کالم

مولوی صاحب کی باتوں پر مت دھیان دیں

پہلے مشہور زمانہ کتاب ”زاویہ” سے اشفاق صاحب کا ایک واقعہ سنیں! اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک دن میں معمول کے مطابق سپارہ پڑھنے مسجد گیا، مولوی صاحب غصے میں آ گئے، بولے ، ارے نالائق تم مسجد میں نیکر پہن کر کیوں آ گئے؟ بے وقوف ایسے مسجد میں آئو گے تو جہنم میں جائو گے۔ گھر آئے گھبرا کر ماں جی کو بتایا تو ماں بولی پتر مولوی صاحب غصے میں ہوں گے جو انہوں نے ایسا کہہ دیا ورنہ بیٹا جہنم میں جانے کیلئے تو بڑی سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہنم کے لیے پتھر دل ہونا پڑتا ہے، دوسروں کا حق مارنا پڑتا ہے۔ قاتل اور ڈاکو بننا پڑتا ہے۔ فساد پھیلانا پڑتے ہیں۔ مخلوقِ خدا کو اذیت دینی پڑتی ہے۔ نہتے انسانوں پر آگ اور بارود کی بارش کرنا پڑتی ہے۔ محبت سے نفرت کرنا پڑتی ہے اس کیلئے مائوں کی گودیں اجاڑنی پڑتی ہیں۔ رب العالمین اور رحمت لعالمین سے تعلقات توڑنے پڑتے ہیں، تب جا کر کہیں جہنم ملتی ہے۔ تو تو اتنا کاہل ہے کہ پانی بھی خود نہیں پیتا۔ تجھ سے یہ محنت کیونکر ہو سکے گی؟ تو تو چڑیا کی موت پر ہفتوں روتا رہتا ہے، پھر تو اتنا پتھر دل کیسے بن سکتا ہے؟ اب سینما تاریخ کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکارچارلی چیپلن ایک واقعہ بچپن میں ایک بار میں اپنے والد کے ساتھ سرکس کا شو دیکھنے گیا۔ ہم لوگ ٹکٹ کیلئے قطار میں کھڑے تھے۔ ہم سے آگے ایک فیملی تھی، جس میں چھ بچے اور والدین تھے۔ یہ لوگ دیکھنے میں خستہ حال تھے۔ ان کے بدن پر پرانے، مگر صاف ستھرے کپڑے تھے۔ بچے بہت خوش تھے اور سرکس کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ جب ان کا نمبر آیا تو انے والد صاحب ٹکٹ کائونٹرکی طرف بڑھے اور ٹکٹ کے دام پوچھے۔ جب اسے ٹکٹ کے دام بتائے گئے تو وہ ہکلاتے ہوئے پیچھے مڑے اور بیوی کے کان میں کچھ کہا، چہرے سے اضطراب عیاں تھا۔ تبھی میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی جیب سے بیس ڈالر کا نوٹ نکالا۔ اسے زمین پر پھینکا، پھر جھک کر اٹھایا اور اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ جناب!آپ کے پیسے گر گئے ہیں ، لے لیں۔ اشک آلودآنکھوں سے اس شخص نے میرے والد کو دیکھا اور کہا۔ شکریہ محترم! جب وہ فیملی ہال میںداخل ہو گئی تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑ کر قطار سے باہر کھینچ لیا اور ہم واپس آ گئے کیونکہ میرے والد کے پاس وہی بیس ڈالر تھے جو انہوں نے اس شخص کو دے دئیے تھے۔ اس دن سے مجھے اپنے والد پر فخر ہے۔وہ منظر میری زندگی کا سب سے خوبصورت شو تھا۔ اس شو سے بھی زیادہ، جو ہم اس دن سرکس میں نہیں دیکھ سکے! اور اس دن سے میرا ماننا ہے کہ تربیت کا تعلق عملی نمونے سے ہے محض کتابی نظریات سے نہیں۔ قارئین ! یہ آپ پر منحصر ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کیلئے اشفاق صاحب کے مولوی کا انتخاب کرتے ہیں یا چارلی چپلن کے والد کا! حضرت آدم کو اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ سے بنایا ۔ اس وقت آدم اور اماں حوا کون سا لباس پہنتے تھے؟ اگر کوئی معصوم بچا کسی مولوی سے یہی سوال کر دے تو ان کے پاس اس کا کیا جواب ہو گا؟ مسجد اللہ کا گھر ہے یہاں نماز ضرور پڑھی جاتی ہے مگر عملا یہ تربیت گاہ ہے۔ صحابہ کرام کی تربیت اسی مسجد تربیت ہوئی۔ اسی تربیت گاہ سے متاثر ہو کر اس وقت مہنگی ترین پوشاک پہننے والے، بہترین جوتے پہننے والے اور اس وقت کا امپورٹڈ پرفیوم لگانے والے مصعب بن عمیر نے اپنی والدہ کی تمام دولت اور جائیداد کو لات مار کر ٹاٹ کے دو ٹکڑوں میں ملبوس دربارِ رسالتۖ میں آ کر فخریہ بتایا کہ آج میں سب کچھ چھوڑ کر آپۖ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہوں۔ پھر مصعب بن عمیر کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ نبی پاکۖ نے مدینہ میں انہیں بطور خصوصی نمائندہ /استاد اور واعظ بنا کر بھیجا۔ جنگ بدر میں ان کی نمایاں کارکردگی تھی اور پھر اسی مصعب بن عمیر نے جنگ احد میں شاندار طریقہ سے شہادت حاصل کی۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہماری مساجد میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ابھی چند دن قبل لاہور کی ایک مسجد میں تراویح کی ویڈیو منظرِ عام ہوئی کہ جس میں دورانِ تراویح قرآت چھوٹی ہونے پر مسجد کے اندر وہ طوفان بدتمیزی ہوئی کہ جس کا کوئی تصور ہی نہیں۔ یقین کریں کہ اگر یہ وڈیو نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دیکھ لی ہوتی تو وہ جنگ بند کرنے کا فیصلہ کر لیتے۔ نہ جانے کیوں مسلم ممالک میں باالخصوص پاکستان اور بھارت میں اللہ تعالی کو ایک حوا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بات بات پر ڈرایا جاتا ہے وضو اگر ایسے نہ ہوا تو مسئلہ، لباس ایسا نہ ہوا تو تنازعہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر اللہ کی ناراضگی کا درس دیا جاتا ہے۔ اگر صرف اللہ کے صفاتی ناموں کی تفصیل پڑھیںتو معلوم چلتا ہے کہ وہ تو بڑا مہربان، رحیم کریم، رحمن، صمد اور بہت ہی شفیق اور پیار کرنے والا ہے ۔ آپ اس سے دنیا کا ہر کوئی مسئلہ ڈسکس کر سکتے ہیں۔ آپ اس سے اپنی ہر مشکل بیان کر سکتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک ہے آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ آئیں اس بات کا عہد کریں کہ رب کے ساتھی دوستی ہو گی، محبت ہو گی وہی مشکل کشا ہے اور وہی مسب الاسباب ہے۔اشفاق احمد صاحب کی والدہ نے انہیں تلقین کی کہ بیٹا مولوی صاحب کی باتوں پر دھیان مت دینا ورنہ تمہارے اندر”خدا کا صرف ڈر بیٹھے گا محبت نہیں ” چنانچہ آئیں فیصلہ کریں کہ اب اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے۔ اختتام اس یادگار شعر پر!
اپنا مالک ، اپنا خالق افضل ہے
آتی جاتی سرکاروں سے کیا لینا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے