ایٹمی سائنس دانوں کو قتل کیا ۔ ایران نے بھی اپنے میزائیلوں اور ڈرونز سے اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے یو اے ای قطر کویت اور سعودی عرب میں قائم امریکی bases اڈوں کو نشانہ بنایا جس سے عرب ممالک میں کہرام مچ گیا ایران پر تنقید شروع کر دی ۔ ایران نے ابنائے ہرمز بند کر دی جہاں سے 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے ۔ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چین متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے اداروں اور کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ ادارے ایرانی زر مبادلہ کا اہم زریعہ ہیں ان میں ایرانی امین ایکسچینج بھی شامل ہے ۔ ایران امریکہ فساد کی جڑ ابنائے یرمز ہے۔ امریکہ نے ہرمز کی ناکہ بندی ،امریکی بحری فوج کی تعیناتی ،ایرانی جہازوں کی پکڑ دھکڑ سمیت ہر حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا لیکن ایرانی قیادت کو جھکا نہ سکا۔ ابنائے ہرمز سے مشرق وسطی کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سمیت پوری دنیا کے تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ امریکی کانگرس کے ڈیموکریٹ رکن سیتھ مارٹن نے کہا کہ ابنائے ہرمز کھلوانا، چین سے ہرمز کھلوانے کے لئے مدد کی بھیک مانگنا بھی منصوبے کا حصہ تھا ۔ جب اایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا تھا تو جنگ جاری رکھنے کا کیا مقصد تھا ہم کتنے اور فوجی مروانا چاہتے ہیں لگتا ہے کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں ۔ امریکی فوج کے کمانڈر سینٹ کام ان سوالوں کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ صدر ٹرمپ نے کہ دیا کہ ہم نے جلدی میں کوئی برا معاہدہ نہیں کرنا کیونکہ ہمارا معاہدہ اوباما سے اچھا معاہدہ ہو گا ۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثی کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے ۔ امریکی کانگرس کے رکن جیک برگمین نے ثالثی کے زریعے امریکہ اور ایران کو مزاکرات کی میز پر لانے پر ہاکستانی قیادت کو تعریفی خط لکھا ۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران پر حملہ کرنے والے تھے لیکن متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب ،اور قطر کے کہنے پر ایران پر حملہ روک دیا۔ پاکستانی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مزاکرات کا پہلا دور اسلام اباد میں ہوا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد نے شرکت کی جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی ۔ رائیٹر کے مطابق دونوں فریقوں میں کافی باتوں پر اتفاق ہو چکا تھا کہ اچانک امریکی نائب صدر نے پریس کانفرنس میں مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ ایران ایک بار پھرٹیبل ٹاکس پر راضی ہوگئے ۔ پاکستان میں کئی روز کا لاک ڈاون کر دیا گیا اسلام اباد میں مزاکرات کی تمام تیاریاں مکمل تھیں امریکی وفد وفد کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ کوئی امریکی مزاکراتی وفد اسلام ابادنہیں جا رہا۔ امریکی وفد 19 گھینٹوں کا بے مقصد سفر نہیں کر سکتا۔ ایران فون پر بات چیت جاری رکھ سکتا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کے لئے دو بار ایران کا دورہ کیا ۔ جب انہوں نے ایرانی حکام سے اتفاق رائے حاصل کر لیا اس کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران پہنچ گئے۔ انہوں نے ایرانی صدر پزشکیان ، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر کالیناف سے ملاقاتیں کیں ۔ دونوں فریقوں میں کافی نقاط پر اتفاق رائے ہو گیا اور وہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ۔ قطر کی ثالثی میں ایرانی منجمند اثاثوں اور ابنائے ہرمز پر بات چیت کے لئے پالیمنٹ کے سپیکر قالیناف وزیر خارجہ عباس عراقچی مرکزی بینک کے سربراہ کے ہمراہ قطر پہنچے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان کافی باتوں ہر اتفاق رائے ہو گیا ۔ صدرٹرمپ نے پینترا بدلا کہ میں امریکہ ایران امن معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کروں گا جب تک سعودی عرب پاکستان ،قطر اور دیگر عرب ممالک ابراھم اکارڈ پر دستخط نہ کریں۔ سعودی عرب نے فورا رد عمل دیتے ہوئے ابراھیم اکارڈ پر دستخطوں کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کر دیا۔ پاکستان نے بھی ابراھم معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ دیگر عرب ممالک نے خاموشی اختیار کر لی ۔ دراصل ابراھیم اکارڈ پر دستخطوں کی اڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ہے۔ ایک طرف ایران امریکہ معاہدے کی کوششیں ہو رہی ہیں دوسری اہم جانب امریکی فوج نے جنوبی ایران کی بنرر گاہ بندر عباس پر حملہ کر دیا ۔ ایرانی قیادت نے کہا کہ ہم دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق یہ Sef Defense کی کاروائی تھی۔ ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے فزودہ شدہ ایرانی یورینیم کی امریکہ منتقلی یا اسے ایران میں تباہ کرنے کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے ۔ مزاکرات کار کافی باتوں پر متفق نظر اتے ہیں جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع کرکے کسی قابل قبول معاہدے پر بہنچا جاسکتا ہے مگر یہ سب کچھ صدر ٹرمپ کی منظوری سے مشروط یے ۔ دونوں فریقوں کے درمیان نیوکلیر پروگرام، ابنائے یرمز کی مینجمنٹ ، منجمند اثاثوں کی بحالی،اور معاشی پابندیوں کے خاتمے پر اختلاف موجود ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ چند گھینٹوں یا دنوں میں معلوم ہو جائے گا کہ یہ مسلہ کس طرح حل ہوتا یے۔ بی بی سی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ایران اور امریکہ میں سے کوئی فریق بھی جنگ کے اپشن کی طرف جانا نہیں چاہے گا ۔ صدر ٹرمپ بار بار کہ رہے ہیں کہ مجھے معاہدے کی جلدی نہیں یے ۔فنانشل ٹائم کے مطابق صدر ٹرمپ نے سیز فائر معاہدے کے نئی شرائط رکھی ہیں۔ ایران کو یقین دلانا ہو گا کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا ۔ ابنائے یرمز فوری طور پر کھولنی ہوگی گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی ٹیکس نہیں یوگا۔ اس کے بعد امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ ایران کا فزودہ شدہ یورینیم قبضے میں لے کر بین الاقوامی ایجنسی کی موجودگی میں تباہ کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کی ان نئی شرائط کی وجہ سے بات اور بگڑ جائے گی اور پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جو کوششیں ہوئی ہیں ضائع ہو جائیں گی- ایران ٹرمپ کی نئی تجاویز کو نہیں مانے گا اور دونوں فریقوں کو کسی حتمی M.OU پر پہنچنا مشکل ہو گا۔ ایران جس نے اتنی سختی جانی اور مالی نقصان برداشت کیا وہ سمجھوتے کی بجائے جنگ کو ترجیح دے گا جو ٹرمپ کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا کیونکہ مڈ ٹرم الیکشن میں شکست کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر جنگ ہار چکے ہیں اور اب Safe exit چاہتے ہیں ۔

