

مارچ اور اپریل میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل کمی کے بعدحالیہ دنوں میں مہلک واقعات کی لہر نے پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے افغانستان کے عزم پر تازہ شکوک و شبہات کو جنم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ سربراہی اجلاس کا کبھی بھی کوئی بڑا نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں تھا۔بہت زیادہ بے اعتمادی جمع ہو چکی ہے،اور واشنگٹن اور بیجنگ کو

وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ کہنا درست ہے کہ امریکہ ایران تنازعہ نے پاکستان اور دیگر علاقائی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جنگیں،توانائی میں خلل اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی

پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح IV زمین سے مار کرنے والے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایک اور تکنیکی کامیابی سے بڑھ کر ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے

پاکستان پر اسرائیل کی شرارتی نگاہیں پڑنے میں زیادہ دیر نہیں گزری ہو گی جیسے لارڈ آف دی رِنگز کی نظر بد۔پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعے میں ایک مستحکم کردار ادا کیا ہے اور دونوں طرف سے سفارت

خیبرپختونخوا میں پے درپے دہشت گردانہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گرد بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیںاور ریاستی اداروں کی طرف سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کیلئے کی جانے

پاکستان کی کپاس کی معیشت کو ایک بار پھر بحران کا سامنا ہے جو ملک کی ناقص زرعی اور صنعتی پالیسیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔نئے جننگ سیزن کے آغاز سے قبل روئی کے ذخائر میں دس ہزارگانٹھوں سے کم

ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ بھلے ہی ختم نہ ہوئی ہولیکن اس نے جغرافیائی سیاسی ترتیب میں بڑی تبدیلیوں کو پہلے ہی واضح کر دیا ہے۔جہاں پہلے حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کے دوران،امریکہ اور دیگر مغربی ریاستیں بڑی

بھارت کا بزدلانہ سلسلہ اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔تعصب اب ہندو مت کے علاوہ نچلی ذاتوں اور عقائد کیلئے مذہبی آزادیوں کو مٹانے کیلئے ایک منظم تحریک ہے۔اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستہائے

بھارتی حکومت نے بات کی ہے اور اس کا پیغام ایک واضح اعتراف ہے کہ اس کا قومی فخر صرف دکھاوے کے لئے ہے۔ملک کی وفاقی وزارت کھیل نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی بھارتی سرزمین پر منعقد ہونے