کالم

زراعت کا گھٹتا سانس اور پالیسیوں کا بوجھ!

مملکت خدادپاکستان ایک زرعی ملک ہے اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، بفہ مانسہرہ میں جب رستم خان ایڈوکیٹ مرحوم کی وساطت اور چین کے تعاون سے چائے کی کاشت کا تجربہ شروع کیا گیا تو اس کے نتائج نے ماہرین زراعت کو حیران کر دیا ۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس خطے کی مٹی، موسم اور آب و ہوا دنیا کے بہترین معیار کی چائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی کامیابی کے بعد شنکیاری مانسہرہ میں نیشنل ٹی ریسرچ سنٹر قائم کیا گیا تاکہ پاکستان چائے کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر سکے اور اربوں روپے کی درآمدات کا بوجھ کم ہو۔ مگر افسوس کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ ادارہ آج بھی اپنی حقیقی افادیت ثابت نہیں کر سکا۔ فائلیں چلتی رہیں، اجلاس ہوتے رہے، رپورٹس بنتی رہیں مگر عملی میدان میں کسان کو نہ مناسب رہنمائی ملی، نہ حکومتی سرپرستی اور نہ ہی وہ زرعی انقلاب آیا جسکے خواب دکھائے گئے تھے۔یہ صرف چائے کے ایک منصوبے کی ناکامی نہیں بلکہ پاکستان کے پورے زرعی ڈھانچے کی ایک واضح تصویر ہے جہاں وسائل، زمین اور صلاحیت ہونے کے باوجود بدانتظامی، بیوروکریسی اور ناقص پالیسیوں نے ترقی کا راستہ روک رکھا ہے، جب سے ہمیں یاد ادارہ تو موجود مگر ترقی معکوس۔پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی شعبہ کروڑوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، صنعتوں کو خام مال فراہم کرتا ہے اور ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے سب سے زیادہ نظر انداز بھی یہی شعبہ کیا گیا۔ آج کسان صرف موسموں سے نہیں لڑ رہا بلکہ حکومتی بے حسی، مہنگائی، پانی کی قلت، ناقص زرعی نظام، جعلی ادویات اور ظالمانہ ٹیکسوں سے بھی نبرد آزما ہے۔ شہروں میں بیٹھے افسران اور پالیسی ساز جب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ زراعت ترقی کیوں نہیں کر رہی یا کسان ٹیکس کیوں نہیں دیتے تو شاید وہ کبھی کھیتوں کی حقیقت دیکھنے نہیں گئے۔کسان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ کئی علاقوں میں نہریں بند ہیں، کہیں پانی کی شدید قلت ہے اور کہیں بااثر افراد پانی کا رخ اپنی زمینوں کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ فصلیں پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ جاتی ہیں اور کسان سارا سال کی محنت اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھتا رہ جاتا ہے۔ جب نہری پانی دستیاب نہیں ہوتا تو کسان ٹیوب ویل چلاتا ہے مگر بجلی کے نرخ اس حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کہ ٹیوب ویل چلانا چھوٹے اور متوسط کسان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کے بجلی بل آ رہے ہیں۔ کسان اگر بجلی چھوڑ کر ڈیزل انجن چلانا چاہے تو وہاں ڈیزل کی قیمتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کسان پانی حاصل کرنے کیلئے ہی اپنی آدھی آمدنی خرچ کر دیتا ہے۔زرعی مشینری کے اخراجات بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ چند سال پہلے تک ٹریکٹر کا کرایہ دو ہزار روپے فی گھنٹہ تھا مگر اب ساڑھے تین ہزار روپے فی گھنٹہ تک پہنچ چکا ہے۔ زمین کی تیاری، ہل چلانا، بیج بونا، سپرے کرنا اور فصل کاٹنا ہر مرحلہ مہنگا ہو چکا ہے۔ زرعی آلات کے پرزہ جات درآمدی ہونے کی وجہ سے مہنگے ہو گئے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر ریلیف موجود نہیں۔ چھوٹا کسان ہر فصل کے بعد قرض میں مزید ڈوب جاتا ہے۔ کئی کسان تو ایسے ہیں جو صرف لاگت پوری کرنے کیلئے فصل اگاتے ہیں مگر منافع ان کے حصے میں نہیں آتا۔کھاد کی بلیک مارکیٹنگ ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی کھادیں اکثر سرکاری نرخوں پر دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔ فصل کے اہم دنوں میں کھاد مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے اور پھر بلیک میں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے۔ کسان اپنی فصل بچانے کے لیے مجبوراََ مہنگی کھاد خریدتا ہے کیونکہ اگر وقت پر کھاد نہ ملے تو پوری فصل متاثر ہو جاتی ہے۔ حکومت ہر سال کھاد بحران ختم کرنے کے دعوے کرتی ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کھاد مافیا آج بھی پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔زرعی ادویات کا مسئلہ تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مارکیٹ میں جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کی بھرمار ہے۔ کسان اپنی جمع پونجی خرچ کر کے دوائیں خریدتا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ دوا جعلی تھی یا مطلوبہ معیار کی نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فصل بیماریوں اور کیڑوں سے تباہ ہو جاتی ہے۔ کسان کو مالی نقصان ہوتا ہے جبکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دیہی علاقوں میں زرعی افسران کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ایک اور بڑا مسئلہ حکومتی ٹیکس پالیسی ہے۔ کسان پہلے ہی خسارے میں جا رہا ہے مگر اس پر زرعی انکم ٹیکس، لینڈ ٹیکس، مالیہ، آبیانہ اور مختلف مقامی ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو کسان اپنی فصل کی لاگت پوری نہیں کر پا رہا، وہ اضافی ٹیکس کہاں سے ادا کرے؟ سرکاری افسران صرف فائلوں اور اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں جبکہ کھیت میں کام کرنے والے کسان کی عملی مشکلات ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہوتیں۔پاکستان میں زرعی پالیسیوں کا ایک بڑا مسئلہ عدم تسلسل بھی ہے۔ ہر نئی حکومت آتے ہی پرانی پالیسیوں کو ختم کر دیتی ہے اور نئے اعلانات شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی گندم بحران پیدا ہوتا ہے، کبھی چینی بحران سامنے آ جاتا ہے اور کبھی کپاس کے کاشتکار تباہ ہو جاتے ہیں۔ کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملتی جبکہ مڈل مین اور ذخیرہ اندوز اربوں روپے کما لیتے ہیں۔ منڈیوں کا نظام آج بھی پرانے استحصالی ڈھانچے پر قائم ہے جہاں سب سے کمزور فریق کسان ہی ہوتا ہے۔دنیا بھر میں زراعت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی کر رہی ہے۔ ڈرپ ایریگیشن، جدید بیج، موسمی پیشگوئی، سمارٹ فارمنگ اور جدید زرعی مشینری کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کیا جا رہا ہے مگر پاکستان کا کسان آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ زرعی تحقیقاتی ادارے اور یونیورسٹیاں موجود ہیں مگر ان کی تحقیق کھیتوں تک منتقل نہیں ہو پاتی۔ شنکیاری کا نیشنل ٹی ریسرچ سنٹر بھی اسی المیے کی ایک مثال ہے جہاں امکانات بہت تھے مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔حکومتیں اکثر زرعی شعبے کو سیاسی نعروں کیلئے استعمال کرتی ہیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ صنعتکاروں کو مراعات ملتی ہیں، بڑے سرمایہ کاروں کو آسان قرضے دیے جاتے ہیں مگر کسان آج بھی بینکوں کے چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ چھوٹے کسان کیلئے قرض حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ کاغذی کارروائی، سفارش اور رشوت کے بغیر مالی مدد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسان نجی ساہو کاروں کے جال میں پھنس جاتا ہے جہاں سود کا بوجھ اسے مزید تباہ کر دیتا ہے۔یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ کسان ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو سہولتیں دیتے ہیں، سبسڈی دیتے ہیں، سستی بجلی فراہم کرتے ہیں اور فصلوں کی مناسب قیمت یقینی بناتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسان کمزور ہو گیا تو ملک کی غذائی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔امریکہ، چین، بھارت اور یورپی ممالک اپنے زرعی شعبے پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں کسان کو سہولت دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ جب کسان اپنی بنیادی لاگت پوری نہیں کر پا رہا تو وہ ٹیکس کہاں سے ادا کرے گا؟پاکستان کا کسان صرف معاشی مشکلات کا شکار نہیں بلکہ شدید ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہے۔ مسلسل نقصان، قرضوں کا بوجھ، فصلوں کی تباہی اور حکومتی بے حسی نے دیہی معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی کسان زمینیں بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ نئی نسل زراعت چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہی ہے کیونکہ انہیں اس شعبے میں مستقبل نظر نہیں آتا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت زرعی شعبے کو محض تقریروں اور نمائشی پالیسیوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ نہری نظام کی بہتری، بجلی اور ڈیزل پر سبسڈی، کھاد اور ادویات مافیا کے خلاف سخت کارروائی، زرعی مشینری پر ریلیف، سستے قرضے، جدید زرعی تحقیق اور فصلوں کی مناسب قیمت یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسان کو بوجھ نہیں بلکہ قومی معیشت کا محافظ سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ آج بھی وقت ہے کہ حکمران طبقہ دیہی پاکستان کی آواز سنے۔ کسان خیرات نہیں مانگتا بلکہ صرف وہ سہولتیں چاہتا ہے جو دنیا بھر کے کسانوں کو دی جاتی ہیں۔ وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے، اپنی زمین سے محبت کرتا ہے اور اپنے بچوں کا بہتر مستقبل دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر ریاست نے اب بھی زراعت کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے وقت میں اس غفلت کی قیمت صرف کسان نہیں بلکہ پورا ملک ادا کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے