کالم

افواج ِ پاکستان کی شاندار کارکردگی

پاکستان تقریبا دو دہائیوں سے دہشت گردی کیخلاف ایک طویل، کٹھن اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں قوم اور افواج پاکستان نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بنیاد پر تین روزہ کامیاب کارروائیوں نے اس مسلسل جدوجہد کا ایک اور شاندار باب رقم کیا ہے۔ ان کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 27دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔ مختلف ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، بارودی سرنگیں اور مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے ۔ فرحت احساس کا شعر ذرا سی ترمیم کے ساتھ کہ
فصل بہار تیغ خزاں سے اتار کے
اہل فساد آئے تھے بچوں کو مار کے
کیونکہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان دو دہائیوں میں کئی مرتبہ ہمارے بچوں کو بھی جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ لیکن افواج نے ہمیشہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے متعدد سانحات کو رونما ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیز کی فراہم کردہ خفیہ اور درست معلومات کی بنیاد پر گزشتہ دنوں متعدد مقامات پر بیک وقت آپریشنز کیے گئے۔ دہشت گردوں نے شدید مزاحمت کی مگر افواجِ پاکستان کے تربیت یافتہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمت عملی اور جرات مندانہ کارروائیوں سے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں، بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث اور علاقے میں انتشار پھیلانے والوں افراد تھے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کارروائیوں میں میران شاہ کی ممتاز قبائلی و سماجی شخصیت شہید ملک سیف اللہ داوڑ کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف شہید کے اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کے عوام کے دلوں میں ریاست کی صلاحیت اور عزم کے بارے میں نئی امید جگا دی ہے۔شہریار نے کہا تھا کہ
اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری
یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا
ریاست اکیلی ظلمت کی دیوار گرانے کیلئے کافی نہیں ہوتی جبکہ تک اس کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہو۔ شمالی وزیرستان ماضی میں دہشت گردوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن افواجِ پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب، رد الفساد اور دیگر تاریخی کارروائیوں کے ذریعے اس خطے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھی۔ آج بھی جب سرحد پار سے یا بیرونی سرپرستی میں دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن کو چیلنج کرتے ہیں تو سکیورٹی فورسز بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کر کے ان کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنا دیتی ہیں۔ حالیہ آپریشن عزمِ استحکام مہم کے وژن کے تحت قومی ایکشن پلان کا تسلسل ہے۔ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ اس پلان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔ یہ آپریشن علاقائی امن کی بحالی کا ضامن ثابت ہوا اور یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے کسی بھی ٹھکانے کو محفوظ نہیں چھوڑیں گی۔لالہ مادھو رام جوہر نے کہا تھا کہ
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
پاکستان مخالف قوتوں نے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئیہمیشہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہیلیکن الحمد للہ دشمن کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔جدید دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی۔ انٹیلی جنس، نگرانی، بروقت معلومات اور جدید ٹیکنالوجی اس کے اہم ترین اجزا میں شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے جس پیشہ ورانہ انداز سے دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی اور محدود وقت میں کامیاب کارروائیاں کیں وہ ان کی اعلی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کلیئرنس اینڈ سرچ آپریشنز اب بھی جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ عناصر کو بھی ختم کیا جا سکے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف فوجی کامیابی ہیں بلکہ مقامی آبادی کی حفاظت اور ان کی ترقی کو یقینی بنانے کا ذریعہ بھی ہیں۔راقم الحروف نے چودہ اگست کے موقع پر کہا تھا کہ
پتھروں کو چیر کے افواج نے گاڑے علم
ہاتھ میں بس حیدری شمشیر ہے چودہ اگست
یقیناقیام پاکستان کا دن ایک محکم یقین، ہماری افواج کے جذبہ شجاعت اور وفاداری کا ایک تابناک استعارہ ہے جو ان کے سینوں میں حوصلہ اور عزم کو مزید شعلہ بار کر دیتا ہے۔ اس کامیاب آپریشن پر قومی قیادت نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز جاری رہیں گی۔ وزیراعظم نے پاکستان سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح قرار دے کر پوری قوم کے اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی جوانوں کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے اس آپریشن کو قومی سلامتی کی مضبوطی کا روشن ثبوت قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے بلند مورال کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام قومی اداروں کے متحد رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ یکساں موقف قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اکیلی سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا ساتھ کھڑا ہونا واجب ہے۔ افواجِ پاکستان کے جوان پہاڑوں، جنگلوں اور دشوار خطوں میں دن رات وطن کے دفاع کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں۔ ان کی بے مثال تربیت ، جدید آلات اور قومی قیادت کی بھرپور حمایت انہیں ناقابلِ شکست بناتی ہے۔افتخار عارف نے کیا خوب کہا کہ
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے