کالم

قرآنی روشنی

قرآن کریم کے اٹھارویں پارے کی سورہ نور میں ارشاد باری تعالیٰ ہے مسلمان مردوں سے کہیں اپنی نظریں نیچی رکھیں یہی ان کےلئے پاکیزگی ہے لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے والد کے اپنے خسر کے اپنے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے اپنے بھائی بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں سے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہ ہوں اور اس طرح زور زور سے پاوں مار کر نہ چلو کہ پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے اے مسلمانو تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاو غور کریں تین خواتین اور مردوں کو اللہ نے کردار سازی کے لیے واضح ہدایت اور احکامات عطا فرما دیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قرآن مجید کو ہم صرف ثواب اور نیکیوں میں اضافے کےلئے پڑھتے ہیں اسکے معنی مطالب اور احکامات ہدایات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے ہماری آسانی کے لیے اللہ کے برگزیدہ بندوں نے اور علما کرام نے قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے مطالب اور معنی کو مختلف زبانوں میں آسان اور انداز میں بیان کر دیا ۔ اللہ تعالی ان کی خدمت کا نیک صلہ دینے والا ہے جو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ان کے درجات میں بلندی عطا فرمائے اور جو حیات ہیں اللہ انہیں دین کی خدمت میں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے مسلمان گھرانوں میں قرآن کریم کو خوبصورت کپڑے کے غلاف میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جن کو اللہ توفیق عطا فرماتا ہے وہ اسکا روزانہ مطالعہ کرتے ہیں اور ترجمے سے بھی مستفیض ہوتے ہیں اکثریت ترجمہ تو نہیں پڑھتی صرف مطالعہ کے بعد ثواب کی طالب ہی رہتی ہے اس دور میں جہاں مذہب ثانوی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ قرآن کریم کے مطالعہ میں ترجمے اور تفسیر سے بھی فیض یاب ہوا جائے آجکل مغربی تعلیم عام ہے لہٰذا گھر کے تمام افراد کو چاہیے کہ قرآن پاک پڑھنے کے ساتھ ترجمے کو بھی پڑھیں تاکہ سمجھ آئے اللہ نے انسانی تاریخ اور اسکے واقعات کیسے اور کن مقاصد کے ساتھ بیان فرمائے ہیں مختلف اقوام کے تذکروں کو بیان کرنے کے مقاصد کیا ہیں جزا اور سزا کے واقعات ہر دور کے انسان کے کردار سازی میں اثر انداز ہوتے ہیں مزکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے خواتین اور مردوں کو معاشرتی اصول عطا فرما کر ان پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے ان اعمال سے معاشرے میں بے حیائی بے پردگی اور بیباک طرز زندگی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ان احکامات کے برعکس ہمارے ہاں آجکل بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بلکہ عام زندگی میں بھی مردوں اور خواتین کی مشترکہ پارٹیز ہوتی ہیں جن میں خواتین بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر جاتی ہیں ایسی صورت حال میں جن کی بھی نظر ان پر پڑتی ہے وہ پاکیزہ نہیں کہی جا سکتی اللہ نے بناو سنگھار کو غیر مردوں سے چھپانے کے احکامات صادر فرمائے لیکن غیر مردوں کے ساتھ مل ملاپ کو اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے فیشن شوز میں نیم برہنہ حالت میں خواتین کا سٹیج پر واک شرم کا مقام ہے کیونکہ جو بھی نگاہ ان پر اٹھتی ہے اسے پاکیزہ کسی حالت میں نہیں کہا جا سکتا۔ اللہ کی ہر بات میں اس کی مخلوق کیلئے فائدے ہیں بشرطیکہ ان پر عمل کیا جائے اور زندگی اس پاک ذات کے احکامات کے تحت گزاری جائے دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ خواتین پازیب پہننے کو بھی فیشن کا حصہ سمجھتی ہیں اچھے لباس اور میک اپ کے ساتھ اس زیور کا استعمال بھی ہے اسکی جھنکار دوسروں کی توجہ مبذول کرنے کا ذریعہ ہے اور نگاہوں کا بے اختیار اس سراپے پر اٹھنے کو روکا نہیں جا سکتا شاید یہی مقصد اس زیور کے استعمال میں چھپا ہو اللہ نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ کن کن عزیزوں کے روبرو ہوا جا سکتا ہے اس طرح معاشرے میں برائیوں کے نپنے کا موقع پروان نہیں چڑھ سکتا رشتوں کا تقدس اور لحاظ قائم رکھنے کےلئے اللہ تعالی نے ہدایات عطا فرمائیں شانوں پر موجود دو فرشتے ہر عمل کو ضبط تحریر میں لا رہے ہیں لیکن ہم بے حسی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں غور و فکر کی عادت نہیں اور نہ ہی قرآن پاک میں بیان کیے گئے احکامات ہدایات واقعات پر غور کرنے کی عادت ہے ہماری مصروفیات ہی کچھ اس طرح کی بن چکی ہیں کہ اکثر لوگ نہ تو نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی قران کا مطالعہ کرتے ہیں اگر ہم خود ہی اس عمل سے غافل ہیں تو جو نسل ہم اپنے ہاتھوں اور تربیت سے پروان چڑھا رہے ہیں وہ کیسے اللہ تعالی کے کلام سے مستفیض ہوگی آجکل نوجوان نسل مغربیت کے آزاد معاشرے اور ان کے ماحول سے متاثر ہے رات دیر تک فضول فلموں کو دیکھتے رہنا گیمز میں وقت ضائع کرنا اور اسطرح کے دیگر کاموں میں وقت ضائع کرنے میں مصروف رہتے ہیں موبائل فون میں ہر طرح کا میٹریل موجود ہے رات دیر تک جاگ کر نوجوان نسل شیطانی خیالات اور تعلیمات سے متاثر ہو رہی ہے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد رات گئے تک اپنے کمرے میں درسی کتابوں کو پڑھنے اور تعلیمی کورس کو یاد کرنے میں مصروف ہے لیکن وہ فضول فلموں کو دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں صبح دیر تک اٹھنا سکول کالج وغیرہ کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دیکر وہ شب و روز ضائع کرنے میں ایکٹیو ہیں والدین جو اخراجات ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اسکے نقصان کا نئی نسل کو اندازہ ہی نہیں ہوتا صرف تفریح ان کا مقصد حیات ہے اس وجہ سے کالجز اور یونیورسٹیز کے نتائج حوصلہ افزا اور قابل ستائش نہیں معاشرتی زندگی آجکل مسلسل روبہ زوال ہے گھروں میں بھی اسلامی اور قرآنی تعلیمات کا فقدان ہے نہ والدین ان پر عمل پیرا ہیں نہ ہی اولاد کیونکہ جو ماحول گھر کا ہوگا اسی میں بچے پرورش پاتے ہیں انکے عادات فضائل کا بھی معیار وہی ہوتا ہے ان آیات میں نہ صرف اللہ تعالی رشتوں کا تقدس بیان فرمایا بلکہ باہمی روابط کو نبھانے کے بارے میں بھی واضح کردیا ہمیں غور سے نہ تو مطالعہ کرنے کا شوق ہے نہ ہی عادت حالانکہ عربی کے ساتھ سلیس ترجمہ پڑھنے سے اللہ پاک کی بیان کی ہوئی بات سمجھ آتی ہے اللہ نے انسان کی تخلیق کی اور اسی پاک ذات نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا لیکن ہم خود ساختہ طرز حیات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اس حقیقت سے ہم بالکل غافل ہیں ہر عمل کا جواب دیکر ہمیشہ کی زندگی کہاں اور کیسے گزارنا ہے دنیا تو ایک خواب گاہ ہے اسکی بھول بھلیوں میں ہم اپنے آپ کو کھو چکے ہیں اگر اللہ کے بتائے ہوئے معاشرتی اصولوں پر رہ کر زندگی گزاری جائے تو معاشرے کی برائیوں میں واضح کمی ہوگی اور مثالی معاشرہ معرض وجود میں آئے گا مغربی طرز حیات نہ ہماری میراث ہے اور نہ ہی مادر پدر آزاد تعلیم تربیت اس وقت الجھے ہوئے معاشرے کے باسیوں کو قرآن سے تعلق جوڑنا چاہیے ترجمے اور تفسیر سے اپنے دل دماغ کے بے ہنگم خیالات سے چھٹکارا پانے کا یہ مستند اور واحد ذریعہ ہے ان شخصیات کو اپنی دعاوں میں یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے شب و روز محنت سے عربی زبان میں نازل شدہ قرآن پاک کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے سمجھنے کےلئے سہل کر دیا ہماری نسل جو مرد اور خواتین پر مشتمل ہے انہیں اللہ کے کلام کو صرف پڑھنے بلکہ آسان ترجمے پر غور و فکر کرنے کی طرف راغب کرنا چاہیے مغربی خیالات کی یلغار سے محفوظ رہنے کا یہی مضبوط اور واضح ذریعہ ہے اور اللہ کی مدد بھی شامل حال رہے گی قرآن کی روشنی میں زندگی نہ صرف آسان بلکہ دنیا اور آخرت میں بھی کامیاب رہے گی انشااللہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے