انسانی حقوق کے حوالے سے محض زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے بہت بہتر ہوگا کہ اس اہم ایشو کے پس پردہ محرکات اور عوامل کا باغور جائزہ لیا جائے، مثلا تاریخی طور پر ہیومن رائٹس بارے قوانین دوسری جنگ عظیم کے بعد عمل میں لائے گی،یاد رہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق 30 دفعات پر مشتمل ہے جن کو بنیاد بنا کر اب تک 80 سے زائد معاہدے کیے جاچکے ہیں۔ انسانی حقوق کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں رنگ ، نسل ، زبان اور مذہب سے قطع نظر ہر کسی کے لیے یکساں سلوک اور برابری کا مطالبہ کیا جاتا ہے ، اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بیداری پیدا کی جائے تاکہ دقیانوسی خیالات یا نظریات کا خاتمہ ممکن ہوسکے، سمجھ لینا چاہے کہ انسانی حقوق عالمیگر اور ناقابل انتقال ہیں ، بنیادی انسانی حقوق میں صحت اور تعلیم کا حق کلیدی اہمیت کا حامل ہے تاکہ ہر شخص بہتر سہولیات سے مستفید ہوسکے ، انسانی حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ کراہ ارض پر بسنے والے ہر شخص کو ووٹ کا حق حاصل ہے ، صاف پانی کی دسیتابی بھی بنیادی انسانی حقوق کا خاصہ ہے، ماہرین کے مطابق پیچیدہ عالمی مسائل کا حل مختلف ملکوں میں پائے جانیوالے چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹ کر ممکن بنایا جاسکتا ہے، مثلا ًکسی ایک علاقے میں صنفی امتیاز اور غربت پر قابو پانا کراہ ارض پر مسائل کا حجم کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ، انسانی حقوق بارے عالمی قوانین ایسے ضوابط کے نفاز میں معاون بن سکتے ہیں جو مجموعی انسانی ترقی کے لیے لازم ہے، جن ریاستوں نے انسانی حقوق بارے عالمی معاہدے پر دستخط کررکھے ہیں ان کی زمہ داری ہے کہ وہ ان پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کی کوشش جاری رکھیں ، وطن عزیز میں انسانی حقوق کی صورت حال بارے ایک سے زائد آرا موجود ہیں مگر حوصلہ افزا یہ ہے کہ پاکستانی عوام کا شعور بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے ، وطن عزیز میں معاشی انصاف، خواتین کو درپیش چیلنجز اور اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک یقینا ہم سے مثبت کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے، پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا ، دو قومی نظریے کا تقاضا ہے کہ ہمارے ہاں نہ صرف کروڈوں مسلمانوں کی زندگیوں میں خوشحالی لانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو بلکہ یہاں بسنے والی اقلیتوں کے صبح وشام کو بہتر بنایا جائے ، ہمارے آئین کی دفعات 8 تا 28 زندگی کے حق ، تعلیم ، صحت اور روزگار کا تحفظ یقینی بناتی ہیں ، بلاشبہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال مثالی نہیں مگر اہم یہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت سب ہی حکومتی زمہ دار تلخ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مزید کوششوں کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، مملکت خداداد میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کا ایک سادہ نسخہ یہ ہے کہ عام پاکستانی کے شعور پر توجہ مبذول کی جائے یوں لوگ جوں جوں اپنے حقوق وفرائض سے آشنا ہونگے بہتری کی صورت پیدا ہوگی ، ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وطن عزیز میں شرح خواندگی میں اضافہ کرکے ہی انسانی حقوق بارے مثالی حالت پیدا کی جاسکتی ہے، یاد رہے کہ مہذب دنیا میں انسانی حقوق کی بہتری کی نمایاں وجہ یہ ہے کہ وہاں کے شہری اپنے حقوق وفرائض سے آگاہ ہیں ان کو باخوبی علم ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنا کیا کردار ادا کرسکتے ہیں، وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی تمام تر مسائل کی زمہ داری حکومت پر عائد کرکے خود سرخرو ہونے کی کوشش کرتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ، مثلا یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ اگر میں اور آپ اپنا کام احسن انداز میں ادا کریں تو خبیر تا کراچی مملکت خداداد میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنایا جاسکتی ہے ، یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ ہمارے نظام انصاف، سرکاری ونجی تعلیمی ادارے، اہل مذہب ، دانشور حتی کی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے دائرے میں کس حد تک انسانی حقوق کی صورت حال کو درست سمت میں آگے بڑھا رہی ہیں، احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے
یوں وطن عزیز میں آج ہر عام وخاص کو اپنے حصے کی شمع جلانے کی ضرورت ہے ، کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی دن میں بہت سارے کردار ادا کرتا ہے ، مثلا کہیں وہ باپ ہے تو کہیں بیٹا ، کہیں وہ ڈرائیور ہے تو کہیں سواری ، کہیں وہ مالک ہے تو کہیں ملازم ہے ، کہیں وہ شوہر ہے تو کہیں داماد ، اس پس منظر میں اگر ہر کوئی اپنا کردار قانون اور آئین ہی نہیں بلکہ دین کے مطابق بھی سرانجام دے تو سماج میں انسانی حقوق بارے کسی کو شکایت نہ ہو ،دین کہتا ہے کہ "تم میں بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں”ایک مشہور حدیثِ نبوی ۖ واضح کرتی ہے کہ ایمان کی تکمیل اور شخصیت کی برتری کا راز بہترین اخلاق میں ہے، جس میں نرمی، معافی، صبر، اور گھر والوں سے اچھا سلوک شامل ہے، بطور مسلمان ہمارا ایمان ہونا چاہے کہ یہی چیز ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بلند مقام دلاسکتی ہے۔۔
کالم
انسانی حقوق کی بہتری میں ہمارا کردار
- by web desk
- دسمبر 16, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 289 Views
- 3 مہینے ago

