہِ راست حملہ آور زبان استعمال نہیں کی یہ مقف اپنایا کہعدلیہ آزاد ہے، مگر آئین کے اندر عملی مثال ججز کی تقرری، اختیارات اور عدالتی اصلاحات میں یہ رویہ وکلا برادری میں بھی نسبتا قابلِ قبول رہا اعظم نذیر تارڑ نیفکسڈ ٹائم ٹرائل عدالتی ڈسپلن اور ضابطہ اخلاق جیسے معاملات پر مقف رکھا کہ مسئلہ جج نہیں مسئلہ نظام ہے۔ اس لیے اصلاحات آئین کے اندر رہ کر ہوں کی کہ کسی جج کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ یہ سوچ ایک وکیل ذہن ہی رکھ سکتا تھا وہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں بار اور بنچ دونوں کواچھے طریقے سے جانتے ہیں اس لیے وکلا کے لیے بار کونسلز کے آئینی کردار کادفاع قانونی مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ شدید سیاسی ماحول میں بھی وکلا برادری ان کے خلاف متحد نہیں ہوئی اور وہ ایک بار پھر ممبر بار کونسل سب سے زیادہ ووٹوں سے بنے ہیں ۔اس کا کریڈٹ وکلا لیڈر سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون صاحب کو جاتا ہے۔ججز اور وکلا کے لیے سب سے اہم بات تارڑ صاحب کی ان کی آئینی زبان ہے ۔اعظم نذیر تارڑ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ: آئینی شقیں اس طرح ڈرافٹ کراتے رہے کہ جج کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں اور وکیل کے لیے بھی قابلِ دفاع ہوں عام آدمی کو سادہ مگرعدالت میں فیصلہ کن ہوتے ہیں یہی وہ جگہ ہے جہاں ان کا کردار خاموش مگر طاقتور بن جاتا ہے۔وکلا اور ججز کے درمیان آئینی پل بنتے ہیں مگر وہ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے قائل نہیں رہے جوڈیشری اور وکلا کے حوالے سے اعظم نذیر تارڑ اصل رول ججز کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق شقوں کی آئینی زبان تیار کرنا تھا پارلیمنٹ میں یہ مقف دینا کہ ترمیم اصلاح ہے، کنٹرول نہیں ان کی یہ دلیل دینا سب کو پسند اء کہ آئین میں ترمیم خود آئینی حق ہے، اسے عدالتی حکم سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ کے اختیار کو آئینی بنیاد پر دفاع کرنا اور پھر اپوزیشن کے قانونی خدشات کا جواب دینا، نہ کہ سیاسی نعرے یہ کردار صرف ایک تجربہ کار آئینی وکیل ہی ادا کر سکتا تھاجو انہوں نے کیا۔ ٹیکنیکل ڈرافٹنگ سب سے اہم تھی مگر کم نظر آنے والا کردار یہ وہ جگہ تھی جہاں اصل کھیل ہوتا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے ایسی شقیں تیار کیں جو بظاہر سادہ مگر عدالت میں sustainable تھیں۔اس کا کریڈٹ لا سیکٹری راجہ صاحب اوران کی ٹیم کو بھی جاتا ہے جنھوں نے مبہم الفاظ سے گریز کیا تاکہ بعد میں عدالتی تشریح کے ذریعے قانون بے اثر نہ ہو۔پھر بھیسارا کریڈٹ تارڑ صاحب کو کیوں نہیں دیا جا سکتا ؟ اس لیے کہ اگر اتحادی جماعتیں ووٹ نہ دیتیں تو ترمیم ناممکن تھی اگر سینیٹ ساتھ نہ دیتی تو ترمیم ختم ہو جاتی اگر سیاسی فیصلہ نہ ہوتا تو وزیرِ قانون کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں وزیرِ قانون ترمیم، کے انجن اور گاڑی پارلیمنٹ تھی ۔یہ بھی سچ ہے کہ اعظم نذیر تارڑ ذاتی تشہیر سے گریز کرتے ہیں آئینی بحث میں جذبات نہیں، دلائل سیکام لیتے ہیں مگر وہ اکیلے آئین کو نہیں بدل سکتے تھے نہ ہی آئینی ترمیم ان کی ذاتی فتح ہے اعظم نذیر تارڑ کو آئینی ترمیم کا چیف لیگل آرکیٹیکٹ کہنا درست ہوگا آئینی ترمیم کا کریڈٹ کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک اجتماعی آئینی و سیاسی عمل کو جاتا ہے، تاہم وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کردار مرکزی، تکنیکی اور فیصلہ کن ضرور رہا۔ ترمیم کا آئینی طریقہ کارحکومت اکیلے نہیں کر سکتی اس کیلیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہوتا ہے اس لیے آئینی طور پر کریڈٹ اداروں کو جاتا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ چونکہ سینئر آئینی وکلا میں شمار ہوتے ہیں وزیرِ قانون ہیں اس لیے ان کا کردار آئینی ترامیم کا قانونی ، تکنیکی مسودہ تیار کرنا الفاظ ایسے رکھنا کہ عدالت میں چیلنج کم سے کم ہو۔ پھر پارلیمنٹ میں ارکان کو آئینی نکات سمجھانا قانونی اعتراضات کا جواب دینا اپوزیشن اور اتحادیوں سے قانونی سطح پر مذاکرات کرنا مشکل کام تھا جو انہوں نے کر دکھایا ۔ اس بنا ہر سارا کریڈٹ کیا اعظم نذیر تارڑ کو جاتا ہے۔کریڈٹ کی تقسیم اگر کی جائے تو کچھ یوں بنتی ہے:فریق کردار وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف ان کی کابینہ سیاسی فیصلہ اتحادی جماعتیں دو تہائی اکثریت پارلیمنٹ آئینی منظوری وزیرِ قانون قانونی ڈیزائن اور دفاع اعظم نذیر تارڑ بطور معمار تھے مگر عمارت پوری پارلیمنٹ نے کھڑی کی ۔ پھر عوام میں تاثر کیوں بنتا ہے کہ ترمیم وزیرِ قانون نے کی؟ وہ اس لیے کہ وزیرِ قانون ہی میڈیا میں مسودہ پیش کرتا ہے وہی عدالتوں میں دفاع کرتا ہے وہی آئینی زبان سمجھتا ہے اس لیے چہرہ ایک ہوتا ہے، مگر طاقت اجتماعی ہوتی ہے۔ایک اہم آئینی نکتہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں کسی ایک شخص کو مکمل کریڈٹ دینا یا مکمل الزام ڈالنا دونوں آئینی حقیقت کے خلاف سمجھتا ہوں۔ اعظم نذیر تارڑ آئینی ترمیم کے مرکزی قانونی دماغ ضرور تھے مگر یہ ترمیم ان کی ذاتی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی آئینی کارروائی تھی ۔

