کالم

پاکستان:سازشوں کے بیچ قائم ایک ناقابلِ شکست ریاست

(گزشہ سے پیوستہ)
دا پاکستان نہ دے، دا مجبورستان دے ۔ یعنی پاکستان کی موجودہ پالیسی اسکی مجبوری ہے۔ان کی یہ بات اس لحاظ سے حقیقت پر مبنی تھی کہ جس القاعدہ کے اقدام کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکہ کی طرف سے حملہ کیا گیا، اس کے ذمہ دار افغانستان ہی کے مہمان تھے، پاکستان مگر نہیں تھا۔ ہاں، پاکستان نے لٹے پھٹے برادر ملک افغانستان کی دل آزاری سے ہمیشہ گریز کیا، مگر اس کی بھاری قیمت بھی چکائی۔پچاس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ کس نے اٹھایا؟اسلحہ، منشیات اور قتل و غارت گری کا کلچر کس کے معاشرے میں پھیلا؟ایک پرامن قوم کی تین نسلیں اسی کلچر کی نذر ہو گئیں۔اسکے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر ظلم کیا۔امریکہ کی واپسی کے بعد بھارتی پراکسی بننا، خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ اور جوانوں پر حملے یہ سب آخر کیا ہے؟غزوہ ہند کے مجاہدین ہندوستان کی پراکسی بن بیٹھیں تو یہ صرف تضاد نہیں بلکہ سراسر انحراف کی انتہا ہے۔قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے۔بھلا ہو فیلڈ مارشل کا جنہوں نے آرمی چیف بنتے ہی علما کی ایک تقریب میں واضح کر دیا تھا کہ اگر ہمارا ایک پڑوسی ایک ملک یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ 6000 سالہ سلطنت ہے اور جب چاہے ہماری سرحد پر دراندازی کر سکتا ہے تو ایسا اب نہیں ہوگا۔18 جنوری 2024 کو اسی تناظر میں پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اس آپریشن کو آپریشن مرگ بر سرمچار کہا گیا اور اس میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ دراصل 16 جنوری 2024 کو ایران کی جانب سے پاکستان کے بلوچستان میں کیے گئے میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ اسی طرح 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے اندر ایک نمایاں فضائی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں افغانستان کے صوبوں خوست اور پکتیکا میں دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی 5000 سالہ تاریخ والے افغانستان کیلئے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ ریاستِ پاکستان کی سرحد کا وقار مجروح ہوگا تو جواب آئے گا اور سخت جواب آئے گا۔حالات اب آگے بڑھ چکے ہیں اور ایک ماہ سے پڑوسی مسلم ملک کے ساتھ کھلی جنگ جاری ہے۔ اب اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت کی پراکسی بنے گا یا ایک برادر ملک اور اچھا پڑوسی؟ دہشت گردی یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب ہی اس جنگ کا اختتام طے کرے گا۔یہ ایک بہترین اور ناگزیر موقف ہے جو ریاست کے وقار کے لیے ضروری ہے۔ یہی موقف ایک آزاد اور خودمختار ملک کی ضمانت بن سکتا ہے۔قوم کو اب کی بار اس فیصلہ کن لڑائی میں ریاست کے وقار کیلئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ایک باوقار ملک ہی ہماری عزت اور وقار کا ضامن ہے۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے