کالم

غذائی قلت ۔۔۔!

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان آج غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ ایک ایسا ملک جو دوسروں کو خوراک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خود اپنے لاکھوں شہریوں کو مناسب غذا فراہم نہیں کر پا رہا۔ یہ صرف اقتصادی یا انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔دنیا میں بھوک اور غذائی قلت کا مسئلہ آج بھی انسانیت کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ سائنسی ترقی، زرعی انقلاب اور عالمی تجارت نے خوراک کی مجموعی پیداوار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود کروڑوں انسان روزانہ بھوک کے ساتھ سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہیں۔ یہ اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ مسئلہ خوراک کی کمی سے زیادہ خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت، تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور ناقص حکمرانی کا ہے۔دنیا کے وہ ممالک جہاں غذائی قلت کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، ان میں سوڈان، صومالیہ، یمن، ہیٹی، جمہوریہ کانگو، مڈغاسکر، برونڈی، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔ ان ممالک میں سیاسی عدم استحکام، جنگ ، خانہ جنگی ، موسمیاتی تباہ کاریاں، غربت، بے گھر ہونا، معاشی بدحالی اور کمزور حکومتی ڈھانچے بھوک کے بنیادی اسباب ہیں۔غذائی قلت کی عالمی درجہ بندی اور تجزیہ متعدد بین الاقوامی ادارے جاری کرتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ اسی طرح ویلٹ ہنگر ہلفے اور کنسرن ورلڈ وائیڈ ہر سال گلوبل ہنگر انڈیکس جاری کرتے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ پاکستان کو گلوبل ہنگر انڈیکس کیسنگین زمرے میں رکھا گیا۔ ملک کی تقریبا 20.7 فیصد آبادی غذائی کمی کا شکار ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں تقریبا 40فیصد نشوونما کی کمی یعنی اسٹنٹنگ کا مسئلہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی 82 فیصد آبادی صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان غذائی قلت کا شکار ہے۔ پاکستان میں زرعی زمین مسلسل سکڑتی جارہی ہے۔پاکستان میں اکثریت آبادی خطہ غربت سے تلے زیست بسر کررہی ہے۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کی آمدنی اتنی کم ہے کہ وہ متوازن غذا خرید ہی نہیں سکتے۔ جب گھر کا بجٹ محدود ہو تو وہاں دودھ، انڈے، گوشت، پھل اور سبزیاں اکثر دسترس سے باہر رہتے ہیں۔پاکستان میں آبادی میں تیز ی سے اضافہ ہورہا ہے۔ زرعی پیداوار بڑھنے کے باوجود آبادی اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خوراک کی طلب میں مسلسل اضافہ سپلائی کے نظام پر دبا ڈال رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب، خشک سالی، بے موسم بارشیں، شدید گرمی، گلیشیئرز کا پگھلا اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں ذخیرہ، ترسیل اور تقسیم کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان میں فصلوں کا ایک بڑا حصہ کھیت سے منڈی اور منڈی سے صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتا ہے۔ بعد از برداشت نقصانات بعض اجناس میں 20 سے 40 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ضیاع دراصل خاموش بھوک ہے۔بلوچستان کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ یہاں ہر دوسرا بچہ کسی نہ کسی درجے کی غذائی کمی کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں غربت، پسماندگی، پینے کے صاف پانی کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات، ماں اور بچے کی غذائیت سے متعلق آگاہی کا فقدان، بار بار خشک سالی، وسیع جغرافیہ، کمزور انفراسٹرکچر اور دور دراز آبادیوں تک خدمات کی عدم رسائی شامل ہیں۔ بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں خواتین مناسب غذا سے محروم رہتی ہیں، جس کا اثر براہ راست نومولود بچوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ جب ماں کمزور ہو تو نسل بھی کمزور پیدا ہوتی ہے۔بلوچستان میں غذائی قلت صرف خوراک کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہاں صحت، تعلیم، پانی، صفائی اور غربت سارے مسائل یکجا ہیں۔ یہاں بچوں میں اسٹنٹنگ، ویسٹنگ اور خون کی کمی کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صوبہ پاکستان کے غذائی بحران کا سب سے حساس خطہ سمجھا جاتا ہے۔دیگر صوبوں کی صورتحال بھی اطمینان بخش نہیں۔ سندھ خصوصا دیہی سندھ میں بچوں میں غذائی کمی کی شرح بہت بلند ہے۔ تھرپارکر اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں بار بار خشک سالی، غربت اور محدود طبی سہولیات بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں غذائی عدم تحفظ نمایاں ہے جبکہ پنجاب نسبتا بہتر حالت میں ہونے کے باوجود جنوبی اضلاع میں غذائیت کے مسائل موجود ہیں۔ شہری علاقوں میں ایک نئی قسم کی غذائی خرابی سامنے آ رہی ہے، جہاں موٹاپا اور غذائی کمی بیک وقت موجود ہیں۔ یہ "ڈبل برڈن آف مال نیوٹریشن” کہلاتا ہے۔ پاکستان میں غذائی قلت کی ایک اہم وجہ خوراک کے بارے میں غلط ترجیحات بھی ہیں۔ ہم اکثر غذا کو صرف ذائقے اور پیٹ بھرنے تک محدود سمجھتے ہیں۔ غذائیت، متوازن خوراک، بچوں کی ابتدائی غذائی ضروریات، ماں کی صحت اور دودھ پلانے کی اہمیت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ جس کے باعث کمزور جسمانی اور ذہنی نشوونما کے مسائل سامنے آتے ہیں۔غذائی قلت کے مسئلے کا حل کثیرالجہتی اور جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے زرعی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دینی چاہیے۔ چھوٹے کسانوں کو جدید بیج، آبپاشی، تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔ماں اور بچے کی غذائیت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔حمل کے دوران خواتین کو غذائی سپورٹ، آئرن، فولک ایسڈ اور طبی نگرانی فراہم کی جائے۔ بچوں کے لیے پیدائش سے لے کر تین سال کی عمر تک خصوصی غذائی پروگرام متعارف کرائے جائیں۔ یہی وہ پہلے ایک ہزار دن ہیں جو پوری زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مثر بنایا جائے۔ صاف پانی، صفائی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ آلودہ پانی اور ناقص صفائی غذائی قلت کو مزید بڑھاتے ہیں کیونکہ بار بار بیماری جسم کو غذا جذب کرنے سے روکتی ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت کو فروغ دیا جائے۔ پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، جدید آبپاشی نظام اور زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے۔خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے جدید گودام، کولڈ چین، ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کا نظام بہتر بنایا جائے۔ جو خوراک ہم پیدا کرتے ہیں، اسے محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اسے اگانا۔ غذائیت سے متعلق قومی آگاہی مہم چلائی جائے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماں اور طبی ماہرین کو اس مہم کا حصہ بنایا جائے تاکہ متوازن غذا کی اہمیت ہر گھر تک پہنچ سکے۔سیاسی عزم، درست پالیسی، موثر عملدرآمد اور سماجی شمولیت سے بھوک کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش، نیپال اور کئی دیگر ممالک نے محدود وسائل کے باوجود غذائی اشاریوں میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ پاکستان بھی یہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ مسئلے کو محض اعدادوشمار نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال سمجھا جائے۔بھوک صرف خالی پیٹ کا نام نہیں۔ یہ کمزور جسم، سست ذہن، بیمار معاشرہ اور غیر محفوظ مستقبل کا دوسرا نام ہے۔ غذائی قلت ایک بچے سے اس کی نشوونما، ایک طالب علم سے اس کی صلاحیت، ایک مزدور سے اس کی قوت اور ایک قوم سے اس کا مستقبل چھین لیتی ہے۔ آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل اس کی قیمت آنیوالی نسلیں ادا کریں گی۔پاکستان کی زمین زرخیز ہے، اس کے کسان محنتی ہیں، اس کے وسائل وسیع ہیں۔ خوراک کو صرف پیداوار نہیں بلکہ انسانی ترقی، قومی سلامتی اور سماجی انصاف کا بنیادی ستون سمجھیں۔ جب تک ملک کا ہر بچہ صحت مند، ہر ماں توانا اور ہر خاندان غذائی تحفظ سے آراستہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے