ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد کو وسطی ایشیا کے ان شہروں میں شمار ہوتا ہے جو اپنی ساخت اور طرزِ زندگی کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا۔ اس شہر کے بڑے حصے میں سرکاری عمارات، ہوٹل، یاد گاریں، وزارتیں، اسپورٹس کمپلیکس اور رہائشی بلاکس سفید ماربل سے تعمیر کیے گئے ہیں،اس لیے اشک آباد کو دنیا کا سفید ترین دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سفید رنگ ترکمان ریاست کے نزدیک پاکیزگی، نظم، استحکام اور غیر جانب داری کی علامت ہے ۔ اشک آباد کی چوڑی اور سیدھی سڑکیں، کشادہ چوراہے، منظم ٹریفک، وسیع گرین بیلٹس اور مخصوص رفتار کے اصول شہر کو ایک خاص خاموش وقار عطا کرتے ہیں۔ یہاں بڑے شہروں جیسی بدنظمی، ہجوم اور شور کم دکھائی دیتا ہے۔ شہر کا ماحول عمومی طور پر پرسکون ہے اور رات کے اوقات میں بھی سڑکیں صاف اور روشن رہتی ہیں۔ اشک آباد میں جدید طرزِ تعمیر کے ساتھ ساتھ ترکمان ثقافتی علامات کو نمایاں رکھا گیا ہے، جن میں گھوڑے، قالین، روایتی نقوش اور قومی ہیروں کی یادگاریں شامل ہیں ۔ اشک آباد کی آبادی میں اکثریت ترکمان نسل پر مشتمل ہے اور ریاستی زبان ترکمانی ہے تاہم روسی زبان بھی انتظامی اور سماجی سطح پر سمجھی اور بولی جاتی ہے ۔ شہر کی سماجی زندگی میں روایت اور جدیدیت کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اگرچہ شہر میں تفریحی مراکز، تھیٹر، اسٹیڈیم، میوزیم اور ثقافتی ہال موجود ہیں مگر مجموعی طور پر سماجی سرگرمیاں منظم اور محدود دائرے میں رہتی ہیں۔ اشک آباد میں قائم ترکمان قالین میوزیم دنیا کے بڑے قالین میوزیم میں شمار ہوتا ہے، جہاں صدیوں پر محیط قالین بافی کی روایت کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ہر قالین کسی نہ کسی قبیلے، علاقے اور تاریخی دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ قالینوں کے ڈیزائن، رنگ اور نقوش ترکمان تاریخ ، فطرت اور روحانی تصورات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح گھوڑا ترکمان ثقافت میں غیر معمولی مقام رکھتا ہے، خصوصا اخال تیکے نسل کے گھوڑے جنہیں دنیا کی خوبصورت ترین نسلوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اشک آباد میں گھوڑوں سے متعلق یادگاریں، مجسمے اور قومی تقریبات اس ثقافتی وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔اشک آباد کے رہن سہن میں سادگی، مہمان نوازی اور روایت پسندی نمایاں ہے۔ گھریلو زندگی میں خاندان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ترکمان کھانوں میں گوشت، چاول، روایتی روٹی، دودھ سے بنی اشیا اور سادہ مصالحے استعمال ہوتے ہیں۔ ثقافتی تقریبات میں روایتی لباس، موسیقی اور رقص شامل ہوتے ہیں جن میں ترکمان دوتار اور لوک گیت خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ قومی دنوں اور سرکاری تقریبات میں اشک آباد کو خصوصی طور پر سجایا جاتا ہے اور ریاستی تشخص کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ترکمانستان نے اشک آباد میں ایک بڑے بین الاقوامی فورم کا انعقاد کیا جو بین الاقوامی سالِ امن و اعتماد کے تناظر میں منعقد ہوا۔ یہ فورم ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کی پالیسی کے تیس سال مکمل ہونے کے موقع پر رکھا گیا۔ اس فورم کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر امن، باہمی اعتماد، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کو فروغ دینا تھا۔اس فورم میں دنیا کے مختلف خطوں سے سربراہانِ مملکت و حکومت، وزرائے خارجہ ، خصوصی نمائندگان اور مختلف وفود نے شرکت کی۔ روس، ترکی، ایران، قازقستان، ازبکستان ، تاجکستان، کرغزستان، آذربائیجان ، آرمینیا، عراق اور دیگر ممالک کے اعلی سطحی وفود اشک آباد پہنچے۔ پاکستان کی نمائندگی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کی۔ فورم میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دنیا کو درپیش تنازعات کا حل طاقت، دبا یا محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ نیوٹرل ریاستیں عالمی تنازعات میں ثالثی، اعتماد سازی اور پیشگی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر اعتماد کے فقدان، سیاسی تقسیم اور علاقائی کشیدگی کے ماحول میں نیوٹرلٹی کو ایک ایسا ذریعہ سمجھا گیا جو بات چیت کے دروازے کھلے رکھ سکتا ہے۔ اعلامیے میں تعلیمی، ثقافتی اور علمی تبادلوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا تاکہ مختلف اقوام اور معاشروں کے درمیان فہم و ادراک کو بہتر بنایا جا سکے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب اور ملاقاتوں میں امن، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکمانستان کی غیر جانبداری کی پالیسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے خطے میں استحکام کیلئے ایک مثبت عنصر سمجھتا ہے۔ انہوں نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اپنی بندرگاہوں، زمینی راستوں اور مواصلاتی ڈھانچے کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔ انہوں نے گیس، بجلی اور توانائی کے دیگر منصوبوں میں ترکمانستان کے ساتھ شراکت داری کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ علاقائی توانائی رابطے نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ باہمی انحصار اور امن کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے، طلبہ کیلئے وظائف اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔روس کے صدر نے فورم میں عالمی استحکام، اقوامِ متحدہ کے کردار اور کثیرالجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام کو ایسے اصولوں کی ضرورت ہے جو تمام ریاستوں کے لیے قابلِ قبول ہوں اور جن کی بنیاد باہمی احترام پر ہو۔ ترکی کے صدر نے مکالمے، ثالثی اور علاقائی تنازعات کے سیاسی حل کی حمایت کی اور کہا کہ پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین کو بات چیت میں شامل کیا جائے۔ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے رہنمائوں نے بھی علاقائی تعاون، اقتصادی روابط اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کیں ۔ اشک آباد میں متعدد دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں جن میں تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور ثقافت جیسے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کیلئے یہ فورم سفارتی روابط اور اقتصادی مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنا ۔ وسطی ایشیا کے ممالک کیلئے یہ اجتماع علاقائی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کے امکانات کو اجاگر کرنے کا موقع تھا۔ فورم کے اعلامیے میں شامل سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو یہ اجتماع عالمی سفارت کاری میں ایک مثبت مثال کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے۔ اشک آباد اپنی سفید عمارات، منظم زندگی، گہری ثقافت اور غیر جانبدار ریاستی فلسفے کے ساتھ ایک ایسا شہر بن کر ابھرا ہے جو محض ترکمانستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظریے اور ایک سفارتی پیغام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اشک آباد فورم اسی پیغام کا عملی اظہار تھا جس میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اعتماد، مکالمہ اور تعاون آج بھی عالمی امن کی سب سے مضبوط بنیاد ہو سکتے ہیں۔

