میں ایک جمہوری انسان ہوں اور میری جمہوریت سے وابستگی کسی مصلحت کی پیداوار نہیں، بلکہ گھٹی میں ملی ہے۔ لیکن زندگی میں ایک بار میرا یقین ڈگمگایا: 1999کی فوجی بغاوت کے بعد کے دو تین ماہ، جب ذہن یہی پوچھتا رہا کہ بڑا آمر کون؟وہ سویلین وزیراعظم جو امیرالمومنین بننے کے خبط میں مخالف آوازیں کچل رہا تھا، یا وہ باوردی پرویز مشرف جس نے وزیراعظم کی کرسی الٹ دی؟ اس کے سوا میں نے کبھی کسی غیر جمہوری نظام کو قومی وقار کیلئے موزوں نہیں سمجھا۔عمران خان پر تنقید کروں تو دوست پوچھتے ہیں: تمہاری جمہوریت پسندی کہاں گئی؟ میرا جواب یہی ہے کہ یہ نفرت نہیں، اصول کی بات ہے۔ بطور کرکٹر وہ میرے ہیرو رہے۔ وہ آج پابندِ سلاسل ہیں؛ ہمدردی اور ہر زیادتی کی مذمت لازم ہے، مگر تاریخ حقائق سے بنتی ہے۔ان کی سیاست کا آغاز ان قوتوں کے سائے میں ہوا جو سویلین بالادستی کے بجائے کنٹرولڈ ڈیموکریسی پر یقین رکھتی تھیں۔ 1995 میں تحریکِ انصاف بنانے سے پہلے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کے ساتھ ان کا اتحاد اسی سمت کی علامت تھا۔ اسی دور میں عبدالستار ایدھی کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آتا ہے، ایدھی صاحب نے متعدد انٹرویوز میں بتایا کہ حمید گل اور عمران خان نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت گرانے کیلئے آلہ کار بنیں، انہیں اس طرح ڈرایا گیا کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔پھر تضاد دیکھئے۔ عمران خان کے اپنے انٹرویوز کے مطابق وہ برطانیہ میں طالب علمی کے زمانے میں ہر اتوار بینظیر بھٹو کے ہاں عوامی دسترخوان پر کھانا کھانے جاتے تھے، مگر جب اسی بے نظیر بھٹو کو دہشت گردوں نے شہید کیا تو مذمت کے دو لفظ نہ کہے؛ الٹا کہا: انہوں نے خود کو خطرے میں کیوں ڈالا۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے معاملے میں بھی وہ نام لے کر مذمت سے گریز کرتے رہے اور یہ تک کہا: اگر میں ان کی مذمت کروں گا تو مجھے اور میری پارٹی کے لیڈروں کو کون بچائے گا؟
آمرانہ رجحان 1999 کی بغاوت کی حمایت میں بھی دکھائی دیتا ہے: انہوں نے مشرف کے مارشل لا کو جمہوریت کی ضرورت کہا۔ اپریل 2002 کے غیر آئینی صدارتی ریفرنڈم میں وہ مشرف کے بڑے وکیل بنے اور کہا کہ حمایت اس امید پر ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو سیاسی سسٹم سے باہر کیا جائے۔ اکتوبر 2002 کے انتخابات میں مشرف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت ہوئی؛ مطلوبہ حصہ نہ ملا تو اصولی سیاست کا لبادہ اوڑھا، اور پھر 2001میں مشرف کی امریکن جنگ کی حمایت انہیں خودمختاری کا سودا دکھائی دینے لگی۔2008میں جب بڑی جماعتیں آمریت سے جمہوریت کی طرف واپسی کی کوشش کر رہی تھیں، انہوں نے پارلیمان کے بجائے سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔ الیکشن کے بعد میمو گیٹ، اسامہ بن لادن حملہ اور ہر اہم واقعہ میں جمہوری پارٹیوں کے مخالف کھڑے رہے۔ 2013میں 35پنکچر کا دعوی کیا اور ثبوت نہ ملنے پر اسے عدالت میں خود ہی جھٹلا دیا۔ پارٹی کے اندر 1996سے 2010 تک حقیقی اندرونی انتخابات نہیں ہوئے اور جماعت عملاً شخصی جماعت رہی؛ 2015میں پارٹی الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کرنے پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔2013کے بعد شدت پسندوں کیلئے غیر معمولی نرمی مزید کھلتی ہے ۔ ٹی ٹی پی جیسے گروہ، جو ہزاروں پاکستانیوں کے خون میں ملوث رہے، ان کی زبان میں اپنے لوگ اور غلط فہمی کا شکار بن جاتے ہیں۔ امریکی ڈرون حملوں پر شدید ردعمل، طالبان قیادت کی ہلاکت پر افسوس، اور ریاستی طاقت کے استعمال کی مسلسل مخالفت نے عالمی میڈیا میں انہیں طالبان خان کے لقب تک پہنچایا ۔ 2014 کا اسلام آباد دھرنا اس مزاج کی کھلی تصویر ہے: اکثریت کے بغیر سڑکوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش، سول نافرمانی، ٹیکس اور بل نہ دینے کی اپیل اور پھر یہ کہنا کہ میں لوگوں کو کنٹرول نہیں کر سکوں گا، امپائر کی انگلی والا جملہ بھی اسی امید کا اظہار تھا کہ فیصلہ ووٹ سے نہیں، کہیں اور سے آئے گا۔اقتدار میں آ کر انہوں نے 18ویں ترمیم کو نشانہ بنایا، اسے بوجھ کہا اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے مالیاتی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششوں کا تاثر پیدا ہوا۔ الزام لگا کہ سی سی آئی کے اجلاسوں کی آئینی مدت پوری کیے بغیر یکطرفہ فیصلے ہوئے، یکساں قومی نصاب صوبائی مینڈیٹ میں مداخلت بنا اور سندھ حکومت کے بقول وفاق این ایف سی ایوارڈ کو سیاسی ہتھیار بنا کر صوبوں کا جائز حصہ روک رہا ہے یا تاخیر کر رہا ہے۔ آئینی مشاورت سے گریز بھی نمایاں رہا: الیکشن کمیشن ممبران اور چیئرمین نیب جیسی تقرریوں پر اپوزیشن لیڈر (شہباز شریف) سے رسمی مشاورت سے انکار کیا۔ دوسری طرف آرڈیننس کی فیکٹری چلی اور پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا کر 75 سے زائد صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے؛ حتیٰ کہ مارچ 2021میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سینیٹ انتخابات کی آئینی حیثیت بدلنے کی کوشش کی گئی۔ آزادیِ اظہار پر قدغن کیلئے پیکا لایا گیا اور میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تجویز کو بھی سیاہ قانون کہا گیا۔ احتساب کے نام پر سیاسی انجینئرنگ کا الزام بھی اسی دور سے جڑا رہا: رانا ثنا اللہ پر جعلی کیسز، فریال تالپور کی عید کی رات گرفتاری، اور پھر دوہرا معیار کہ جب سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیرونِ ملک اثاثوں کا اسکینڈل سامنے آیا تو انکوائری یا معاملہ نیب کو دینے کے بجائے کلین چٹ دے دی گئی۔ان کے دور کا سب سے بڑا المیہ پارلیمان کی بے توقیری اور سویلین اختیارات کی غیر مشروط دستبرداری تھی۔ ایک پیج کی آڑ میں ریاستی نظم و نسق، معیشت اور خارجہ پالیسی کی کنجیاں منتخب نمائندوں کے بجائے عسکری قیادت کی طرف جھکتی دکھائی دیں۔ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل میں آرمی چیف کو معاشی پالیسی سازی کے فورم پر رکن بنایا گیا؛ سی پیک اتھارٹی کی سربراہی ایک ریٹائرڈ جنرل کے سپرد کی گئی؛ کورونا میں این سی او سی سے لے کر پولیو مہم اور ٹڈی دل کے خاتمے تک سویلین کاموں میں فوج کو آگے لایا گیا۔ اسی فضا میں پارلیمنٹ میں اسپیکر اسمبلی کی بجائے کسی کرنل کی انگلی کا ڈنکا بجنے لگا، وفاقی وزرا صدارتی نظام کے حق میں بولتے نظر آئے، اور اپوزیشن کو چور اور ڈاکو کہہ کر بات سے انکار کیا گیا۔ 2022میں عدم اعتماد کی تحریک آئینی امتحان تھا: ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ووٹنگ روکی گئی اور اسمبلی تحلیل کی گئی، جسے سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا، یہ اقدام سویلین مارشل لا سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔ 2024کے انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی نے سیاسی مفاہمت اور اتحاد کی پیشکش کی، تو انہوں نے سیاسی قیادت کے بجائے صرف مقتدرہ سے بات کرنے پر اصرار کیا۔اب نتیجہ سیدھا ہے: ہمدردی اپنی جگہ، مگر حقائق اپنی جگہ۔ عمران خان کا سیاسی سفر بار بار میں یا کوئی نہیں کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، طاقت کے مرکز کے ساتھ کھڑا رہنا اور جب طاقت ہاتھ سے نکلے تو پورے نظام کو یرغمال بنانے کی آمادگی۔ ان کے نزدیک قانون وہی معتبر ہے جو ان کی حمایت کرے، ادارے وہی اچھے ہیں جو ان کے تابع رہیں۔ جمہوریت تحمل، مکالمہ اور قانون کی حکمرانی ہے؛ اسی کسوٹی پر ناپیں تو شورِ مقبولیت نہیں، آئین کی پابندی فیصلہ سناتی ہے۔
کالم
میں یا کوئی نہیں
- by web desk
- جنوری 14, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 185 Views
- 4 مہینے ago

