کالم

جنگ، مزاحمت، یوٹرنز اور سفارتکاری!

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور پندرہ روزہ جنگ بندی تک پہنچنے والا یہ بحران محض ایک علاقائی تصادم نہیں بلکہ عالمی طاقتوں، معاشی مفادات، بحری راستوں اور سیاسی بیانیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس جنگ کی ابتداء سے سیز فائر تک کے مراحل کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں، یہ جنگ کیوں شروع ہوئی، اس سے کس نے کیا حاصل کیا، اور اصل میں نقصان کس کا ہوا؟پورے چالیس دن تک جاری رہنے والی یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا اور ایران پر حملہ کر دیا اور اس جنگ کے جو ہولناک نتائج سامنے ئے وہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے بارہا یہ مؤقف اپنایا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ اسرائیل، جو ایران کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے، اس بیانیے میں پیش پیش رہا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ کیا جنگ واقعی ناگزیر تھی یا یہ دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمت عملی تھی۔ ابتدائی دنوں میں یہ تاثر دیا گیا کہ ایران کو جلد پسپائی اختیار کرنا پڑے گی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ثابت ہوئے۔ ایران نے غیر متوقع مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف دفاعی سطح پر خود کو منوایا بلکہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ کر عالمی توجہ حاصل کی۔ یہ وہ حساس بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اگر ایران واقعی کمزور ہو چکا تھا تو اس کا اس اہم راستے پر کنٹرول برقرار رکھنا کئی دعوؤں کی نفی کرتا ہے ۔اس جنگ کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات بھی سنگین رہے۔ ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں کا شکار تھی، اس جنگ نے اس پر مزید دباؤ ڈالا۔ دوسری جانب اسرائیل کو سکیورٹی خدشات اور معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ امریکہ کو بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات اور عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس جنگ نے امریکی طاقت کو بے بس کر دیا اور یہ ثابت ہوا کہ امریکہ کوئی شاہکار نہیں۔عرب ممالک نے اس بحران میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا۔ کئی خلیجی ریاستیں بظاہر غیر جانبدار رہیں، تاہم سفارتی سطح پر سرگرمیاں جاری رہیں۔ان ممالک کی معیشتیں، جو بڑی حد تک تیل پر انحصار کرتی ہیں، اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوئیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بحری راستوں کے خطرات نے ان کے اقتصادی مفادات کو متاثر کیا اور یہ حقیقت بھی سامنے ئی کہ اربوں ڈالر امریکہ عرب ممالک سے ان کی دفاع اور سیکورٹی کے نام پر لیتا ہے مگر وہ سب بے کار گیا۔ اگر چہ بظاہر چین اور روس نے براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سفارتی توازن برقرار رکھا، تاہم ایران کے مؤقف کی نرم حمایت جاری رکھی۔ چین کے لیے توانائی کی ترسیل کا تسلسل اہم تھا، جبکہ روس نے اس صورتحال کو امریکہ کے مقابل ایک تزویراتی موقع کے طور پر دیکھا اور پس پردہ چین اور روس کا کردار بھی کلیدی رہا۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ غیر یقینی عنصر ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ عمل رہا۔ بار بار پالیسیوں میں تبدیلی، ڈیڈ لائنز کا التوا اور متضاد بیانات نے نہ صرف عالمی سطح پر تشویش پیدا کی بلکہ امریکہ کے اندر بھی مخالفت کو جنم دیا۔ کانگریس میں آوازیں اٹھیں، عوامی مظاہرے ہوئے اور خود ریپبلکن پارٹی کے اندر سے اختلاف سامنے آیا اور ان کی دماغی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے!یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بنیادی مطالبہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا تھا، تو وہ جنگ سے پہلے بھی کھلی تھی۔ پھر جنگ کیوں شروع کی گئی؟ یہی نکتہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ یہ تصادم زیادہ تر سیاسی دباؤ کا نتیجہ تھا۔جنگ کے آخری مرحلے میں ایران کے عوام کا سڑکوں پر آنا اور انسانی زنجیریں بنانا ایک غیر معمولی منظر تھا، جس نے داخلی یکجہتی کو نمایاں کیا۔ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تہذیب کو مٹانے جیسے بیانات نے بین الاقوامی اصولوں پر سوالات اٹھائے۔جنگ بندی میں پاکستان کا کردار اہم رہا، جس نے سفارتی سطح پر دونوں فریقین کو قریب لانے میں کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف جنگ بندی کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک نیا توازن بھی قائم ہو سکتا ہے۔ بظاہر یہی امکان ہے کہ دونوں فریق کسی درمیانی حل پر متفق ہوں گے۔جنگ بندی کی بنیاد ایران کے دس نکاتی منصوبے پر رکھی گئی، جس میں علاقائی تنازعات کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی اثاثوں کی واپسی اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی جیسے نکات شامل تھے۔ ان شرائط کی جزوی قبولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا پڑی۔اگر مجموعی تصویر کو دیکھا جائے تو یہ جنگ کسی واضح فتح پر ختم نہیں ہوئی، تاہم ایک حد تک ایران کی جزوی کامیابی ضرور قرار دی جا سکتی ہے۔ ایران نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی بات منوائی۔ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جنگ بندی امریکہ کے لیے ایک راستہ فراہم کر گئی، جس کے ذریعے وہ ایک طویل تنازع سے نکل سکا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر بھی ابھرا کہ امریکہ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔مجموعی طور پر یہ بحران اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معیشت، سفارتکاری اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیںاور اکثر اوقات فیصلہ کن نتائج بھی وہیں طے پاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے