کالم

وہ گھر جو کبھی جنت تھے

اللہ تعالیٰ کی بے پایاں حکمت کا یہ عظیم مظہر ہے کہ اس نے انسانیت کی رہنمائی کیلئے قرآنِ مجید کی صورت میں ایک مکمل ضابطہ حیات عطا فرمایا۔ اس کتابِ ہدایت میں حلال و حرام کی حدود واضح کر دی گئیں، اور انسانی معاشرت کے ان تمام رازوں اور اصولوں کو آشکار کیا گیا جو ایک متوازن، پاکیزہ اور پُرامن زندگی کیلئے ناگزیر ہیں۔ خصوصاً نکاح جیسے مقدس رشتے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے وہ روشن راہیں دکھائی ہیں جن پر چل کر میاں بیوی محبت، سکون اور انصاف کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اس تعلق میں دونوں کے حقوق و فرائض کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اختلافات سے بچنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں اور جدائی کے اندوہناک مرحلے سے محفوظ رہنے کی تدابیر بھی سمجھائی گئی ہیں۔اگر تمام تر کوششوں کے باوجود ازدواجی بندھن برقرار نہ رہ سکے تو قرآنِ کریم طلاق کے حساس مسئلے پر بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ طلاق کے آداب، اس کے مراحل اور جدائی کے بعد باقی رہنے والی ذمہ داریوں، خصوصاً شوہر کے فرائض، کو واضح کیا گیا ہے۔ تاہم اسلام میں طلاق اگرچہ جائز ہے، مگر یہ ان جائز امور میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ گویا یہ ایک ناگزیر مجبوری کے طور پر تو قابلِ قبول ہے، لیکن پسندیدہ عمل ہرگز نہیں۔رسول اکرم ۖ نے اپنی مبارک سیرت اور احادیثِ طیبہ کے ذریعے قرآنِ حکیم کی ان تعلیمات کی مزید تشریح فرمائی جو اجمالی انداز میں بیان ہوئی تھیں۔ یوں انسانیت کی رہنمائی کا یہ نظام مکمل اور جامع ہو گیا۔ مزید برآں، اجتہاد کا دروازہ بھی اہلِ علم کے لیے کھلا رکھا گیا تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں ان ابدی اصولوں کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔بدقسمتی سے موجودہ دور میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ایک سنگین سماجی بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشرتی شعور کی کمی اور جدیدیت کے بے مہار اثرات ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی بے لگام آزادیوں اور مصنوعی طرزِ زندگی نے گھریلو زندگی میں بے چینی اور بے اطمینانی کو بھی فروغ دیا ہے۔ والدین اور سرپرست بھی ان بدلتے رجحانات کے زیرِ اثر بعض اوقات دینی اور اخلاقی بنیادوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔حالیہ برسوں میں پاکستان بھر میں ایسے واقعات میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہری علاقوں میں یہ رجحان دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ نمایاں ہے۔ لاہور اس فہرست میں سرفہرست ہے، جس کے بعد فیصل آباد اور شیخوپورہ کا نمبر آتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ دیہات بھی، جو کبھی مضبوط خاندانی نظام کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب اس رجحان سے محفوظ نہیں رہے ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 2021ء کے دوران تقریباً اسی ہزار طلاق اور خلع کے فیصلے ہوئے۔ 2022ء میں یہ تعداد بیاسی ہزار، 2023ء میں نوے ہزار، 2024ء میں ایک لاکھ اور 2025ء میں بڑھ کر ایک لاکھ پچھتر ہزار تک جا پہنچی۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے مطابق صرف آخری سال میں گھریلو تشدد سے متعلق پچیس ہزار مقدمات رپورٹ ہوئے، جو اس خوف اور بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں جو بہت سے گھروں میں سرایت کر چکی ہے۔ اگرچہ ریاست خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن معاشرے کی گہری کمزوریوں پر خاموشی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک وقت تھا جب خاندان عزت، روایات اور بیٹیوں کے مستقبل کی خاطر مشکلات برداشت کر لیتے تھے، مگر اب برداشت اور درگزر کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ شادیاں آسانی سے ٹوٹ رہی ہیں جبکہ انہیں نبھانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل میں تنہا زندگی گزارنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو معاشرے کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس اضافے کی وجوہات میں بدلتا ہوا خاندانی نظام، معاشی دباؤ، بے روزگاری، نشہ آور اشیا کا استعمال اور برداشت کے فقدان کو نمایاں قرار دیتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ خاندانی عدالتیں مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہر کام کے گھنٹے میں اوسطاً اڑتیس نئے مقدمات دائر ہوتے ہیں، جبکہ سال کے آغاز سے اب تک پینتالیس ہزار سے زائد درخواستیں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ روزانہ تین سو سے زیادہ اور ماہانہ نو ہزار سے زائد مقدمات سامنے آتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2025ء میں ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری طرف روزانہ تیس سے زیادہ کورٹ میرجز بھی ہو رہی ہیں، مگر ان میں سے متعدد شادیاں چند ہفتوں یا مہینوں ہی میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ محبت یا اپنی پسند سے شادی کرنے والے نوجوان جلد ہی معاشی مشکلات، بے روزگاری اور بعض اوقات منشیات جیسی لعنتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ سینئر قانونی ماہرین کے مطابق یہ مسائل بار بار سامنے آتے ہیں اور دراصل شہری زندگی کی بڑھتی ہوئی توقعات اور محدود وسائل کے درمیان تصادم کی عکاسی کرتے ہیں۔قرآنِ مجید میاں بیوی کو نہایت محبت بھرے انداز میں نصیحت کرتا ہے:اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔” (النسائ: 19)یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ محبت اور رحمت اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں ہیں جو اس نے زوجین کے دلوں میں ودیعت فرمائی ہیں۔ سورة روم میں ارشاد ہوتا ہے:اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔” (الروم: 21)رسول اللہ ۖ نے بھی اسی تعلیم کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے سب سے بہتر ہو۔”اسی طرح آپ ۖ نے فرمایا:عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، نسب، حسن اور دین کی وجہ سے۔ پس دین دار عورت کو ترجیح دو، تم کامیاب رہو گے ۔ اختلافات کی صورت میں قرآنِ کریم مصالحت کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ دونوں خاندانوں سے ایک ایک ثالث مقرر کیا جائے۔ اگر نیت اصلاح کی ہو تو اللہ تعالیٰ دلوں میں دوبارہ موافقت پیدا فرما دیتا ہے۔ (النسائ: 35)جب طلاق ناگزیر ہو جائے تو اسلام اس کے لیے بھی عزت، انصاف اور شرافت کا راستہ متعین کرتا ہے تاکہ بچوں، خواتین اور دیگر کمزور فریقوں کے حقوق محفوظ رہیں۔ تاہم حدیثِ مبارکہ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے:”اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔”یہ فرمان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اگرچہ ناقابلِ برداشت حالات میں علیحدگی کی گنجائش موجود ہے، لیکن رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے زیادہ قریب ہے۔اس بڑھتے ہوئے بحران کے تدارک کے لیے حکومت اور معاشرے دونوں کو سنجیدہ اور دور اندیش اقدامات کرنا ہوں گے۔ شادی سے قبل مشاورتی پروگرام، خاندانی رہنمائی کے مراکز، ذہنی صحت کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے عملی منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کے اس بنیادی تصور کو دوبارہ زندہ کر سکیں جس کی بنیاد باہمی احترام، صبر، برداشت اور حقوق کی ادائیگی پر قائم ہے تو گھر دوبارہ امن، محبت اور بہترین تربیت کا مرکز بن سکتے ہیں۔قرآنِ حکیم اور اسوہ رسول ۖ محض قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ دائمی خوشی، خاندانی استحکام اور سماجی فلاح کی طرف رہنمائی کرنے والا ایک روشن چراغ ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم ان تعلیمات کو سمجھنے، اپنانے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا عزم پیدا کریں۔ اگر ہم اس عظیم خزانے سے غفلت برتتے رہے تو صرف افراد کی خوشیاں ہی نہیں بلکہ وہ مضبوط بنیادیں بھی متزلزل ہو جائیں گی جن پر ایک مستحکم اور مہذب قوم کی عمارت استوار ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے