کالم

بلوچستان تا پنجاب ۔ بیانیہ بمقابلہ حقائق

مبصرین کے مطابق یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے ” نمائندگی کے بحران”کا بیانیہ دراصل ایک پیچیدہ سیاسی بحث کو سادہ نعرے میں سمیٹنے کی کوشش ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ متنوع اور زمینی حقائق سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر بلوچستان کی سیاسی تاریخ، انتخابی عمل اور حالیہ پیش رفت کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ نمائندگی کے فقدان سے زیادہ بیانیے کی تشکیل اور اس کی تشہیر سے متعلق ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد بننے والی صوبائی اسمبلی ایک آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آئی۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق ووٹرز کی شرکت، مختلف سیاسی جماعتوں کی موجودگی اور آزاد امیدواروں کی کامیابی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر یک طرفہ یا محدود نہیں تھا۔ اس کے برعکس، نئے چہروں کے ساتھ ساتھ تجربہ کار قیادت کا ایوان میں پہنچنا ایک ایسے توازن کو ظاہر کرتا ہے جو کسی بھی فعال جمہوری نظام کی پہچان ہوتا ہے۔اسی تناظر میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں ایسے افراد بھی ایوان تک پہنچے ہیں جو ماضی میں احتجاجی سیاست کا حصہ رہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی نظام بند نہیں بلکہ لچکدار ہے، جہاں اختلافِ رائے رکھنے والے افراد بھی جمہوری دائرے میں آ کر اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اسی ضمن میںہدایت الرحمن اور اختر مینگل جیسے رہنماؤں کی اسمبلی میں موجودگی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی میدان مختلف مکاتبِ فکر کے لیے کھلا ہے۔تاہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر نمائندگی واقعی ایک بڑا بحران ہوتی تو کیا ترقیاتی عمل اسی رفتار سے جاری رہتا؟ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کا حصہ گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھا ہے۔ سفارتی و معاشی ماہرین کے بقول فنڈز کی فراہمی محض کاغذی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر، توانائی کے منصوبے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی توجہ صوبے کی ترقی پر مرکوز ہے اور ااسی ضمن میںسی پیک جیسے بڑے منصوبے نے بھی بلوچستان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ گوادر سے لیکر ژوب تک انفراسٹرکچر کی بہتری، رابطہ کاری کے نظام میں وسعت اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترقی کا عمل جاری ہے اور اسے محض بیانیاتی سطح پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ مبصرین کے مطابق اگر نمائندگی کا بحران اس حد تک شدید ہوتا جیسا کہ بعض حلقے پیش کرتے ہیں تو ترقیاتی منصوبے نہ صرف سست روی کا شکار ہوتے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ممکن نہ رہتا۔واضح رہے کہ خاندانی سیاست کے حوالے سے بھی بحث جاری رہتی ہے، جو صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہے۔ تاہم جان کاروں کے مطابق اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ حتمی فیصلہ ووٹر ہی کرتا ہے۔ بیلٹ باکس کے ذریعے منتخب ہونے والے نمائندے اسی عمل کی پیداوار ہوتے ہیں، اور یہی جمہوریت کی بنیادی روح ہے۔تبھی تو پنجاب میں بھی ترقی کا تسلسل جاری و ساری ہے ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ انتشاری ٹولہ اپنے مخصوص بیانیے کو تقویت دینے کیلئے منفی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگر عوام کسی قیادت کو مسترد کرنا چاہیں تو اس کے لیے انتخابی عمل موجود ہے، جو ایک پرامن اور آئینی راستہ فراہم کرتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع اور جغرافیائی لحاظ سے پیچیدہ صوبے میں مسائل کا مکمل خاتمہ ایک طویل عمل ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ یہاں مکمل طور پر نمائندگی کا فقدان ہے، ایک مبالغہ آمیز مؤقف معلوم ہوتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض سیاسی بیانیے زمینی حقائق سے زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں، جس سے عوامی رائے پر بھی اثر پڑتا ہے۔اسی تناظر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ بلوچستان میں جمہوریت نہ تو ختم ہوئی ہے اور نہ ہی جامد ہے، بلکہ ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔بلوچستان کی مانند پنجاب میں بھی ہر سطح پر پیش رفت جاری ہے مگر محض اپنے بیاننے کو تقویت دینے کیلئے انتشاری ٹولہ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ نئے چہروں کا سامنے آنا، مختلف سیاسی آوازوں کا ایوان میں شامل ہونا اور ترقیاتی عمل کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام میں حرکت موجود ہے۔ اگرچہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، مگر ناکامی کا تاثر زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔آخر میں مبصرین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بلوچستان اور پنجاب کے حوالے سے”غیر نمائندہ نظام”کا بیانیہ ایک سیاسی مؤقف تو ہو سکتا ہے، مگر اسے حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ زمینی سطح پر موجود ترقی، انتخابی عمل کی موجودگی اور مختلف سیاسی قوتوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظام کام کر رہا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بیانیے اور حقیقت کے درمیان توازن قائم کیا جائے تاکہ بلوچستان اور پنجاب کی سیاسی اور سماجی تصویر کو زیادہ جامع اور درست انداز میں سمجھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے