کالم

ایران امریکا کشیدگی، پاکستان کا کردار

مشرقِ وسطی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی اہمیت، اور اس کے ساتھ جڑی حالیہ خبروں نے ایک نیا بیانیہ جنم دیا ہے کہ امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی موخر کر دی، پاکستان نے ثالثی کی، اور دو ہفتے کی مہلت دے دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اس بیانیے کی حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی عالمی سفارت کاری کے پردے کے پیچھے کوئی بڑی ڈیل ہو رہی ہے یا یہ محض اطلاعاتی جنگ (information warfare) کا حصہ ہے؟سب سے پہلے بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ کبھی یہ کشیدگی اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آتی ہے، کبھی پراکسی جنگوں میں، اور کبھی براہِ راست فوجی دھمکیوں میں۔ تاہم مکمل جنگ سے دونوں فریق ہمیشہ گریز کرتے رہے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دینگے۔ حالیہ دنوں میں دو ہفتے کی مہلت اور پاکستانی ثالثی کا بیانیہ خاصا زیرِ بحث رہا لیکن جب اس دعوے کو صحافتی اصولوں کے مطابق جانچا جائے تو ایک اہم خلا سامنے آتا ہے، اس کی تصدیق کسی مستند عالمی ذریعے سے نہیں ہوتی۔ نہ ہی کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے واضح طور پر اس نوعیت کی کسی ڈیل کی توثیق کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سنجیدہ صحافی کو خبر اور بیانیے میں فرق کرنا پڑتا ہے۔پاکستان کا کردار بھی اس تناظر میں دلچسپ ہے۔ پاکستان ماضی میں کئی حساس معاملات میں پسِ پردہ سفارت کاری کرتا رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ہو یا افغانستان کا معاملہ، پاکستان نے ہمیشہ ایک bridge state کے طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر اسے ایک فیصلہ کن اور نتیجہ خیز ثالثی قرار دینا فی الحال قبل از وقت ہے۔اس ساری بحث میں سب سے اہم جغرافیائی نکتہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران ماضی میں کئی بار اس راستے کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دیتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو ہفتے کی مہلت جیسی خبر کیا ہے؟ اس کا جواب جدید میڈیا کے ماحول میں چھپا ہے۔ آج کا دور صرف جنگوں کا نہیں بلکہ بیانیوں کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا، غیر مصدقہ ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز اکثر ادھوری معلومات کو بریکنگ نیوز کے انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے ایک ایسا تاثر بنتا ہے جو حقیقت سے زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ایک مدبرانہ تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک غیر اعلانیہ توازن بھی قائم ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو پیغام دیتے ہیں، دباؤ ڈالتے ہیں، مگر اس حد کو عبور نہیں کرتے جہاں سے واپسی ممکن نہ رہے۔ اس تناظر میں کسی بھی حتمی جنگ یا بڑی ڈیل کی خبر کو انتہائی احتیاط سے پرکھنا ضروری ہے۔آخر میں، بطور صحافی اور کالم نگار، اصل ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ ہم خبر اور بیانیے کے درمیان فرق کو واضح کریں۔ عوام کو وہی بتایا جائے جو مصدقہ ہو، نہ کہ وہ جو سنسنی خیز ہو کیونکہ آج کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت صرف ہتھیار نہیں بلکہ معلومات کی سچائی ہے۔یہی سچائی صحافت کی اصل روح ہیاور اسی پر اس کا وقار قائم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے