- الإعلانات -

ہیڈ کوچ؛ مقامی امیدواروں کے نخروں پر وسیم اکرم آگ بگولہ ہوگئے

سابق کرکٹرز پر کوچ ہنٹ کمیٹی ممبر کی تنقید، مکی آرتھر کو نتائج میں بہتری کیلئے وقت درکار ہوگا
میں نے اور رمیز راجہ نے صرف بورڈ کو ہیڈ کوچ کیلئے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے میں مدد دی ہے ،سابق پیسرکا انٹرویو ہیڈ کوچ کیلئے مقامی امیدواروں کے نخروں پر وسیم اکرم آگ بگولہ ہوگئے، کوچ ہنٹ کمیٹی کے ممبر نے نام لیے بغیر محسن حسن خان اور عاقب جاوید پر تنقید کے تیروں کی بارش کردی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے وقار یونس کی جگہ نئے ہیڈ کوچ کی تلاش کیلئے کمیٹی میں وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو شامل کیا گیا تھا۔ تب اس ذمہ داری کیلئے مضبوط مقامی امیدوار محسن حسن خان نے میڈیا سے بات چیت میں واضح کیا تھا کہ وہ اپنے جونیئرز کے سامنے پیش ہونے کے بجائے اپنی درخواست براہ راست چیئرمین پی سی بی شہریار خان کو دیں گے جب کہ عاقب جاوید نے یہ کہہ کر درخواست دینے سے انکار کردیا تھا کہ رمیز اور وسیم پر مشتمل پینل پہلے ہی غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ذہن بناچکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے نجی ٹی وی انٹرویو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سابق پلیئر کا کہنا تھا کہ وہ صرف چیئرمین کو ہی اپلائی کریں گے، جب آپ کی ذہنیت ایسی ہو تو پھر آپ پاکستان ٹیم کے ساتھ کیسے کام کریں گے؟ انھوں نے کہا کہ میں اپنے سینئر کی عزت کرتا ہوں مگر آپ جس کی عزت کریں گے ، اس سے یہ توقع رکھیں کہ وہ بھی آپ کی عزت کرے گا، وسیم اکرم نے واضح کیا کہ انھوں نے اور رمیز راجہ نے صرف بورڈ کو ہیڈ کوچ کیلئے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے میں مدد دی۔انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کسی بھی ہائی پروفائل کوچ نے اس ذمے داری کیلئے درخواست ہی نہیں بھیجی۔ نئے کوچ مکی آرتھر کے بارے میں وسیم کا کہنا تھا کہ وہ کافی تجربہ کار اور پاکستان ان سے کافی فائدہ اٹھا سکتا ہے تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آرتھر سے راتوں رات تبدیلی کی امید نہ رکھی جائے ، اس وقت ون ڈے میں ہماری ٹیم نویں نمبر پر ہے، چیزوں کوبہتر کرنے کیلئے انھیں وقت دیناہوگا، ویسے بھی دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کیلیے انتہائی مشکل ثابت ہونے والا ہے۔