بھارتی ایجنسیاں آئی ایس آئی سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ بھارت میں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقعے کا الزام اسی پر لگا دیتی ہیں۔ ان کے دلوں میں موجود خوف غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، اور آئی ایس آئی کا خوف اب قومی نفسیات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔اگر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی شہری پاکستان کی اعلیٰ خفیہ ایجنسی کے ساتھ وابستگی یا تعاون پر آمادہ ہیں، تو بھارتی حکام کو اپنے اندر جھانک کر اس کی وجوہات تلاش کرنی چاہئیں۔بعض لوگوں کے نزدیک بھارتی عوام کو اپنے ملک کے خلاف جانے پر آمادہ کرنے والی چیز پاکستان سے محبت نہیں، بلکہ بھارت کی انتہا پسند سیاسی قیادت سے بڑھتی ہوئی نفرت ہے۔مزید حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو کچھ افراد کے لیے مالی مفاد وطن سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اگر انہیں لگے کہ وطن کے مفادات کا کچھ حصہ بیچ کر اضافی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، تو وہ اس راستے کو آزمانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں پاکستان کو بدنام کرنے اور عالمی سطح پر اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر بھارت کو جس سفارتی سبکی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد نئی دہلی ایک بار پھر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے کسی ممکنہ فالس فلیگ آپریشن یا داخلی کارروائی کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا سکے۔اسی سلسلے میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ہفتے کے روز 9 افراد کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ہدایات پر کام کر رہے تھے اور ممبئی انڈرورلڈ سے بھی ان کے روابط تھے۔دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر انیل شکلا کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے 4 پاکستانی ساختہ دستی بم، 2 گلاک پستول اور 25 گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے جس کے مبینہ روابط داؤد ابراہیم سے تھے اور وہ دہلی اور ممبئی سمیت بڑے شہروں میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ملزمان کی حکمت عملی مقامی نوجوانوں کو بڑی رقوم کا لالچ دے کر دہشتگردی کے لیے بھرتی کرنا تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ممبئی کے لیے 2 اور دہلی کے لیے 3 نوجوانوں کو بھرتی کیا اور حملوں کی تکمیل کے بعد لاکھوں روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کے شواہد عالمی سطح پر قابل قبول ثابت نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت بار بار ایسے الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں اور سیکیورٹی کمزوریوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔اس طرح کے بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ بھارتی حکومت ہر واقعے کو پاکستان سے جوڑ کر ایک مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دینا چاہتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ الزامات غیر مصدقہ اور یکطرفہ دعوؤں پر مبنی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس روایتی بھارتی بیانیے کا شدید تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔ ناقدین اور صارفین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب یہ ایک طے شدہ معمول بن چکا ہے کہ جب بھی مودی حکومت کو اندرونی سیکیورٹی چیلنجز، سیاسی دباؤ یا اپنی ایجنسیوں کی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے، تو رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے فوری طور پر "آئی ایس آئی ایجنٹ” اور "پاکستانی لنک” کا راگ الاپ دیا جاتا ہے، جیسے نئی دہلی کے پاس سنسنی خیزی کے علاوہ کوئی دوسرا کارڈ ہی موجود نہ ہو۔بھارتی حکومت ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیہ گھڑنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے جہاں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے بھارت میں رہنے والا ہر شخص پاکستان یا آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہو اور انہی کے اشاروں پر کام کر رہا ہو۔بھارت کا حالیہ "دہشت گرد ماڈیول” اور شہزاد بھٹی جیسے نام نہاد کرداروں کی گرفتاری کا ڈرامہ دراصل ایک پرانے اور گھسے پٹے سکرپٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ شہزاد بھٹی جیسے مہروں کے ذریعے آئی ایس آئی پر بے بنیاد الزامات لگا کر دنیا کی توجہ بلوچستان میں بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے ہٹانے کا بھونڈا ڈرامہ ہے۔بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارتی مداخلت اور صوبے میں سرگرم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم کی بھرپور حمایت کے حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد پر مبنی ایک جامع ڈوزیئر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی دیگر عالمی تنظیموں کو پیش کیا جارہا ہے۔ پاکستان ان ممالک کا مشکور ہے جنہوں نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کی کھل کر مذمت کی اور پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ بات مزید اطمینان بخش ہے کہ پوری آزاد دنیا نے ملک کے ساتھی شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے پاکستانی سیکورٹی اداروں کے بہادرانہ کردار کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں بھارت کے زیرِ سرپرست فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے کوشاں ہیں۔

