بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں اور بدنام زمانہ ایجنسیوں نے گزشتہ 31روز کے دوران محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران کئی خواتین سمیت 700 کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔ قابض بھارتی فورسز اور ایجنسیاں نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر علاقے میں بڑے پیمانے پر چھاپوں اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے۔علاقے میںجاری انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں کا مقصد آزادی پسند کشمیریوں کو دہشت زدہ کرنا ، انہیں گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کر کے اپنے ہی وطن میں اجنبی ٰ اور مفلوک الحال بنانا ہے۔ اس نام نہاد مہم کی آڑ میں انتظامیہ اب تک کشمیریوں کی بیسیوں املاک ضبط اور منہدم کر چکی ہے۔اس مہم کے تحت دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مقبوضہ علاقے منشیات کا گڑھ بن چکا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے تحت شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کو علاقے میں خود فروغ دے رہی ہے۔ غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں بھارتی قابض انتظامیہ نے ایک اورکشمیری کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے بھارتی پولیس نے ضلع کے علاقے سوپور کی نیو کالونی کے رہائشی ماجد احمد صوفی کی ضلع بانڈی پورہ کے علاقے کہنوسا میں واقع 10 مرلہ اراضی ضبط کی ہے۔کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کی گئی جائیداد کی مالیت تقریبا 20 لاکھ روپے ہے۔ماجد احمد صوفی نے بھارتی مظالم سے تنگ آکرمجبوراآزاد جموں وکشمیر ہجرت کی تھی اور وہ اس وقت وہاں ہی مقیم ہے۔ سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کی املاک کی ضبطی اور ملازمتوں سے جبری بر طرفی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات کامقصد نہ صرف کشمیریوں کو معاشی طورپر مفلوج بنانا ہے بلکہ یہ املاک غیر کشمیریوں کو الاٹ کرنے کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بھی بگاڑنا ہے ۔بھارتی قابض انتظامیہ کے عوام دشمن اقدامات سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔ املاک کی تازہ ترین ضبطی کے واقعات کشمیریوں کیخلاف بڑے پرجاری کریک ڈان کا حصہ ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اور تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ منشیات کے اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے لیکن بیگناہ خاندانوں کو ان کے گھر گرا کر ہراساں نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے تو اسے جیل میں ڈال دینا چاہیئے لیکن آپ کو ان پولیس والوں سے بھی پوچھنا چاہیئے جو ان سے پیسے لیتے ہیں اور انہیں جانے دیتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے گھر کیوں گرائے جا رہے ہیں، خاندانوں کا کیا قصور ہے، آپ ان کے گھر کیوں گرا رہے ہیں، یہاں انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ اگر عوام کو بلڈوزر بابا پسند ہوتے تو آپ کو ووٹ کیوں دیتی، لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا اور آپ کو یہ سوچ کر 50 ایم ایل اے دیے کہ آپ ان کی حفاظت کرینگے۔ کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں آج صبح منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی پیدل ریلی کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر نے الزام لگایا کہ سرکاری ملازمین، اسکول کے اساتذہ اور طلباء کو صبح 6:30 بجے تقریب میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کروں گی جس نے مجھے کل آدھی رات کو پیغام بھیجا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اننت ناگ میں منشیات سے پاک مہم چلا رہے تھے، لیکن تمام عملے اور اسکول کے عملے کو جن میں خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں، کو صبح ساڑھے 6 بجے پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ مہم ایک اچھی پہل ہے لیکن میرے خیال میں انہیں انتظار کرانا ناانصافی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ نے حکومت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قابل نوجوانوں کو مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے جبکہ بھرتی کے عمل پر سیاسی تعصب کا غلبہ ہے۔

