معیشت و تجارت

کیا پاکستان اپنے یورو بانڈز واپس خرید سکتا ہے؟

زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی

کراچی: یورو بانڈز واپس خریدنے کے لیے پاکستان امریکی ڈالروں کو استعمال کر کے اکٹھا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔کمپنیوں کی طرح ملکوں کی بھی بہتر انتظام کاری کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس موقع پر نظر رکھی جائے جس کے ذریعے موجود وسائل سے ہر دن کو بہتر بنایا جاسکے، اسی لیے یہ بات باعث حیرت نہیں کہ عالمی ایگزیکٹوز ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ جہاں وہ اپنے سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے منافع کو بڑھاسکیں۔شاید پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی ایسے ہی جادوگروں پر مشتمل ہونا چاہیے جو دولت بنانے کے نت نئے طریقے تلاش کر سکیں۔ایسا ہی ایک آپشن ممکنہ طور پر جاری کردہ عالمی قرض اور بانڈز کو واپس خریدنا ہے۔اگر بانڈ تصوراتی (فیس ویلیو) پر جاری کیا گیا تھا کہیے کہ $100، تو اس کی قیمت اس وقت زیادہ ہو سکتی ہے جب کوئی ملک اچھا کام کر رہا ہو اور مانگ زیادہ ہو ، اس کے برعکس اگر ملک خراب کام کر رہا ہو تو اس کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سیاسی عدم استحکام، آئی ایم ایف کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے میں تاخیر اور سخت عالمی حالات کے براہ راست نتیجے کے طور پر، پاکستان کے 100 ڈالر پر جاری ہونے والے ڈالر بانڈز سیکنڈری مارکیٹوں میں 35 سے 45 ڈالر کی شرح پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔دوسرے لفظوں میں آج کی قیمت پر خریدنے والے کو 35سے45 ڈالر کی قیمت خرید پر 8سے 9ڈالر /سالانہ منافع مل رہا ہوگا، اس طرح 20سے 30 فیصد منافع حاصل ہوگا۔ایسے ممالک کی کئی مثالیں ہیں جن کی مالیاتی طور پر انتظامیہ نے اپنے حصص کو واپس خرید لیا۔مثال کے طور پر لکی سیمنٹ، اینگرو کارپوریشن، کوہ نور ٹیکسٹائل، جے ڈی ڈبلیو شوگر وغیرہ،2022میں ایل سلواڈور نے 565 ملین ڈالر کے بانڈز خریدے، 2021 میں انڈونیشیا نے 1.16 بلین ڈالر کے عالمی بانڈز کو واپس خریدنے کے لیے 1.84 بلین ڈالر کے بانڈ فروخت کرنے کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے