امریکہ کا شکست خوردہ صدر اُسی منہ کے ساتھ چین جا پہنچا ہے ، جسکے ساتھ اس نے ایک صیہونی انتہا پسند نیتن یاہو کے بہکاوے اور خفیہ ڈراوے میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منہ اصولی طور پر اب کسی کو بھی دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اُسی منہ کے ساتھ اپنی ایڑی سے لیکر پینٹاگان کی چوٹی تک زور لگا کر ایران پر بلا وجہ شدید ترین ہوائی حملے کئے تھے ۔ ٹرمپ نے اُسی منہ کیساتھ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کو ”رجیم چینج”نامی مردودِ جہاں ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے جنگ کے آغاز ہی میں تاک تاک کر ہلاک کر دیا تھااور اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی مایوس اور شکست خوردہ منہ کے ساتھ چین کے متحمل مزاج ،سنجیدہ ، کم گو اور زیرک لیڈروں کے سامنے پیش ہوا۔میں نہیں جانتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون سا پرفیوم یا کس عرب شیخ کا عطیہ کردہ عطر استعمال کرتا ہے ۔ہاں یہ اندازہ ضرور ہے کہ،اسکے اپنے لباس سے میراب کے اسکول میں امریکی میزائل حملوں میں جان گنوانے والی ننھی طالبات کے لہو کی مہک ضرور آ رہی ہو گی۔ امریکی صدر کا یہ دو روزہ دورہ پہلے اکتیس مارچ سے دو اپریل 2026 کے لیے طے کیا گیا تھالیکن جنگ شروع کرنے اور پھر تمام تر امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے برعکس جنگ ختم کرنے پر اپنا اختیار کھو دینے اور جوابی حملوں میں غرق ہو جانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر اپنا طے شدہ دورہ چین ملتوی کردیا تھا کہ؛ جنگ کی وجہ سے اسکے منہ کا واشنگٹن ڈی سی میں رہنا ضروری ہے۔ اگرچہ اب سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا اور اچھی طرح سے سمجھ بھی لیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ کسی بھی امریکی میزائل یا بمبار طیارے سے زیادہ مہلک ہتھیار ثابت ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے جنگ کے دوران اس ”ہتھیار”کو خوب استعمال کیا اور تیل کی قیمتوں اور اسٹاک ایکسچینج کو قابو میں رکھنے کے لیے جنونی بیان بازی کے لیے اپنے اسی منہ کا استعمال کرتا رہا۔بعض ماہرین ایسا گمان بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ کو موٹے جالی دار کپڑے سے باندھ کر رکھا جاتا تو امکان ہے کہ امریکہ کی عسکری اور اخلاقی ہزیمت میں کچھ کمی آ جاتی۔ جنگ بندی کے بعد مستقبل جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔امریکی ریاست اور ایران مستقل جنگ بندی معاہدہ کرنا چاہتے تھے ،لیکن نیتن یاہو کی نیت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ نے اس عمل میں رکاوٹ بن کر ، مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کے خواب کو دور کردیا ہے۔ دورہ چین کے التوا نے صرف دورے کی تواریخ ہی تبدیل نہیں کی تھیں ،بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر امریکہ کی حیثیت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ سے چین روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی چال میں اعتماد کی کمی اور خفت کی زیادتی نظر آ رہی تھی۔ ایران کے خلاف جنگ کو آبرو مندانہ سلیقے سے لپیٹے بغیر امریکی صدر کا دو روز تک چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا بہت مشکل اور ایک لاحاصل عمل ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے عملًا چین ایک ملک نہیں ، ایک عالم حیرت ہے ۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں امریکیوں کے ایجاد کردہ اور دنیا میں رائج کئے جانے والے جہاں بانی کے تمام حربے غیر موثر اور بے معنی ہو جاتے ہیں۔ چین کے دو روزہ دورے پر پہنچنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کیلئے رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں کے اچھل اچھل کر جھنڈیاں لہرانے کے منظر نے شمالی کوریا کے بانی لیڈر اور رہنما کم ال سنگ کی یاد تازہ کر دی۔اس طرح سے غیر ملکی مہمانوں کے گرم جوش اور پرخلوص استقبال کی طرح کم ال سنگ ہی نے ڈالی تھی۔ چین کا امریکی صدر کا شمالی کوریائی انداز میں استقبال دلچسپ اور معنی خیز ہے ۔میں ذاتی طور پر حیران ہوں کہ نہ امریکہ اور نہ ہی چین نے مجھے ان دو روزہ مزاکرات میں مدعو کرنے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو میں اپنے راست مشاہدے کی بنیاد پر اپنی رائے یا تجزیہ پیش کر سکتا تھا لیکن میڈیا کی طلسمی آنکھ سے صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات یا استقبالیہ ملاقات کا منظر دیکھ کر اس دورے کے حال اور مآل کا کچھ کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ چین کے دورے پر آئے ہوئے مہمان ڈونلڈ ٹرمپ چلتے آ رہے ہیں ۔صدر شی جن پنگ اپنی جگہ پر قدم جمائے بڑے وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔صدر جن پنگ نے ایک قدم بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف نہیں بڑھایا، اس کی بجائے وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ہانپتا کانپتا ٹرمپ جب ایک ہاتھ کے فاصلہ تک پہنچ گیا تو صدر شی جن پنگ نے مصافحے کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہاتھ ملایا، اپنی عادت کے مطابق دوسرے ہاتھ سے مصافحے کو سہلایا ،اور کھڑا ہوگیا۔اس سارے عمل کے دوران صدر شی جن پنگ کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ ذرا سا منظر ایک غروب ہوتے ہوئے مجروح تکبر اور ایک طلوع ہوتے نظم جہاں کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔بہرحال دونوں صدور دو گھنٹے طویل مذاکرات مکمل کر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی زنبیل میں دنیا کے نمایاں کاروباری اور ٹیکنالوجی سے متعلق ماہرین اور شخصیات شامل ہیں۔ خود ٹرمپ ایک مدبر اور نظریاتی سیاستدان کی بجائے ایک نقد مفاداتی بزنس مین ہے۔وہ ایسا بزنس مین ہے جس کی نظر ہمیشہ منافع پر رہتی ہے وہ بزنس مین کے ساتھ ساتھ اٹھائی گیرہ ، جیب تراش اور کن ٹٹا غنڈہ بھی ہے ۔اور اپنی ان صفات کا اظہار وہ متعدد بار کر چکا ہے۔اس دورے میں اس کا سامنا صدر شی جن پنگ سے ہے۔خاموش طبع، محدود اور متعین مسکراہٹ کے حامل نپی تلی گفتگو کرنے والے۔اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان اصل فرق شعور اور فراست کا ہے ۔امریکہ دو ایٹم بم پھوڑ کر اور ہزاروں انسانوں کو قتل کرنے کے بعد بزعم خود سپر پاور بنا تھا۔جبکہ چین نے 1962 میں انڈیا کو عبرت ناک سبق سکھانے کے بعد آج تک کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔چین نے ایک بڑی جنگ اپنے ملک میں غربت کے خلاف لڑی اور فتح پائی۔ آج کا چین دنیا کے لیے تیز ترین انسانی ترقی کا روشن نمونہ ہے۔ جبکہ اس وقت امریکہ کی حالت قریب المرگ بڈھے بدمعاش کی سی ہے۔ جو اطراف کے لوگوں کو صرف کھانس کر متوجہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے ذریعے اور امریکہ کی وجہ سے مغرب کے عالمی انسانی تمدن کے صورت گر اور مہذب ہونے کا فاسق تصور دم توڑ چکا ہے ۔ پچھلی دو صدیاں یورپی ممالک نے مقبوضات قائم کئے اور شرمناک حد تک لوٹ مار اور قتل و غارتگری کے مرتکب ہوئے ۔گزشتہ صدی کا نصف آخر اور اکیسویں صدی کی تیسری دہائی امریکی بد عملی اور بداخلاقی کا عہد ہے ۔ امریکہ کے انسانی حقوق،جمہوریت ، انسانیت ، مساوات سب کے نعرے ؛سارے فریب اور فراڈ ثابت ہو چکے ہیں۔یہ درست ہے کہ امریکہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز اور ترقی کی ،لیکن علم کی اس عالمگیر برکت کو ایک فتنہ سامان صیہونی ریاست کی سرپرستی کھا گئی۔آج کل امریکہ نے نیتن یاہو کو بھونکنے اور کاٹنے کیلئے رکھا ہوا ہے ۔یا دوسری صورت میں اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا چپڑاسی بنایا ہوا ہے، امر واقعہ جو بھی ہو،امریکی عوام اور امریکی دانشوروں کو سوچنا اور فیصلہ کرنا چاہیئے کہ ؛ امریکی ٹیکس امریکیوں کی فلاح کی بجائے اسرائیل کی چاکری اور دنیاکی تباہی کیلئے کیوں استعمال ہو رہا ہے۔ جہاں تک امریکی صدر کے دورہ چین کا تعلق اور سبق ہے ،وہ یہ کہ دنیا میں امن بذریعہ جنگ کا عہد تمام ہو چکا ہے۔ یہی بات ڈونلڈ ٹرمپ کو بتانے اور سمجھانے کیلئے صدر شی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات دوران کہا تھا کہ ”اگر تائیوان کے مسئلے کو مناسب انداز میں نہ سنبھالا گیا تو امریکا اور چین تصادم کی طرف بڑھ سکتے ہیں”صدر شی جن پنگ نے یہ بات کر کے ایران کے ساتھ نامراد جنگ کی راکھ اور رسوائی چہرے پر سجا کر چین پہنچنے والے امریکی صدر کو یہ بات بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جیتنے کیلئے جنگ کرنا ہی لازم نہیں ہوتا، آپ جیتنے ہارنے کا فیصلہ کھیل کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں ۔انسانی وسائل کی بہترین تنظیم ، عالمی سطح پر جنگ گریزی کی حکمت عملی کا فروغ اور دوطرفہ مفادات کا تحفظ کرنے والی منصفانہ تجارت اس کھیل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

