کالم

مفاہمت کی راہ میں پاکستان کا کردار

بین الاقوامی سیاست میں بعض ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی مہارت اور متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت ایسے کردار ادا کرتے ہیں جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے نہایت اہم ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان انہی ممالک میں شامل ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف تنازعات کے حل، امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں کے استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کیلئے فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ تقریبا 46 برس سے شدید تنا کا شکار رہے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں پابندیوں، جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور علاقائی تنازعات نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے۔ تاہم عالمی اور علاقائی استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر مکالمے کا جاری رہنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان کو اس حوالے سے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تقریبا 959 کلومیٹر طویل سرحدی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی کئی دہائیوں پر محیط سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان ایک قابل اعتماد رابطہ کار اور ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔پاکستان نے حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں محض پیغامات کی ترسیل تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اعتماد سازی، غلط فہمیوں کے خاتمے اور مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے تاکہ خطہ کسی نئی کشیدگی یا تصادم کی طرف نہ بڑھے۔حالیہ برسوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بھی خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کیلئے فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے چین، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ اعلی سطحی روابط کو مزید مضبوط بنانے کیلئے متعدد سرکاری دورے کیے، جن کا مقصد اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی اور استحکام کے امور پر مشاورت کو فروغ دینا تھا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر پاکستان کے اس موقف کو اجاگر کیا کہ خطے کے تمام تنازعات کا حل مذاکرات، باہمی احترام اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایران اور امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مکالمے کے دروازے کھلے رہیں، غلط فہمیاں کم ہوں اور ایسے اقدامات کو فروغ دیا جائے جو مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کر سکیں۔موجودہ عالمی حالات میں اس کردار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ عالمی توانائی کی منڈی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے تقریبا 30 فیصد سمندری تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جو ایران کے قریب واقع ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں صرف 10 فیصد اضافہ بھی ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کو متاثر کرسکتا ہے۔ پاکستان خود بھی خطے کے امن سے براہ راست وابستہ ہے۔ پاکستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات، تجارتی راستے اور علاقائی رابطہ کاری کا مستقبل ایک پرامن اور مستحکم مشرق وسطی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اگرچہ ابھی اپنی مکمل صلاحیت سے کم ہے تاہم دونوں ممالک نے آنیوالے برسوں میں تجارت کو کئی ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے سرحدی منڈیوں، توانائی کے منصوبوں اور زمینی رابطوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہمیشہ متوازن تعلقات اور تعمیری سفارتکاری رہا ہے۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور مغربی ممالک کے ساتھ بیک وقت مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہی متوازن پالیسی اسے بین الاقوامی سطح پر ایک قابل اعتماد شراکت دار بناتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر مکالمے اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مسلسل اس موقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی اصول امریکہ اور ایران کے معاملے میں بھی پاکستان کی پالیسی کی بنیاد ہے۔عالمی سطح پر بھی ثالثی اور سفارتی سہولت کاری کی روایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ناروے نے مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں ، قطر نے افغانستان کے مذاکرات میں جبکہ عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں پاکستان کی کوششیں بھی عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔موجودہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کا مجموعی قومی پیداوار تقریبا 30 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ایران تقریبا 400 سے 450 ارب ڈالر کی معیشت رکھتا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی معاشی اور سیاسی حیثیت مختلف ہے، لیکن مشرق وسطی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈی میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اسی لیے ان کے درمیان کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا حامی بننے کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کیلئے غیرجانبدارانہ کردار ادا کرے۔ سفارت کاری کی دنیا میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اور پاکستان نے برسوں کے تجربے اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ اعتماد حاصل کیا ہے ۔ آج جب دنیا مختلف جغرافیائی سیاسی بحرانوں، جنگوں اور اقتصادی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے وقت میں پاکستان کا امن پسند اور مصالحتی کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت کو بھی مثبت فوائد حاصل ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے