اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:”زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے، اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے جو جلال اور بزرگی والی ہے۔”آج انہی حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے دل بہت بوجھل ہے۔ الطاف حسن قریشی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بظاہر ایک انسان گیا ہے مگر حقیقت میں اردو صحافت، فکری دیانت اور نظری پاکستان کا ایک پورا عہد ختم ہوگیا ہے۔میں نے زندگی میں بے شمار لوگ دیکھے، بڑے نام دیکھے، بڑے عہدے دیکھے، مگر الطاف حسن قریشی جیسی محبت، شفقت، انکساری اور فکری گہرائی کم ہی لوگوں میں دیکھی۔ میرا ان کے ساتھ تعلق صرف ایک قاری یا صحافی کا نہیں تھا بلکہ ایک روحانی اور خاندانی محبت جیسا تعلق تھا۔ یہ میرے لیے اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت اور سعادت ہے کہ مجھے ان کی قربت نصیب ہوئی۔مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب وہ حج کے لیے گئے تھے۔ انہی دنوں وہاں ایک افسوسناک آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس صورتحال میں، اپنے قریبی عزیز و اقارب موجود ہونے کے باوجود، انہوں نے میرے گھر میں قیام کیا۔ میرے لیے یہ زندگی کا ایک ایسا اعزاز ہے جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ ایک اتنی بڑی شخصیت، اتنا بڑا دانشور، اتنا بڑا مدیر، اتنا بڑا قومی سرمایہ اور ان کا میرے گھر میں ٹھہرنا، میرے لیے یقینا اللہ تعالی کی خاص مہربانی تھی۔وہ دن صرف قیام کے دن نہیں تھے بلکہ علم، محبت، دعا اور فکر کے دن تھے۔ رات گئے تک گفتگو ہوتی رہتی۔ پاکستان کے حالات، امت مسلمہ، صحافت، نوجوان نسل، مولانا مودودی، تاریخ، سیاست، ہر موضوع پر بات ہوتی۔ ان کی گفتگو میں نہ تکبر تھا، نہ خودنمائی، نہ کسی کے لیے نفرت۔ صرف درد تھا، اخلاص تھا اور پاکستان کے لیے محبت تھی۔یہ بھی میرے لیے بڑی سعادت رہی کہ جب بھی وہ اسلام آباد آتے، مجھے ضرور اطلاع دیتے۔ میں اپنی مصروفیات چھوڑ کر ان کی خدمت میں حاضر ہوجاتا۔ ان کے پاس بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان کے چہرے پر وہ نورانی مسکراہٹ دیکھنا ، یہ سب میرے لیے کسی درسگاہ سے کم نہیں تھا۔ میں نے ان سے صرف صحافت نہیں سیکھی بلکہ ظرف، برداشت، محبت اور انسان دوستی سیکھی۔ابوالاعلی مودودی کے ساتھ ان کی قربت اور فکری وابستگی بھی ایک الگ داستان ہے۔ انہوں نے مولانا مودودی کے ساتھ جو تاریخی نشستیں کیں، وہ آج کی نسل کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ اکثر مولانا مودودی کی باتیں بڑے احترام اور محبت سے بیان کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ مولانا نے ہمیں صرف دین نہیں سمجھایا بلکہ ایک مسلمان کی فکری ذمہ داری بھی سمجھائی۔مجھے ان کی ایک بات ہمیشہ یاد رہے گی کہ قوموں کی تعمیر صرف سیاست سے نہیں بلکہ کردار، علم اور نظریے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں میں ہمیشہ فکری گہرائی ہوتی تھی۔ وہ پاکستان کو ایک نظریاتی ریاست سمجھتے تھے اور اسی سوچ کے ساتھ آخری سانس تک لکھتے رہے۔اردو ڈائجسٹ ان کے ہاتھ میں محض ایک رسالہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری تحریک تھی۔ انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کو مطالعے کی طرف راغب کیا۔ ان کی تحریروں نے نئی نسل کو سوچنے، سوال کرنے اور اپنے وطن سے محبت کرنے کا شعور دیا۔قرآنِ مجید کی یہ آیت ان کی پوری زندگی پر صادق آتی تھی:وقل ربِ زِدنِی عِلمااور دعا کرو کہ” اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما”۔وہ آخری عمر تک سیکھتے بھی رہے اور سکھاتے بھی رہے۔ آخری دنوں میں اگرچہ جسمانی طور پر کمزور ہوگئے تھے مگر ذہنی طور پر پہلے سے زیادہ بیدار تھے۔ پاکستان کے حالات پر بہت فکر مند رہتے تھے۔ جب بھی گفتگو ہوتی، ملک کی سلامتی، نوجوان نسل اور قومی وحدت کی بات ضرور کرتے۔میں جب دبئی میں تھا تو ان کے صاحبزادے کامران قریشی سے مسلسل رابطہ رہا۔ میں ان کی صحت کے بارے میں پوچھتا رہتا اور دعائیں کرتا رہتا۔ شاید اللہ تعالی کو یہی منظور تھا کہ میں واپس آں اور ان کے جنازے میں شریک ہوں۔ یہ میرے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا، کیونکہ میں صرف ایک صحافی کو نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ایک محسن کو الوداع کہہ رہا تھا۔پچھلے دنوں جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو میں نے لبنی ملک سے کہا کہ میری طرف سے ان کے گھر جا کر پھول پیش کریں اور میری دعائیں پہنچائیں۔ وہ گئیں اور انہوں نے الطاف حسن قریشی صاحب کو پھول پیش کیے۔ محبت اور احترام کے یہی رشتے انسان کی اصل کمائی ہوتے ہیں۔آج مجھے عمر خیام کی رباعی یاد آ رہی ہے:
کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر
عمر گزشت و رفت، دلِ بے قرار کر
ایسے بھی اہلِ درد زمانے میں کم ہوئے
جو حرف بھی سچ کہیں اور حق بھی ادا کریں
الطاف حسن قریشی واقعی ایسے ہی اہلِ درد انسان تھے۔ ان کے جانے کے بعد اردو صحافت کا آسمان کچھ خالی خالی محسوس ہوتا ہے ۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ الطاف حسن قریشی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ایسے لوگ دنیا سے جاتے نہیں، تاریخ کے سینے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
کالم
الطاف حسن قریشی میرے عہد کا ایک عظیم انسان
- by web desk
- مئی 23, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 7 Views
- 1 گھنٹہ ago

