

2015 کے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کیلئے مذاکرات میں کوئی پیشرفت حاصل ہونے میں تقریبا دو سال لگے۔لہٰذا ایران اور امریکہ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو امریکہ اور

جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی ثالثوں کی درخواست کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی تھی، وہیں ایران اور امریکا اب بھی آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت کو محدود کر رہے

امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورعارضی طورپر موخرہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر ایران کو مذاکرات کیلئے مزید وقت دینے کی خاطر

جیسا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات کی قسمت میں توازن لٹکا ہوا ہے،عالمی برادری بدستوردھیان میںہے۔دم تحریرایران نے امریکہ کی عدم اعتمادی اور مبینہ طور پر امریکہ کی طرف سے کی گئی جنگ بندی کی

مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے وزیر اعظم کے تین ملکی دورے کے اختتام اور دفاعی افواج کے سربراہ نے ایران کا ایک اہم،تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد ہفتے کے آخر میں ایک

پاکستان کی سفارتکاری 40دن کے تنازعے کے بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف لے آئی، وسیع تر بحران کو ٹال دیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان دائمی امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اب عالمی سطح

چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں صدر مسعود پیزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا، اسلام آباد میں

پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو روکنے کے لئے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کرنے

گرچہ امریکہ اور ایران مذاکرات کی قسمت کے بارے میں پیشین گوئیاں حد سے زیادہ پرامید سے لے کر قیامت تک کے منظر نامے تک ہیں،ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرف سے دوبارہ ملاقات کرنے اور امن کو موقع دینے

یہ ایک بار پھر سال کا وہ وقت ہے جب گندم کے پیدا کرنے والے،خاص طور پر چھوٹے کاشتکار،اپنی لاگت کی وصولی کے بارے میں فکر مند ہیں،اس خوف سے کہ انہیں اس فصل کی مناسب قیمت نہیں ملے گی