امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایٹم بم آجاتا تو مشکل صورتحال ہوتی، ایران نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حملہ کیا عرب ممالک نے خود کو نیوٹرل رکھا ایران کے پاس ایسے میزائل تھے جن سے وہ ہم پر حملہ کرتے، ایران کے ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے ایران پر اپنی ابتدائی ٹائم لائن سے بہت آگے چل رہے ہیں اگر ہم حملہ نہ کرتے تو ایران ہم پر حملہ کر دیتا ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ایران جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی تیل کی قیمتیں کم کرنے کیلئے کچھ پابندیاں ختم کر رہے ہیں ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا کھیل کھیلے گا تو اسے تباہ کردیں گے ایران میں ایسی تباہی کریں گے کہ وہ کبھی ریکور نہیں ہوسکے گا ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بے معنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے بھی نہیں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جو ملک اسرائیلی و امریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کرسکتا ہے ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی امریکہ و اسرائیل کی ایران پر ننگی جارحیت سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نہ صرف غیر معمولی حد خطرناک ہوچکا بلکہ یہ موجودہ دور کے سب سے سنگین عالمی تصادم کی شکل میں اختیار کرتا چلا رجا ہے بیک چینل مصالحت کی کوششیں جاری ہیں لیکن مذاکرات کئی بار رک چکے ہیں اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تنازعہ جغرافیائی اسٹریٹجک طور پر پھیل رہا ہے دونوں فریقین کی جانب سے تیل کی تنصیبات ریفائنریز اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس سمیت اہم انفرا سٹر کچر کو نشانہ بنانے سے جنگ میں ایک نیا اور خطرناک پہلو شامل ہوگیا ہے یہ حملے صرف عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ ماحولیاتی اور انسانی زندگی کے لئے بھی سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ بارش اور ماحولیاتی آلودگی کی اطلاعات اس تنازع کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں ایران جنگ میں ہلاک وزخمیوں کے اعداد وشمار کی آزادانہ تصدیق ابھی ممکن نہیں تاہم شہری انفراسٹرکچر جیسے اسکول رہائشی علاقے اور عوامی سہولیات پر بمباری کی وسعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل انسانی نقصان رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے اسرائیل ایران کی میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنے جوہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور ممکنہ طور پر ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ ایران میزائل، ڈرون اور اسمیٹرک وارفیئر کی صلاحیت کے ذریعے جوابی کارروائی کر رہا ہے جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹس میں عدم استحکام مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھائو اور بین الاقوامی تجارت کے اہم سمندری راستوں کی بندش سے عالمی سطح پر مالی و اقتصادی خطرات پیدا ہو گئے ہیں افسوس ناک امر یہ ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی عالمی سطح پر جنگ بندی کی سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت اب تک کسی بااثر عالمی فورم کا کوئی ہنگامی اجلاس تک طلب نہیں کیا گیا جو اس آگ کو بجھانے کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرسکے یہ بے حسی نہ صرف انسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر مزید پختہ ہورہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام اپنی مدت پوری کرچکا ہے اور دنیا اب طاقتور ریاستوں کے مفادات کے سامنے بے بس اور مجبور ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے اور نئے ایرانی رہبر کو انجام تک پہنچانے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایران بھی پسپائی اختیار کرتا نظر نہیں آرہا اور جوابا حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 37 ویں لہر کے تحت 3گھنٹے تک مسلسل میزائل حملوں میں عراق کے شہر اربیل بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر اور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا ہے حملوں میں خیبر شکن قدر اور خرم شہر میزائل استعمال کئے گئے ان میزائلوں میں متعدد وارہیڈز نصب تھے جبکہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریبا ایک ٹن بتایا گیا ہے ایسے حالات میںجنگ کے فوری اختتام کے آثار نظر نہیں آ رہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس تنازع کا فیصلہ سفارتی کوششوں کے بجائے محاذ جنگ پر ہی ہوگا ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان اس وقت ایک نازک اسٹریٹجک توازن کا سامنا کر رہا ہے پاکستان کے ایران اور خلیجی ریاستوں خصوصا سعودی عرب کیساتھ مضبوط تعلقات کے علاوہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے اس تناظر میں پاکستان اپنے اسٹریٹجک شراکت داروں کی سلامتی سے متعلق صورتحال پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی ترجیح سفارتی رابطے اور تنازع کی شدت کو کم کرنا ہے وہ خطے کے ممالک کے درمیان رابطوں کی سہولت فراہم کرنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے بات چیت کی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے تاہم ابھی تک امن کی کوئی واضح اور یقینی صورتحال سامنے نہیں آسکی موجودہ صورت حال میں بڑا سوال یہی ہے کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ کیا امریکہ’ اسرائیل ایران پر غالب آجائیں گے؟ ایران کب تک مزاحمتی عمل جاری رکھے گا؟ اور سب سے بڑھ کر جنگ بندی کے لئے جاری اوپن اور بیک ڈور ڈپلومیسی کیونکر کارگر ثابت نہیں ہورہی؟ ایران کا بنیادی مقصد اپنی بقا جبکہ امریکہ اور اسرائیل نتیجہ چاہتے ہیں جو فریق وقت کو زیادہ طول دے سکے وہ اکثر میدان جنگ کی صورت بدل دیتا ہے لہٰذا اس جنگ کے نتائج عالمی نظام کیلئے انتہائی غیر متوقع ہوسکتے ہیں جنگ پر مزید خاموشی پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیلی کر سکتی ہے اب بھی وقت ہے عالمی برادری تنازع کی شدت کو مزید بڑھنے سے روکنے کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کیلئے سازگار حالات پیدا کئے جائیں تاکہ یہ بحران پور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔

