گزشتہ روز امریکی سفارتخانے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ آٹھ دہائیوں پر مبنی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشتگردی، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں، ہم سبز انقلاب کے فروغ سمیت تربیلا ڈیم ، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تعلیمی شعبے میں امریکا کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے،جنوبی ایشیا میں قیام امن کیلئے امریکی صدر کے کردار کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے، صدر ٹرمپ کو امن کے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکر گزار ہیں،انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو بھی سراہا جس کے ذریعے وہ علاقائی امن اور استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی سفارتخانے میں تقریب سے خطاب نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آٹھ دہائیوں پر محیط پاک امریکا تعلقات مختلف ادوار میں نشیب و فراز کا شکار رہے، تاہم دونوں ممالک نے ہمیشہ مشترکہ مفادات، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے تناظر میں ایک دوسرے کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کیلئے مختلف شعبوں میں فراہم کیے جانے والے تعاون کا ذکر کیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی زرعی ترقی، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں امریکی معاونت کا نمایاں کردار رہا ہے۔ تربیلا ڈیم جیسے بڑے منصوبے آج بھی پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی شعبے میں امریکی تعاون نے ہزاروں پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کیا ہے۔ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہوئے ہیں۔حالیہ برسوں میں پاک امریکہ تعلقات کا ایک اہم پہلو انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون رہا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور عالمی برادری نے متعدد مواقع پر ان قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون، سکیورٹی روابط اور علاقائی استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی بہترین تعلقات موجود ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مستقبل میں اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے تاکہ تعلقات صرف سکیورٹی امور تک محدود نہ رہیں بلکہ باہمی اقتصادی مفادات بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کیلئے امریکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے داعی کے طور پر یاد رکھنے کی بات کی۔ اگرچہ عالمی سیاست میں مختلف رہنماں کے کردار پر متنوع آرا پائی جاتی ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی رابطوں کے فروغ کیلئے عالمی طاقتوں کی مثبت کاوشیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں امن و استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے کردار کا ذکر بھی قابل توجہ ہے۔ موجودہ حالات میں جب مشرق وسطیٰ مختلف تنازعات اور کشیدگیوں سے دوچار ہے، پاکستان کی متوازن اور مصالحانہ سفارت کاری عالمی سطح پر اس کے مثبت تشخص کو اجاگر کر سکتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور پرامن حل کا حامی رہا ہے، اور یہی پالیسی خطے میں اس کے کردار کو مزید مثر بنا سکتی ہے۔وزیراعظم کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی علاقائی امن اور استحکام کیلئے کوششوں کو سراہنا بھی اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت قومی مفادات اور علاقائی امن کے حوالے سے یکساں سوچ رکھتی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں قومی یکجہتی، فعال سفارتکاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک موثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور امریکا اپنے تاریخی تعلقات کو نئے تقاضوں کے مطابق استوار کرتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی، تعلیم اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں۔ باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات ہی دونوں ممالک کیلئے پائیدار ترقی اور علاقائی امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ کو دھچکا
امریکی کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ میں جنگی جنون کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔یہ ایک سنگین سیاسی دھچکا ہے۔جنگ میں جانے کیلئے امریکی صدر کے انتظامی اختیارات کو روکنے کے حق میں ووٹ بھی ایک اسٹریٹجک دھچکا ہے۔واشنگٹن بہر حال،تہران کے ساتھ معاہدے کیلئے بے چین ہے لیکن اسلامی جمہوریہ غیر متزلزل دکھائی دیتا ہے اور دنیا کی واحد سپر پاور کیلئے شرائط کا حکم دے رہا ہے۔معاہدے کیلئے تہران کی پیشگی شرائط میں لبنان میں امن اور خلیج میں امریکی اڈوں کی بندش شامل ہے۔یہ ایک واضح موقف ہے جس نے جنگ بندی کے وقت دونوں دشمنوں کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کو لفظی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریپبلکن بھی مقبولیت کے ساتھ عجیب و غریب ہو رہے ہیں اور امریکہ میں وسط مدتی ووٹ سے صرف دو ماہ قبل خود کو دور کر رہے ہیں جو وائٹ ہائوس کے عہدیدار کیلئے سنگین نتائج سے بھرے ہوئے ہیں۔کویت، بحرین اور دیگر پڑوسی ریاستوں میں ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے امریکی اڈوں میں داخل ہونے کے ساتھ مشرق وسطی میں جھڑپوں کا دوبارہ آغاز تشویش کا باعث ہے ۔ کویت کے ہوائی اڈے پر مبینہ طور پر حملہ میں اضافے کا باعث ہے،کیونکہ بظاہر یہ پچھلے چند دنوں میں ایرانی توانائی اور جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کیلئے ایک ٹائٹ فار ٹیٹ کے طور پر آیا ہے۔مزید برآںآبنائے ہرمز پر تعطل کی وجہ سے امریکی بحری جہازوں کے انخلا کی امیدیں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔آخری لیکن کم از کم،ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبی خامنہ ای نے یہ کہہ کر دائو پر لگا دیا ہے کہ خطے میں امریکی تسلط اس کی افادیت کو ختم کر چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایک نئے علاقائی اور عالمی نظام کا آغاز کیا جائے۔بہر حال،بچت کا فضل یہ ہے کہ اسلام آباد کی ثالثی کی حرکتیں تہران اور واشنگٹن دونوں میں اب بھی ایک ٹھوس حلقہ تلاش کرتی ہیں۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سکون کی ایک آسان مساوات پر حملہ کرنے کیلئے ہم آہنگی کو بڑھانا ضروری ہے۔
افغان حکومت ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کرے
مبینہ طور پر طالبان قیادت کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں ٹی ٹی پی سے پاکستان کیخلاف حملے روکنے کا مطالبہ خوش آئند ہے۔بہر حال ترقی کیلئے افغان حکومت سے کچھ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ محض میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔عسکریت پسندوں خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی کو ختم کرنا،اسلام آباد کا ایک بنیادی مطالبہ رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ کابل اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ۔پاکستان نے بار بار طالبان حکمرانوں سے رابطہ کیا ہے اور انہیں مذاکرات میں شامل کیا ہے۔طالبان کے سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو پاکستان کیخلاف ٹی ٹی پی کے حملوں پر پابندی کے مبینہ حکم نامے کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔تاہم یہ بات قابل تعریف ہے کہ گزشتہ سال دوہزارسے زائد افغان مذہبی اسکالرز نے دہشتگردی کیخلاف فتویٰ سنایا تھا ۔افغان حکمرانوں کو دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے اور ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے اور انھیں افغانستان سے نکال باہر کرنا چاہیے ۔ اوردہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
اداریہ
کالم
پاک امریکہ تعلقات اورنئی جہتیں
- by web desk
- جون 6, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 6 Views
- 1 گھنٹہ ago

