امام ابو حنیفہؒ جن کی فقہ حنفیہ پر، دنیا کے اسی فی صد مسلمان عمل کرتے ہیں، امام کا اسم گرامی نُعمان بن ثابت تھا۔ عراق کے داراحکومت کوفہ میں 699ءپیدا ہوئے۔ امام ابو حنیفہ ؒنے زندگی کے52سال بنو امیہ اور18سال بنو عباس کے دورحکومت میں گزارے۔اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں وہ جوان تھے۔عباسی خلیفہ المنصور کے عہد میں انہوں نے وفات پائی۔ان کا خاندان ابتدائً کابل میں آباد تھا۔ان کے دادا جن کانام زوطی تھا جنگ میں گرفتار ہو کر کوفہ آئے اور مسلمان ہو کر یہاں ہی سکونت اختیار کر لی۔ ان کا پیشہ تجارت تھا۔ حضرت علیؓ سے ان کی ملاقات ہوئی اور کبھی کبھی ان کو تعائف بھیجا کرتے تھے۔ان کے بیٹے ثابت امام ابو حنیفہ کے والد بھی کوفے میں تجارت کرتے تھے۔امام نے اپنی روایت ہے کہ انہوں نے ابتدائً ً قرآن، حدیث، نحو،ادب، کلام وغیرہ ،تمام علوم کا مطالعہ کیا۔ بعد میں علم کلام میں اختصاص پیدا کیااور اس میں کافی ترقی کی۔امام خود کہتے ہیں کہ علم کلام میں انہیں مہارت تھی۔بعد میں امام نے قانون میں منطق استدلال اورعقل کے استعمال میں کمال پیدا کیا۔ بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں شہرت حاصل کی۔لیکن کافی مدت تک ان کلامی جھگڑوں اور مجادلوں سے دل بیزار ہو گیا۔ پھر انہوں نے فقہ یعنی اسلامی قانون کی طرف توجہ کی۔ عراق کی اصحاب الرائے کا مرکز اس وقت کوفہ تھا۔ امام اسی مدرسہ سے وابسطہ ہو گئے۔اس مدرسہ فکر کی ابتداءحضرت علیؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ان دونوں کے بعد ان کے شاگرد شریع، جن کو حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں قاضی بنایا تھا، جو اُس وقت سے قاضی کے فرائض انجام دے رہے تھے سے علم حاصل کیا۔ علقمہ اور مسروق سے علم بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد ابراھیم نخعی اوران کے بعد حماد تک ان کی امامت پہنچی۔ حماد کی شاگردگی میں18سال گزارے۔ اس کے علاوہ حج کے موقہ پرحجاز جا کر فقہ اور حدیث کے دوسرے اکابر اہل علم بھی استفادہ کرتے رہے۔ 120ھ میں جب اس کے استاد حماد کا انتقال ہواتواس مدرسہ فکر کر کے شاگردوں نے بالاتفاق امام ابو حنیفہ کو ان کا جانشین بنایا۔ اس منصب پر امام نے اس مسند پر30سال تک درس و تدریس اور افتاءکا وہ لافانی کام انہوں نے انجام دیا جو آج مذہب حنفی کی بنیاد ہے۔ اس30سال کی مدت میں امام ابوحنیفہ نے 60ہزار اور بقول بعض 83ہزار قانونی مسائل کے جوابات دیے جو ان کی زندگی ہی میں الگ الگ عنوانات کے تحت مرتب کر دیئے گئے۔ سات آٹھ سو کی تعدادمیں ایسے شاگرد تیار کیے جو دنیائےِ اسلام کے مختلف علاقوں میں پہنچ کردرس و تدریس افتاءکے مسند نشین اورعوام کی عقیدتوں کے مرکزبن گئے۔ ان کے شاگردوں میں پچاس کے قریب ایسے آدمی نکلے جو ان کے بعد سلطنت عباسیہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ ان کا مذہب اسلامی دنیا کے بڑے حصے کاقانون بن گیا ۔وہی قانون یعنی فقہ حنفی عباسیوں، سلجوقیوں، عثمانیوں اور مغل سلطنتوں کا قانون تھا، اور آج چین سے لے ترکی تک کے کروڑوںمسلمان اسی کی پیروی کرتے ہیں۔معاش کے اعتبار امام نے اپنا آبائی پیشہ تجارت ہیں ہی اختیارکیا۔ کوفہ میں وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ان کا اپنا ایک کپڑے کا کارخانہ تھا۔ان کا مال کوفہ کے علاوہ دور دارز تک جاتا تھا۔لوگوں کا ان کی تجارت پر اتنا اعتماد تھا کہ لوگ اپنے پیسے ان کی تجارت میں انوسٹمنٹ کرتے تھے۔ لوگ ان کے پاس امانتیں جمع کراتے تھے۔ان کی وفات پر پانچ کروڑو درہم کی امانتیں ان کے پاس جمع تھیں۔مالی تجارتی معاملات کے متعلق اس وسیع تجربے نے ان کے اندر قانون کے بہت بڑے شعبوں میں وہ بصیرت پیدا کر دی تھی جو صرف علمی حیثیت سے قانون جاننے والوں کے نصیب نہیں ہوتی۔امام اپنی شخصی زندگی میں انتہائی پرہیز گار آدمی تھے۔ ایک دفعہ اپنے ایک شریک تاجر کو مال دے کر کہا کہ فروخت کرتے وقت خریددار کو بتانا کہ اس مال کا اتنا حصہ عیب دار ہے۔ شریک تاجر مال فروخت کرتے وقت یہ بتانا بھول گئے۔ امام نے اس مال کی پوری قیمت جو 35ہزار درم تھی خیرات کر دی۔امام ابو یوسفؒ کے گھر کا پورا خرچہ خود برادشت کرتے تھے۔انہوں نے شیعہ ، خوارج،مرحبہ¾ اور معتزلہ کے اُس دور میں اُٹھائے گئے مسائل کے خلاف قلم اُٹھایا۔ انہوں نے عقید ہ اہل سنت کی توضیع کی۔ امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ”الفقة الاکبر“ لکھ کر ان مذہبی فرقوں کے مقابلہ میں عقیدہ اہل السنت والجماعت کو ثبت کیا۔ رسول اللہ کے بعد الفضل الناس ابو بکر صدیقؓہیں، پھر عمرؓ، پھر عثمانؓ، پھر علیؓہیں۔کہا ”ہم صحابہؓ کا ذکر بھلائی کے سوا اور کسی طرح نہیں کرتے“۔ ایمان کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں”ایمان نام ہے اقرار اور تصدیق کا“ گناہ اور کفر کا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں” ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ کی بنا پر، خواہ وہ کیسا ہی بڑا گناہ گار ہو، کافر نہیں قرار دیتے جب تک وہ اس کے حلال ہونے کا قائل نہ ہو۔ ہم اس سے ایمان کا نام سلب نہیں کرتے بلکہ اسے حقیقتاً مومن قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نذدیک ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک مومن شخص فاسق ہو اور کافر نہ ہو“۔” ہم مرحبہ¾ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہماری نیکیاں ضرور مقبول اور ہماری بُرائیاں ضرور معاف ہو جائیں گی“اس طرح امام ابو حنیفہؒ نے شیعہ، و خوارج اور متعزلہ و مرجہ¾ کی انتہائی آرٰءکے درمیان ایک ایسا متوازن عقیدہ پیش کیا جو مسلم معاشرے کو انتشار اور باہمی تصادم و منافرفت سے بھی بچاتا ہے اور اس کے افراد کو اخلاقی بے قیدی اور گناہوں پر جسارت سے بھی روکتا ہے۔ امام نے قانونِ اسلامی کی تدوین کی، اور اس کے لیے شاگرد تیار کیے۔ اپنے شاگردوں کے بارے خود بتایا کہ ان کے 36شاگردوں میں 28 قاضی ہونے کے لائق ہیں،6 فتویٰ دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اور2 اس درجے کے آدمی ہیں کہ قاضی اور مفتی تیار کر سکتے ہیں۔خلافت کے بارے امام کا کہنا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی نظریہ ہو حاکمیت اللہ کی ہے۔خلافت کا صحیح طریقہ وہ ہے جو اہل الرائے کے اجتماع اور مشورے سے ہو۔فاسق اور ظالم کی امامت بارے کہتے ہیںکہ مومنوں میں سے نیک وبد کے پیچھے نماز جائز ہے۔اُس وقت کے حالات کے مطابق خلافت قریش کی مانتے تھے۔بیت المال عوام کا ہے نہ کہ خلیفہ کا۔ خلیفہ منصور کا عدیہ یہ کہ کر واپس کر دیا کہ آپ کا مال نہیں بلکہ عوام کا مال ہے۔خلیفہ منصور نے قاضی کا عہدہ پیش کیا تو انکار کیا جس پر امام کو 30 کوڑتے مار کر لہو لہان کر دیا۔ امام نے وصیت کی تھی کہ بغداد کے اس حصہ میں مجھے دفن نہ کرنا جو عوام کا مال سلب کر بنایا گیا ہے۔ امام عدلیہ کی انتظامیہ سے کلی آزادی کا کہتے تھے۔عوام کا آزادی اظہار کا حق تسلیم کرتے تھے۔ظالم حکومت کے خلاف خروج مانتے تھے۔عباسی دور میںزید بن علی اورنفس زکیہ کے خروج کی حمایت کی تھی۔جیسا کہ اُوپر بیان کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے شیعہ، و خوارج اور متعزلہ و مرجہ¾ کی انتہائی آرٰءکے درمیان ایک ایسا متوازن عقیدہ پیش کیا جو مسلم معاشرے کو انتشار اور باہمی تصادم و منافرفت سے بھی بچاتا ہے اور اس کے افراد کو اخلاقی بے قیدی اور گناہوں پر جسارت سے بھی روکتا ہے۔
٭٭٭٭٭
کالم
امام ابو حنیفہ ؒ کے کارنامے
- by web desk
- جنوری 13, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 2785 Views
- 2 سال ago

