- الإعلانات -

ہندوستانی ریاست، پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیکورٹی دینے سے انکار

نئی دہلی: ہندوستانی ریاست ہماچل پردیش کی حکومت نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیکورٹی دینے سے انکار کردیا جبکہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے ریاستی حکام کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ہماچل پردیش کے وزیر اعلٰی ویربھادرا سنگھ نے اتوار کو اپنےبیان میں کہا تھا کہ میچ کے مقام کو ہندوستانی ائر بیس پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کےاحترام میں تبدیل کردینا چاہیے۔

انھوں نے دھرم شالا میں ہونے والے میچ کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے معذرت کی تھی۔

19 مارچ کو روایتی حریف عالمی ٹی ٹوئنٹی کے اس ہم میچ میں مدمقابل ہوں گے۔

ریاستی حکام کے اعلٰی اہلکار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ہم میچ میں سیکورٹی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں‘۔

’یہ صرف ایک میچ ہے جس کے لیے ہم پریشان ہورہے ہیں کیونکہ یہ پاکستان سے متعلق ہے اور ہمارا فیصلہ ہماچل پردیش کے عوام کےجذبات کی ترجمانی کرتا ہے‘۔

بی سی سی آئی کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر نے اس بیان کو سیاسی کھیل قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہندوستان پاکستانی کھلاڑیوں اور خواتین کو سیکورٹی فراہم کرتا رہا ہے۔

انوراگ ٹھا کر کا کہنا تھا کہ’ورلڈ کپ کےمیچوں کے مقامات کا فیصلہ ایک سال پہلے کیا گیا تھا، میچوں کی تقسیم 6 ماہ قبل کی گئی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ یہ کہہ کر کہ ہم سیکورٹی فراہم نہیں کرسکتے آپ پاکستان کے اس موقف کو تقویت دے رہے ہیں کہ انھیں ہندوستان میں سیکورٹی خطرات ہیں، یہ ملک کی عزت سے منسلک ہے‘۔

پاکستان پہلے ہی ہندوستان میں سیکورٹی خطرات پر آواز اٹھا چکا ہے جہاں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مخصوص خطرات ہیں جنھوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ملکوں کے بورڈ کے سربراہوں کی ممبئی میں ملاقات کو معطل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

جنوبی ایشیا کی روایتی حریف ٹیموں نے سفارتی کش مکش کے باعث 3 سال سے زیادہ عرصے سے کوئی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی۔

معاملات رواں سال جنوری میں پٹھان کوٹ کے ائر بیس پر حملے کے بعد مزید گھمبیر صورت اختیار کرگئے جو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دسمبر میں پاکستان کےامن کی بحالی کے دورے کے بعد پیش آیا تھا۔

ایٹمی توانائی کے حامل دونوں روایتی حریف ممالک کے درمیان امن مذاکرات نریندری مودی کے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے اس مطالبے پر ملتوی ہوئے تھے کہ ’موثر اور جلد اقدامات کئے جائیں‘