کالم

صدر ٹرمپ کا دورۂ چین: بدلتی عالمی سیاست کا نیا باب!!!

صدر ٹرمپ کا دورۂ چین: بدلتی عالمی سیاست کا نیا باب!!!

امریکی صدر کا حالیہ دورۂ چین محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتے توازن کا ایک واضح اشارہ ہے۔ اس دورے نے نہ صرف امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نیا رخ پیدا کیا بلکہ اس نے مشرق وسطیٰ، خصوصاً ایران کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا دورہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں عالمی سیاست کی گہری چالیں اور بڑی طاقتوں کی نئی حکمت عملی کارفرما نظر آتی ہے۔
سب سے پہلے اگر ہم صدر ٹرمپ کے رویے کا جائزہ لیں تو یہ واضح طور پر اُن کے دیگر غیر ملکی دوروں سے مختلف تھا۔ یورپ میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ اُن کا جارحانہ اور بعض اوقات تنقیدی انداز اکثر خبروں کی زینت بنتا رہا، مگر چین میں اُن کا لہجہ نسبتاً نرم، محتاط اور سفارتی تھا۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ چین کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت ہے۔ چین اب وہ ملک نہیں رہا جسے امریکہ آسانی سے دباؤ میں لا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے بیجنگ میں تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی ملاقاتیں چینی صدر کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ہوئیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امریکہ اب چین کو محض ایک حریف نہیں بلکہ ایک ناگزیر شراکت دار کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔
اس دورے کا ایک اہم پہلو ایران کے حوالے سے تھا۔ امریکہ طویل عرصے سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں وہ چین کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے۔ چین، ایران کا ایک بڑا معاشی شراکت دار ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ چین اپنی معاشی طاقت استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر لائے یا کم از کم اُس کی مزاحمتی پالیسی کو کمزور کرے۔ تاہم، چین کی حکمت عملی اس معاملے میں نہایت محتاط اور متوازن ہے۔ چین نہ تو امریکہ کی مکمل حمایت کرے گا اور نہ ہی ایران کو مکمل طور پر تنہا چھوڑے گا۔ اس کی بنیادی وجہ چین کے اپنے مفادات ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام سے وابستہ ہیں۔ چین کسی بھی ایسے تصادم کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو اس کے اقتصادی منصوبوں، خصوصاً “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو”، کو متاثر کرے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ اس بدلتی ہوئی دنیا میں نئی سپر پاور کون ہے، امریکہ یا چین؟ اس سوال کا جواب اب پہلے جیسا سادہ نہیں رہا۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت ہے، اور اس کا اثر و رسوخ عالمی اداروں میں نمایاں ہے۔ دوسری طرف چین کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور وہ ٹیکنالوجی، تجارت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں دنیا بھر میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ چین اب ایک اقتصادی قوت کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی فوجی طاقت بھی بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر دو قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں امریکہ اور چین دونوں بڑی طاقتوں کے طور پر موجود ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دورہ اسی بدلتے ہوئے عالمی نظام کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔
اگر اس دورے سے امریکہ کو حاصل ہونے والے فوائد کا جائزہ لیا جائے تو سب سے اہم فائدہ چین کے ساتھ کشیدگی میں وقتی کمی ہے۔ تجارتی جنگ نے دونوں معیشتوں کو متاثر کیا تھا، اور اس دورے کے ذریعے امریکہ نے ایک حد تک اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ امریکہ کو یہ امید بھی ہے کہ چین ایران کے معاملے میں کسی نہ کسی حد تک تعاون کرے گا، جو اس کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے لیے اہم ہے۔ سفارتی سطح پر بھی امریکہ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اب بھی عالمی قیادت کا دعویدار ہے اور بڑے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب چین بھی اس دورے سے کم فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ چین نے خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے، جو تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس دورے کے ذریعے چین نے امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ مزید یہ کہ چین کو عالمی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملا، جو اس کی سافٹ پاور میں اضافہ کرتا ہے۔ چین کی یہ حکمت عملی اسے ایک ابھرتی ہوئی عالمی قیادت کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اب اگر ہم امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ پر اس دورے کے اثرات کا جائزہ لیں تو صورتحال قدرے پیچیدہ نظر آتی ہے۔ ایک طرف یہ دورہ جنگ کے امکانات کو کم کر سکتا ہے، کیونکہ چین دونوں ممالک کو تحمل اور مذاکرات کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر امریکہ اپنی پالیسیوں میں سختی برقرار رکھتا ہے اور ایران مزاحمت جاری رکھتا ہے، تو پراکسی جنگ کا خطرہ بدستور موجود رہے گا۔ چین کی کوشش ہوگی کہ وہ اس کشیدگی کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکے، کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں نہ صرف خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔
عالمی سطح پر اس دورے کے اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ دنیا میں نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ یورپ، روس، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر ممالک اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انہیں امریکہ اور چین کے درمیان کس حد تک توازن قائم رکھنا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ انہیں اپنی خارجہ پالیسی میں نہایت محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ایک طرف چین پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ بھی عالمی سیاست اور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کا دورۂ چین عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اب چین کے ساتھ مکمل تصادم کے بجائے ایک متوازن تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین بھی اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے عالمی نظام میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ دورہ دراصل ایک ایسے دور کا آغاز ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، اور دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات کس سمت میں جاتے ہیں، اور آیا یہ تعاون کی شکل اختیار کرتے ہیں یا مسابقت مزید شدت اختیار کرتی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ یہ دورہ محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک نئے باب کی شروعات ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے