کالم

بیانیوں کی چمک اور زمینی حقیقتوں کی دھند

پاکستان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے تضاد کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں اوپر کی سطح پر کامیابیوں، سفارتی پیشرفت اور بہتر ہوتے ہوئے قومی تاثر کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ اندرونی سطح پر عام شہری کی زندگی بنیادی مسائل کے بوجھ تلے مزید دبتی جا رہی ہے۔ یہ وہ فاصلہ ہے جو محض سیاسی بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی خلیج میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک فعال، باوقار اور موثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، تو دوسری طرف یہی ملک اپنے اندر ایسے سنگین معاشی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے جن کا براہِ راست تعلق عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے ہے ۔ بنیادی ضروریات، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سیاسی استحکام، سیاسی کشمکش اور مہنگائی جیسے مسائل اب وقتی مشکلات نہیں رہے بلکہ مستقل دباؤ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بنیادی ضروریات کی بات کی جائے تو آج کا پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں خوراک، پانی، بجلی اور گیس جیسی سہولیات محض ریاستی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کیلئے ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہیں۔ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے اشیائے خوردونوش کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں اور تیل جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں، مگر مجموعی رجحان ہمیشہ اوپر کی طرف ہی جاتا ہے۔ نتیجتاً متوسط طبقہ، جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، شدید دباؤ میں ہے اور اس کی معاشی سانسیں تنگ ہوتی جا رہی ہیں۔ پانی اور توانائی کا بحران بھی کسی وقتی مسئلے کے بجائے ایک مستقل حقیقت بن چکا ہے۔ کئی علاقوں میں صاف پانی تک رسائی ایک چیلنج ہے، جبکہ گیس کی قلت سردیوں میں اور بجلی کی بندش گرمیوں میں معمول بن جاتی ہے۔ یہ مسائل صرف سہولتوں کی کمی نہیں بلکہ معیارِ زندگی کے گہرے زوال کی علامت ہیں، جہاں شہری ریاست سے بنیادی سہولت نہیں بلکہ ایک مستقل جنگ لڑ رہا ہے۔ ان حالات میں انسانی حقوق اور انصاف کا سوال اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انصاف کے نظام میں تاخیر اور پیچیدگی ایک عام شکایت ہے، جہاں مقدمات برسوں تک چلتے رہتے ہیں اور فیصلے اکثر وقت کے ساتھ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو وہ انصاف نہیں رہتا بلکہ ایک مسلسل انتظار اور ذہنی اذیت بن جاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی اور غیر سیاسی مقدمات میں تاخیر، گرفتاریوں اور قانونی عمل کی غیر یقینی صورتحال بھی عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ قانون کی رفتار اور اس کا اطلاق یکساں نہیں۔ روزگار کے میدان میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر ان کیلئے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں مگر مارکیٹ ان کے لیے مناسب گنجائش پیدا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ نتیجتاً بے روزگاری، غیر یقینی ملازمتیں اور بیرون ملک ہجرت ایک مستقل رجحان بن چکے ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وسائل کے ضیاع کا بھی مسئلہ ہے، جو مستقبل کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی اسی عدم توازن کا شکار ہیں۔ آئے روز تعلیمی اداروں کو بند اور بچوں کی تعلیم کو ایک بیکار سا معاملہ سمجھ کر انداز کر دیا جاتا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار، وسائل اور جدید تقاضوں کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے، جسکی وجہ سے معاشرے میں تعلیمی تفاوت بڑھتا جا رہا ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ نجی اداروں کی طرف چلے جاتے ہیں جبکہ بڑی آبادی محدود وسائل کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں رش، وسائل کی کمی اور علاج کے لیے طویل انتظار ایک عام تجربہ ہے، جبکہ پرائیویٹ شعبہ مہنگا ہونے کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ یوں صحت ایک بنیادی حق کے بجائے ایک مالی مسئلہ بن جاتی ہے، جو براہِ راست انسانی زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔ ان تمام مسائل کی جڑ میں مہنگائی کا مسلسل بڑھتا ہوا دبا ہے۔ مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی رجحان ہے جو ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ جب آمدنی اور اخراجات کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے تو صرف معیشت نہیں بلکہ پورا سماجی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ فاصلہ ذہنی دبا، سماجی بے چینی اور اداروں پر عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ اسی پورے منظرنامے میں سب سے کمزور مگر سب سے اہم پہلو سیاسی عدم استحکام ہے۔ حکومتوں کی بار بار تبدیلی، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، ادارہ جاتی کشمکش، سیاسی کشمکش اور طاقت کے مراکز کے درمیان کھینچا تانی نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں طویل المدتی منصوبہ بندی تقریبا ناممکن ہو جاتی ہے۔ سیاسی کشمکش اب صرف انتخابی یا پارلیمانی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عدالتی عمل تک پھیل چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سطح پر عدم اعتماد اور ٹکرا کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس مسلسل کھینچا تانی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ پالیسی سازی وقتی ردعمل میں بدل گئی ہے۔ ہر نئی حکومت یا طاقت کا نیا مرکز پچھلے فیصلوں کو یا تو تبدیل کر دیتا ہے یا ان سے فاصلہ اختیار کر لیتا ہے، جس سے تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کا اعتماد متاثر ہوتا ہے، معاشی فیصلے غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں اور ریاستی توجہ فوری سیاسی برتری کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی کشمکش مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں ادارے اپنی اصل سمت سے ہٹ کر دفاعی انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔ اس سے انتظامی مشینری کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور عام شہری کے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں میڈیا اور بیانیے کا کردار بھی اہم ہے۔ اکثر اوقات قومی سطح پر ایسے موضوعات کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے جو بیرونی کامیابیوں یا بڑے سیاسی بیانیوں سے متعلق ہوتے ہیں، جبکہ اندرونی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہ عدم توازن ایک ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے جہاں عوامی مسائل اور ریاستی ترجیحات کے درمیان فرق مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی تناظر میں جب معروف کالم نگاروں اور صحافیوں کی تحریری سرگرمیوں میں کمی یا ان کے اخبارات سے رخصتی کی خبریں سامنے آتی ہیں تو یہ صرف ایک فرد کا فیصلہ نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے فکری ماحول کی تبدیلی کی علامت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لکھنے والے برسوں تک ریاست، سیاست اور معاشرے کے مختلف پہلوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی فکری مکالمے کو زندہ رکھتی ہے، چاہے ان سے اتفاق ہو یا اختلاف۔ ان کی خاموشی یا رخصتی اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ کیا معاشرے میں سوال کرنے کی گنجائش کم ہو رہی ہے یا صرف اس کی شکل بدل رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ریاست محض سفارتی کامیابیوں یا بیرونی تاثر سے مستحکم نہیں ہوتی۔ ریاستوں کی اصل طاقت ان کے اندرونی استحکام، انصاف کے نظام کی شفافیت، شہریوں کے حقوق کے تحفظ، سیاسی تسلسل اور معاشی انصاف میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب تک عام شہری کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی، اسے بروقت انصاف ملے گا، اسے روزگار اور صحت کی سہولتیں میسر ہوں گی اور سیاسی نظام مسلسل اور غیر متزلزل انداز میں کام کرے گا، تب تک کسی بھی بیرونی کامیابی کی بنیاد کمزور رہتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے بیانیوں سے آگے بڑھ کر زمینی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان ہی معاشروں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی مشکلات کو صرف تسلیم نہیں کرتے بلکہ انہیں حل کرنے کی عملی، مستقل اور غیر جذباتی کوشش بھی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے