کالم

بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور علاقائی امن

بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور علاقائی امن

تحریر ! رانا ظفر اقبال
چند دن قبل بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستانی شہریوں کے قتل کے حوالے سے پالیسی ہے کہ پاکستان میں بھارت ہراس پاکستانی کو قتل کرے گا جو ہمارے ملک میں کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کرے گا۔ بھارتی وزیر دفاع نے سر عام اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان کے اندر متعدد افراد کے قتل میں ملوث ہے۔بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مزید پاکستانی شہریوں کے دہشت گرد قرار دے کر نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ واضح اعتراف جرم ہے، عالمی برادری ایسے گھناونے اور غیر قانونی اقدامات پر بھارت کا محاسبہ کرے۔ اتنا بڑا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں اس بات کادھیان رکھنا چاہئی ےکہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، فروری 2019میں بھی بھارت کو جارحیت پر سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا جس نے بھارت کے فوجی برتری کے کھوکھلے دعوں کو بے نقاب کردیا تھا۔
انتخابات
میں سیاسی فائدے کے لیے بھارتی حکمران نفرت انگیز بیان بازی کا سہارا لے رہے ہیں، بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاریخ پاکستان کے پختہ عزم اور اپنے بھرپور دفاع کی صلاحیت کی گواہ ہے۔ ماضی میں بھی بھارت ایسی ہی سازشوں کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہوتا رہاہے۔1971 میں اس نے مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان کے میں دہشت گردی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے نہ صرف وہاں کے مقامی باغیوں کو عسکری تربیت دی بلکہ اس کے باقاعدہ فوجی مکتی باہنی کے روپ میں معصوم شہریوں کے خون سے کھیلتے رہے۔ بلوچستان میں بھی وہ مختلف دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کر کے پاکستان کو عدم تحفظ کا شکار کرتا رہا ہے۔ اس نے اسی مقصد کے لیے افغان سرزمین کو بھی استعمال کیا۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جبرواستبداد کی داستانیں بھری پڑی ہیں۔ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ،  بھارتی سرکار نے کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔خواتین کی بے حرمتی اور معصوم بچوں کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنانے میں
پاکستان
تو گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی دہشت گردی اور سازشوں کا سامنا کررہا ہے اور اس حوالے سے مسلسل دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کررہاہے۔ پاکستان کے خلاف توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ ساتھ اسے اندرونی طور پر کمزور کرنے کی بھارت ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مالی معاونت، منصوبہ بندی اور سرپرستی کررہا ہے۔ بھارت جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی گرفتار ی کے بعد جو ہوشربا انکشافات کیے ، وہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا واضح ثبوت ہیں۔
پاکستانی
وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کسی ایڈونچر کی کوشش کرے گا تو منہ توڑ جواب دیںگے۔ چند سال قبل بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو انجام کیا ہوا؟ ہم نے بھارت کا جہاز گرایا تھا اور پائلٹ کو پکڑ کر خیرات میں واپس کیا تھادوبارہ ایسی کوشش کی تو وہی جواب دیںگے جو پہلے دیا تھا۔ یہ صرف الیکشن کے سلسلے میں بڑھکیں مار رہے ہیں، اگر انہوںنے ایسی حرکت کی تو اسی طرح کا جواب دیا جائے گا جو پہلے دیا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ کشیدگی ہو، بھارت ہمسائیہ ممالک کے ذریعے دہشتگرد کارروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف بیانات دیتا ہے۔
بھارت
کی پرانی عادت ہے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے بجائے پاکستان پر الزامات عائد کرتا ہے۔ بھارت دھمکیاں دیتاہے اور اپنی سیاست کو چمکاتا ہے، جس طرح بھارت نے پاکستان میں قتل کی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے اسی طرح دیگر ممالک میں بھی اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شہریوں کو قتل کیا ہے، بھارت نے جس طرح کے اقدامات پاکستان کے خلاف شروع کر رکھے ہیں، یہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں کشیدگی کا سبب بنتے ہیں۔ انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر یہ آگ بھڑک گئی تو ممکن ہے کہ وہ سارےخطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے یہ ایسی آگ ہوگی جسے بجھانا شاید کسی کے بس میں نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے