قدرت نے مسلمان ہونے کے ناطے کیا خوبصورت ملک ہمیں عطا کر رکھا ہے یہاں دریا ہیں سمندر ہے، پہاڑ ہیں صحرا ہے۔ دنیا کے چار موسم ہیں۔پھر ہر قسم کا پھل فروٹ اور مختلف سبزیاں کھانے کو دے رکھی ہیں۔ ہر قسم کا جانور یہاں پایا جاتا ہے۔ قدرت نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی جو نہ ہمیں عطا کی ہو۔ پھر بھی ہم نا شکر ہیں۔ وہ ذات کہتی ہے مجھ سے اگر پیار کرنا ہے تو میرے بندوں سے پیار زندگی گزارنی ہو تو قران و سنت کے مطابق گزار پھر بھی ہم اپنے کرتوتوں سے اس پاک سرزمین اور دنیا کو جہنم بنانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اس ملک کا خوبصورت دارالخلافہ اسلام آباد ہے۔جسے حکومت نے خود یہاں کے شہریوں کے لئے سڑکوں پر گھروں جیسے گیٹ لگا کر تا لے لگا رکھے ہیں۔ جب کہ اس کی سیکورٹی ماڈرن طریقے سے کی جانی چاہئے تھی مگر سیکورٹی کا ایک ہی حل ان کے پاس ہے کہ ریڈ زون کے تمام راستے بند کر دو۔ کسی نے جلوس کا اعلان کیا ہو یا کرکٹ ٹیم نے آنا ہو اس شہر کے تمام راستوں کے دروازے اور بس سروس بند کر دی جاتی ہے کوئی پیشگی اعلان نہیں کرتے کہ شہری کن راستوں سے سپریم کورٹ، آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ اور سرکاری دفاتر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ حکمرانوں کو لگتا ہے کرکٹ ٹیم ان عدالتوں سے سرکاری۔اداروں سے زیادہ اہم ہے ۔ عدلیہ جیسے اہم ادارے اب صرف سوموار، منگل، بدھ اور جمعرات تک کام سر انجام دینے کو کہتے ہیں تانکہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر کم ہو۔مگر یہ اس شہر کے راستے بند کرکے پٹرول کا خرچ اور وقت ضائع کراتے ہیں۔اسی ایریا میں ملک کے سب سے اہم ادارے اور غیر ملکی ایمبیسی بھی موجود ہیں۔ اپنا نہیں تو ان کا ہی خیال کرو۔ یہ کیا کہتے ہونگے کہ کرکٹ کی وجہ اسلام آباد اور راولپنڈی شہر کے راستوں کو بند کر کے سیکورٹی کے انتظامات کرتے ہیں ۔ عدالتوں میں داخلی دروازوں پر لوہے کے گیٹوں پر تالے لگا کر بند کر دیئے دیتے ہیں۔ کرکٹ ٹیم کو جس ہوٹل میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسکے اردگرد پر سیکورٹی سخت کر دیں کیمرے لگا دیں تو ان کی سیکورٹی بہتر کی جا سکتی ہے۔ سڑکوں کو کھلا رکھا جا سکتا ہے مگر ایسا نہیں کرتے۔ کرکٹ کے نام پر عوام کو مشکلات سے دو چار کرتے ہیں ۔سرینہ کے راستے بند ہائی کورٹ کے راستے بند ، نادرا کے گیڈ پر تالا، سپریم کورٹ بار کے ہوسٹل کا راستہ بند، ایمبیسی روڈ بند صرف میریٹ ہوٹل اور مارگلہ کے راستے سے آئنی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سرکاری آفس جانے کیلئے لمبی قطاریں۔ جو ان راستوں کو بند کرنے کا حکم دیتا ہے اسے تو عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے پر سپیشل ایوارڈ سے نوازنا چاہئے ۔ سیکورٹی اور چیکنگ کریں ناکے لگائیں ہر جگہ پانچ چھ سپاہی کھڑے کر کے راستوں سے گزرنے کا بندوبست کریں۔ لیکن ان کا کام توعوام کو پریشان کرنا دکھائی دیتا ہے۔ کرکٹ تو گیم نہیں ہے یہ انٹرٹیمننٹ ہے۔ موجودہ حالات میں سکھ کا سانس لینا مشکل ہے ۔کیا مجال کے عوام کرکٹ میچ دیکھنے جائیں۔ بیچارے عوام کو یہاں دو وقت کی روٹی کھانے کو میسر نہیں،انہیں سستا پٹرول چاہئے کرکٹ نہیں ۔ یہ شہروں میں سیکورٹی کے خطرے کی وجہ سے غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کو یہاں نہ لایا کریں۔ عوام کو ایسی کرکٹ نہیں چاہیے جس سے عوام مشکلات کا شکار ہوں۔ عدالتیں سو موٹو نہیں لے سکتیں۔ لہذا ہم لکھ کر حکمرانوں سے گزارش کر رہے ہیں پہلے ہی تیل بکھرا پڑا ہے بس تیلی جلانے کی دیر ہے۔لہذا احتیاط اور ہوش کے ناخن لیں۔ راستے کھولیں، بے شک رینجرز کی مدد سے سیکورٹی کی زمہ داریاں سنبھال لیں۔ عوام پہلے ہی کنفیوز ہیں کہ جنت میں بھی جانا ہے اور زندہ بھی رہنا ہے لہذا کیا دھندہ کیا جائے کہ زندگی آسانی سے گزرے ۔عوام پیسہ بنانے کے چکر میں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ دودھ میں پہلے پانی ڈالا کرتے تھے۔ پھر مہنگائی زیادہ ہوئی تو بھینسوں کو دودھ زیادہ دینے کے ٹیکے لگوانے شروع کئے پھر اس سے بھی گزارا نہ ہوا تو کیمیکل ملا دودھ بنا کر بیچنا شروع کر دیا۔ اب تو اشیا میں ملاوٹ اتنی عام ہو چکی ہے کہ خود کشی کرنے والوں کو خالص زہر بھی کھانے کو نہیں ملتا۔ اسی طرح مریضوں کو خالص ادوایات نہیں مل رہی۔ تربوز میں ٹیکے لگاتے ہیں۔ سیبوں پر رنگ کئے جاتے ہیں۔جعلی انڈے بنائے جاتے مردہ گوشت کھلائے جاتے ہیں۔ کرتوتوت سارے جہنمی اور خواہش رکھتے ہیں جنت میں جانے کی۔ حکمران چاہتے ہیں کہ 26,27 ترمیم کی شاندار کامیابی کے بعد اب 28ویں ترمیم بھی لائی جائے۔ مگر اس بار عوام کا بھی خیال رکھتے ہوئے 28 ترمیم لے آئیں۔کچھ شعبے ایسے ہیں جن کی طرف توجہ دینا نہایت ضروری ہے،جیسے تعلیم ہیلتھ انصاف اور مذہبی ادارے۔ ترمیم سے تعلیم کے معیار کو بہتر اور سستا بنایا جائے۔ پرائیوٹ سکولوں کی طرز پر تمام سرکاری سکولوں کا نظام بدلا جائے۔ اسکے ساتھ پانچویں کلاس سے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے۔ تاکہ سمجھ سکیں کہ قران کیا کہتا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔مذہبی شعبہ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کوئی مساجد سرکار کی اجازت کے بغیر نہ بنا سکے۔ اب ہر دو قدم پر مساجد وہ بھی جامعہ مسجد۔ پیڈ پیش امام کی ضرورت نہیں ۔ مساجد کی مقامی نمازیوں کی کمیٹی بنا کر نماز، نکاح، نماز جنازہ پڑھایا کریں۔ پیڈ مولویوں کی ضرورت نہیں جیسے آجکل برطانیہ میں مسلم کمیونٹی نے اپنا نظام بغیر مولوی حضرات کے چلا رہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کا معیار بہتر کیا جائے۔جہاں ہر شہری کیلئے علاج مفت ہو۔ ایسے کاموں کیلئے ترمیم لاتے ہیں تو لائیں عوام ویلکم کرے گی ہمارا نظام کنفوز لگتا ہے۔سیاست میں حکمران آتے نہیں لائے جاتے ہیں۔ کرپشن کے راستے کھولے جاتے ہیں یہاں ترمیم آتی نہیں لا جاتی ہے اگر اس ملک کی عوام کی بہتری کی خاطر 28 ویں ترمیم لانا چاہتے ہیں تو ملک میں ملاوٹ کرنے والوں ،زمینوں پر قبضہ کرنے والی مافیا اور سرکاری تنخواہیں لینے والے رشوت خوروں کو سرعام پھانسی کی سزا کا قانون بنائیں ہر کیس کا فیصلہ جلد کرنے کا قانون بنائیں۔ سب سے زیادہ تنخواہیں اور مراحات لوئر جوڈیشری کو دیں، پھر اس سے کم ہائی کورٹ کے ججز کو پھر سپریم کورٹ اور آئنی عدالت کے ججز کو سب سے کم تنخواہیں دیں۔کیونکہ سب سے مشکل کام لوئیر جوڈیشری کے ججز کرتے ہیں اور سب سے کم تنخواہیں اور مراحات کچھ نہیں یہ رکھتے ۔ یہ ججز کیسوں کی بنیاد بناتے ہیں یہ کام ہر جج اکیلے کرتا ہے فیصلے لکھتا ہے۔ جو ججز کرپشن میں پکڑنے جاتے ہیں ان سے تمام عرصے کی مراحات اور تنخواہیں واپس لی جائیں، انہیں جیل میں ڈالیں اکثر ایسے جج پکڑے جانے کے ڈر سے فیصلہ آنے سے پہلے ججی چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں تاکہ باقی زندگی پنشن اور مراحات کھاتے رہیں۔ اس پر بھی 28ویں ترمیم لائی جائیں تاکہ سزائیں ایسی ہوں کہ دوسرے ان سے سبق سکیں۔جب تک قانون سخت نہیں ہو گا گند پھیلتا رہے گا۔ لہذا ان کا گھیرا تنگ کرنا ضروری ہے ڈن پر کیس کرنے والوں کا سلسلہ ختم کریں اگر ثابت ہو جائے کہ اس جج نے قانونی نہیں نوکری بچانے کے لئے فیصلے لکھے تھے تو ایسے جج کو قبر سے نکال کر سزا دی جائے۔ ان کی تصویریں لٹکائیں نہیں اتار کر پھینک دی جائیں۔ ایسا کرنے سے ججز فیصلے آئین اور قانون کے مطابق لکھا کریں گے۔ 28 ویں ترمیم لائی جائے۔جو قرضے آئی ایم ایف سے لیتے ہیں ان کا حساب عوام کو بھی دیا جائے ۔عوام کو بھی بتایا جائے کہ یہ قرضہ عوام کے کن کاموں میں لگایا گیا تھا اور اب کن کاموں میں لگایا جائیگا۔ اشیا پر لیوی لگا کر مہنگائی کرنا بند کریں ۔ بھینس کے گوبر پر ٹیکس لگانے سے بہتر ہے ملک میں انڈسٹری لگانے پر توجہ دی جائے۔ تعلیم اور انصاف کو سستا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، تاکہ عام بچے بھی تعلیم حاصل کر سکے عام شہری بھی عدالتوں میں آسانی سے جا سکے سستا انصاف لے سکے ۔ اس سے کم کی لا ء گئی ترمیم قوم کو منظور نہیں ہو گی۔

