کالم

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ماورائے عدالت قتل

مقبوضہ جموں وکشمیرمیںماورائے عدالت قتل کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ مقبوضہ علاقے میںانیس سونواسی سے اب تک سات ہزار چارسوسے زائد کشمیری بھارتی فورسز کے ہاتھوں دوران حراست یاجعلی مقابلوں میںشہید کئے جا چکے ہیں۔ بائیس اپریل دوہزارپچیس کے پہلگام حملے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے چوالیس کشمیریوں کو شہید ، اکتیس سونوے سے زائد کو گرفتار کیا جبکہ اس دوران اکاسی مکانوںکو مسمار کیاگیا۔ اس ظلم وجبر کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اپنی ریاستی دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے۔سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاجا رہا ہے جبکہ عام کشمیریوں کو جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں اور حراستی ہلاکتوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بھارت اپنے ظلم و جبر سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچل نہیں سکتا۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے گزشتہ سینتیس برسوں کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو دوران حراست جبری طور پر لاپتہ کر دیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا علاقہ مانا جاتا ہے ۔ مقبوضہ علاقہ مکمل طور پر ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے۔انیس سونواسی کے بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں جبری گمشدگیوں، تشدداور دیگر مظالم میں تیزی آئی ہے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کم از کم آٹھ ہزار بے گناہ کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کر دیا ہے۔بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں اور کشمیریوں کا ماورائے عدالت ، دوران حراست اور جعلی مقابلوں میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات بی جے پی اورآر ایس ایس کی حکومت کے انتہا پسندانہ مسلم دشمن اور کشمیر مخالف عزائم کاحصہ ہیں۔کشمیری نوجوان بھارتی فورسز اور ایجنسیوں کا خاص ہدف ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کا سراغ لگانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔بہت سی کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی گھر واپسی کی راہ تکتے تکتے اس دنیاسے رخصت ہو چکی ہیں۔مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی،پولیس اور خصوصی ٹاسک فورسزکے اہلکار غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جبر ی گمشدگیوں کے ظالمانہ عمل کے باعث کشمیر میں اس وقت ہزاروں خواتین اور بچے ایسے ہیں جو ” نصف بیوائیں اور نصف یتیم ”کہلاتے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور” یو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوںکے قتل ، گرفتاری ، خوف و دہشت کا نشانہ بنانے اور املاک کی توڑ پھوڑ کی کھلی چھٹی حاصل ہے اور ان قوانین کی وجہ سے مجرم اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروئی عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔لاپتہ افراد کے لواحقین نے کہا کہ ان کے عزیزوں کو بھارتی فورسز اورایجنسیوں نے گھروں، گلیوں اور سڑکوں سے اٹھا کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاہے۔ سرینگر میں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ بھارت انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔مودی حکومت نے سرینگر میں” اے پی ڈی پی ” کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا احتساب کرنے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی فورسز کی حراست میں اب تک 7 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں حراست میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے بانڈی پورہ کے علاقے حاجن کے میر محلہ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور فردوس احمد میر کو بھارتی فوج کی تیرہ راشٹریہ رائفلزکے اہلکاروں نے گیارہ ستمبر کو گرفتارکرکے حاجن فوجی کیمپ منتقل کردیاجہاں سے وہ واپس نہیں آیا۔ چند روز بعد اس کی تشدد زدہ لاش ضلع کے علاقے بونیاری میں دریائے جہلم سے برآمد ہوئی۔مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فردوس میر کو بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا اورفوجی کیمپ کے اندر شہید کرنے سے قبل شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح ہیں جن سے دوران حراست ظلم وستم کی تصدیق ہوتی ہے۔فردوس میر کے حراستی قتل کیخلاف حاجن میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں انصاف اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی پولیس نے لاش کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اٹھائیس اگست دوہزارپچیس کو بھارتی فوجیوں نے بانڈی پورہ کے علاقے گریز میں ایک جعلی مقابلے میں دو کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے