کالم

سلانوالی میں دستک۔۔۔!

سلانوالی لاہور سے تقریباً 174کلومیٹر اور اسلام آباد سے 217کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک تاریخی قصبہ ہے۔ یہ ضلع سرگودھا کی تحصیل ہے اور اپنی تہذیب، ہنر اور زرخیزی کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اس بستی کی مٹی میں صرف فصلیں ہی نہیں اگتیں بلکہ یہاں ہنر بھی جنم لیتا ہے۔ لکڑی پر ہاتھ سے نقش و نگار، فرنیچر سازی اور آرائشی سامان کی تیاری نے اسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان دی ہے مگر یہ پہچان صرف مصنوعات کی نہیں بلکہ ان ہاتھوں کی بھی ہے جو خاموشی سے معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں ۔ ہم ایک سماجی تنظیم کی دعوت پر سلانوالی پہنچے تو محسوس ہوا کہ قصبے کی گلیاں سادہ ضرور ہیں مگر ان میں زندگی کی ایک خاص روانی موجود ہے۔ بازاروں میں لکڑی کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ مختلف دکانوں میں دستکار انتہائی نفاست سے لکڑی کے صوفے، میزیں، جیولری باکس اور آرائشی سامان تیار کر رہے تھے۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔ ہر نقش، ہر رنگ اور ہر تراش ایک تاریخ سناتا ہے۔ اس صنعت نے سلانوالی کو ملک کے دیگر علاقوں سے ممتاز کیا۔بٹوارے سے قبل سلانوالی ہندو اور سکھ آبادی کا مرکز تھا۔ بعد ازاں ہریانہ سے آنیوالے مسلمان یہاں آباد ہوئے۔ اس وجہ سے یہاں کی ثقافت میں ہریانوی روایات اور پنجابی تہذیب کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ زبان میں نرمی، میلوں کی رونق، بزرگوں کے مزارات اور مہمان نوازی یہاں کے مزاج کا حصہ ہیں۔ پیر محمد برخوردار گیلانی کا مزار عقیدت کا مرکز ہے اور سالانہ میلوں میں پورا علاقہ رنگوں سے بھر جاتا ہے ۔ اس خوبصورت ثقافتی پس منظر کے باوجود سلانوالی کے کئی نوجوان اور خواتین روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔ ہنر موجود ہے مگر سرمایہ نہیں۔ صلاحیت ہے مگر تربیت کا فقدان ہے۔ جذبہ ہے مگر مارکیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ اسی قصبے میں ایک باصلاحیت خاتون عاصمہ حیات ذہین، محنتی اور کچھ کرنے کی خواہش رکھنے والی مگر بے روزگار تھی۔ وسیب کے گھروں میں مہارت رکھنے والی کئی خواتین تھیں جو ہاتھ سے بہترین کام کر سکتی تھیں مگر ان کے پاس نہ تربیت تھی، نہ سرمایہ اور نہ ایسا پلیٹ فارم جہاں وہ اپنے ہنر کو معاشی طاقت میں بدل سکیں۔ ایک دن وہ سرگودھا گئیں جہاں ان کی ملاقات ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی سے ہوئی۔ ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی نے امریکہ سے لیڈرشپ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ معاشرتی ترقی صرف امداد سے نہیں بلکہ مقامی وسائل کو فعال بنا کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ جب عاصمہ حیات نے سلانوالی کی خواتین کی بے روزگاری اور محرومی کی بات کی تو یہ گفتگو ایک نئی سمت اختیار کر گئی ۔ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی اور تانگھ وسیب کی ٹیم نے سلانوالی کا دورہ کیا۔ انہوں نے صرف رسمی ملاقات نہیں کی بلکہ گلیوں، ورکشاپس، بازاروں اور گھروں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ خواتین کے ہاتھوں میں ہنر ہے مگر بے روزگار ہیں۔ لکڑی کا کام علاقے کی شناخت ہے مگر خواتین اس صنعت سے منسلک نہیں۔عاصمہ حیات کے ساتھ مل کرفیصلہ کیا گیا کہ خواتین کو اسی مقامی صنعت سے جوڑا جائے۔ یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں تھی بلکہ سماجی تھی۔ جب ایک عورت اپنے ہاتھ سے کماتی ہے تو گھر کا ماحول بدل جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم بہتر ہوتی ہے، صحت پر توجہ بڑھتی ہے اور فیصلہ سازی میں عورت کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ خودکفالت عزت نفس پیدا کرتی ہے۔ عزت نفس معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ سلانوالی میں خواتین اب محض گھر کی ذمہ دار نہیں بلکہ معیشت کی فعال شراکت دار بن رہی تھیں۔وسیب میں نوجوان آبادی سب سے بڑی طاقت ہے۔ نوجوان بیرروزگار رہیں تو معاشرتی مسائل بڑھتے ہیں۔ مایوسی جنم لیتی ہے، جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور ہجرت کا رجحان بڑھتا ہے۔ نوجوان اپنے شہر، قصبے یا گاں میں روزگار حاصل کریں تو معیشت مضبوط ہوتی ہے اور سماج میں استحکام آتا ہے ۔ مقامی وسائل کو فعال بنا کر بھی ترقی ممکن ہے ۔ مقامی افراد ایسے علاقوں کی نشاندہی کریں جہاں کوئی روایتی صنعت موجود ہو تو وہاں چھوٹے پیمانے پر جدید ورکشاپس قائم کی جا سکتی ہیں۔ نوجوانوں کو مشینری، ڈیزائن، آن لائن مارکیٹنگ اور برآمدی معیار کی تربیت دی جائے تو یہ صنعت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ صرف ایک قصبہ نہیں بلکہ پورا خطہ ترقی کر سکتا ہے۔آج دنیا میں ہینڈ میڈ مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ہاتھ سے تیار شدہ لکڑی کا فرنیچر اور آرائشی سامان بیرون ملک خاص پسند کیا جاتا ہے۔سلانوالی جیسے علاقوں کو ای کامرس پلیٹ فارمز، برآمدی کمپنیوں اور بین الاقوامی نمائشوں سے جوڑا جائے تو یہاں کے کاریگر عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ، آن لائن اسٹورز اور ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سکھائے جائیں تو وہ اپنے گھروں سے کاروبار کر سکتے ہیں۔زرعی اعتبار سے بھی سلانوالی خوشحال ہے۔ ملک کے ہزاروں قصبے اپنی مخصوص صنعت یا پیداوار رکھتے ہیں ۔ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ سلانوالی میں جس طرح خواتین کو لکڑی کی صنعت سے جوڑا گیا، وہ ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ خواتین کو مقامی صنعتوں سے متعلق تربیت دی جائے۔ انہیں آسان قرضے، مشینری اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔ نوجوانوں کیلئے سب سے بڑی ضرورت مواقع کی ہے۔ اکثر نوجوان صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ انہیں صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ اسکول اور کالج کی سطح پر ہنر مندی کی تعلیم دی جائے،انٹرن شپ پروگرام ہوں، مقامی صنعتوں کے ساتھ اشتراک ہو اور کاروبار شروع کرنے کیلئے بلاسود قرضے دیے جائیں تو بے روزگاری نمایاں حد تک کم ہو سکتی ہے۔ تبدیلی کسی بڑے بجٹ سے نہیں بلکہ درست سوچ سے آتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلع میں مقامی صنعتوں کا سروے کرے۔ نوجوانوں اور خواتین کی مہارت کے مطابق چھوٹے صنعتی مراکز قائم کرے۔ سماجی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کرے۔ برآمدی کمپنیوں کو ایسے علاقوں سے جوڑے۔ فنی تربیت کے ادارے قائم کرے۔ اس کے ساتھ مقامی مارکیٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ڈیزائن اور پیکجنگ کی سہولت دے۔جرائم کی ایک بڑی وجہ معاشی بے بسی ہے۔ جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار نہ پائیں تو مایوسی بڑھتی ہے۔ بعض اوقات یہی مایوسی انہیں غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔ مقامی سطح پر صنعت اور روزگار ہو تو نوجوان اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں، معاشرے سے جڑے رہتے ہیں اور تعمیری سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں۔ روزگار امن پیدا کرتا ہے۔ خودکفالت جرائم کم کرتی ہے۔ ترقی کا سفر صرف بڑے پراجیکٹس سے نہیں بلکہ ان چھوٹے پراجیکٹس سے بھی شروع ہوسکتا ہے، جہاں مقامی لوگ اپنے ہاتھوں سے خواب تراش سکتے ہیں۔ملک کی حقیقی ترقی تب ہوگی جب ہر قصبہ اپنے وسائل کے مطابق خود مختار ہو۔ جب نوجوان اپنے علاقے میں باعزت روزگار پائیں۔جب خواتین گھروں کی چار دیواری سے نکل کر معیشت کی معمار بنیں۔ جب مقامی صنعتیں عالمی منڈی سے جڑیں۔ جب حکومت، سماجی ادارے اور مقامی قیادت ایک ساتھ مل کر کام کریں۔واضح ہو کہ نیت، منصوبہ بندی اور شراکت ہو تو ایک چھوٹا قصبہ بھی بڑے خواب پورے کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے