کالم

یہودی انبیاکے قاتل

الحمد اللہ ،راقم کا کئی عشروں سے معمول ہے کہ فجر کی نماز کے بعد قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلہ علیہ وسلم کا روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ کرتا ہوں۔قرآن کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن اور ساتھ میں تقابلی مطالعہ میں دیگر تفاسیر ہوتیں ہیں۔حدیث شریف میں صحاح ستہ ، تفہیم الحدیث اور حدیث کی دیگرکتب ہوتی ہیں۔ میرا یہ بھی معمول ہے قرآن شریف کے مطالعہ کے دوران جس مضمون کو عصری تقاضوں کے قریب سمجھتا، اس پر مضمون پر لکھ کر عوام میں ابلاغ کے لیے اخبارات میں شائع ہونے کے لیے ای میل کر دیتا ہوں۔ اسی طرح صحاح ستہ کی جس کتاب کا مطالعہ پورا ہوتا، اس پر بھی تعارفی مضمون لکھ کر اخبارات کو ای میل کرتا رہا ہوں۔ اخبارات میں شائع شدہ قرآن و حدیث پر مضمامین کو اکٹھا کر کے، اُنہیں کتابی شکل میں ترتیب دے کرکتاب” دین اسلام اور ہم”،بنیادی تاریخی جائزہ شایع کی۔ ایک اور کتاب” اسرائیل پاکستان کا ازلی دشمن” کا مسودہ تیار کر رہا ہوں۔ قرآن کے مطالعہ میں آج سورة البقرة کے رکوع(٧)کی آیت (٦١)کے آخری حصہ میں بنی اسرائیل کے انبیا کو قتل کرنے کی تفصیل ہے۔ اسی پر آج مضمون لکھ رہا ہوںتا کہ اس کو کتاب میں شامل کرلوں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کی سورة البقرة میں یہودیوںپر اپنی مہربانیوں اور یہودیوں کی ناشکری کے واقعات بیان کرتے ہوئے آیات (٦١) کے آخری حصہ میں فرماتا ہے” یہ نتیجہ تھا اِس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے”۔مولانا سید ابوالا اعلیٰ موددی نے اس کی تشریع کرتے ہوئے حاشیہ نمبر ٧٩ میں ان ہی کی مذہبی کتب سے تفصیل بیان کی ہے۔ مولانا مودودی لکھتے ہیںبنی اسرائیل نے اپنے اس جرم کو اپنی تاریخ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر ہم بائبل سے چند واقعات نقل کرتے ہیں۔ا۔حضرت سلیمان کے بعد بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہوکو دو ریاستوں(یوروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت،اسرائیل)میں بٹ گئی تو ان میں باہم لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور نوبت یہاں تک آئی کہ یہودیہ کی سلطنت نے اپنی ہی بھائیوں کے خلاف دِمشق کی ارامی سلطنت سے مدد مانگی۔اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی نے یہودیہ کے فرماں ”رو آسا” کو سخت تنبیہ کی۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کوقبول کرنے کے بجائے خدا کے پیغمبر کو جیل بھیج دیا(تواریخ، باب ١٦،آیت ٧۔١٠)۔٢۔حضڑت الیاس(ایلیاہElliah) نے جب بعل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور ازسرِ نو توحید کی دعوت کا صورپھونکنا شروع کیا توسامریہ کا اسرائیلی بادشاہ” اَخی اَب” اپنی مشرک بیوی کی خاطر ہاتھ دھوکر ان کی جان کے پیچھے پڑ گیا، حتیٰ کہ انھیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دُعا حضرت الیاس نے مانگی ہے، اُس کے الفاظ یہ ہیں” بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کر دیا۔۔۔۔۔ تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں اکیلا بچا ہوں، سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں”۔(١۔ سلاطین، باب ١٩، آیت١٠)۔٣۔ایک نبی حضرت میکایاہ کو اسی ”اخی اب” نے حق گوئی کے جرم میںجیل بھیجا اورحکم دیا کہ اس شخص کومصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا ۔ (سلاطین،باب،٢٢،آیت٢٦۔٢٧)۔٤۔پھرجب یہودیہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور” زکریاہ” نبی اس کے خلاف آواز بلند کی، توشاہِ یہودہ” یو آس” کے حکم سے انھیں عین ہیکل سلیمانی میں”مقدس” اور”قربان گاہ” کے درمیان سنگسار کر دیا گیا ۔ (٢۔تواریخ،باب٢٤، آیت ٢١)۔٥۔اس کے بعد جب سامریہ کی اسرائیل اشوریوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی اور یروشلم کی یہودی ریاست کے سر تباہی کا طوفان تُلا کھڑا تھا، تو”یرمیاہ”نبی اپنی قوم کے زوال پر ماتم کرنے اُٹھے اور کوچے کوچے انھوں نے پکارنا شروع کیا کہ سنبھل جائو، ورنہ تمھارا انجام سامریہ سے بھی بدتر ہو گا۔ مگر قوم کی طرف سے جو جواب ملاوہ یہ تھا کہ ہرطرف سے ان پر لعنت کی پھٹکار کی بارش ہوئی، پیٹے گئے، قید کیے گئے، رسے سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکا دئیے گئے، تاکہ بھوک اور پیا سے وہیں سوکھ سوکھ کر مر جائیں، اوران پر الزام لگایا گیا کہ وہ قوم کے غدارہیں، بیرونی دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں ( یرمیاہ ، باب ١٥ ، آیت ١٠باب ١٨آیت ٢٠۔ ٢٣۔ باب ٢٠ ، آیت ، ١ ۔ ١٨ ،باب ٣٦ تا باب ٤٠)۔٦۔ایک اور نبی حضرت” عاموس” کے متعلق لکھا کہ جب انھوںنے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمرائیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے بُرے انجام سے خبردار کیا، تو انھیں نوٹس دیا گیاکہ ملک سے نکل جائو اور باہر جا کر نبوت کرو۔(عاموس، باب،٧ ۔آیت ١٠۔١٣)۔٧۔حضرت” یحییٰ”(یوحنا) علیہ السلام نے جب ان بد اخلاقیوں کے خلاف آواز اُٹھائی جو یہودیہ کے فرمان ”روا ہیرودیس” کے دربار میں کھلم کھلا ہو رہی تھیں، تو پہلے وہ قیدکئے گئے۔(…جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے