- الإعلانات -

فیس بک سے ڈپریشن ہونے کا خطرا

فیس بک کا استعمال دنیا بھر کے نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے مختلف منفی اثرات سامنے آرہے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق فیس بک پر دوستوں کی تعداد کا ڈپریشن کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور یہ ذہنی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔کینیڈا کی مونٹریال یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ایسے نوجوان جن کے فیس بک کے دوستوں کی تعداد 300 سے زائد ہوتی ہے ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات کم فیس بک فرینڈز رکھنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق کے دوران 12 سے 17 سال کی عمر کے 88 نوجوانوں سے سوال کیا گیا کہ فیس بک پر ان کے دوستوں کی تعداد کیا ہے اور ان کے درمیان آپس میں کیسی باتیں ہوتی ہیں، اس دوران مسلسل 3 دن تک 4 مرتبہ تمام نوجوانوں کے کورٹی زال (زندگی کے لیے ضروری ہارمون) کے لیول بھی چیک کیے گئے۔تحقیق میں سامنے آیا کہ فیس بک پر زیادہ دوست رکھنے والے نوجوانوں میں کورٹی زال کی سطح دیگر نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل قریب میں ڈپریشن میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کی نگراں پروفیسر سونیا کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کی وجہ صرف یہی نہیں ہے بلکہ ذہن پر دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جب کہ فیس بک کورٹی زال کی سطح کو 8 فیصد تک متاثر کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب 300 فیس بک فرینڈزکورٹی زال کی سطح کو متاثر کرکے ڈپریشن کا باعث بن سکتے ہیں تو غور کرنا ہوگا کہ وہ افراد جو فیس بک پر ایک ہزار سے 2 ہزار تک دوست رکھتے ہیں ان میں ڈپریشن اور ذہنی دباو¿ میں مبتلا ہونے کے کتنے زیادہ امکانات ہوں گے۔ اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ وہ نوجوان جن میں کورٹی زال لیول کی سطح 37 فیصد تک ہوتی ہے ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔