کالم

پاکستان معاشی ترقی کی نئی شاہراہ پر

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں پائیدار ترقی، صنعتی توسیع، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔اسی تناظر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت گزشتہ روز سرمایہ کاری میں اضافے، معاشی ترقی اور مختلف شعبوں میں اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو مزید مستحکم بنانے کیلئے متعدد تجاویز اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِاعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتی پیداوار بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ہی پاکستان ترقی یافتہ معیشتوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی عالمی معیشت میں سرمایہ کاری کو ترقی کا بنیادی انجن سمجھا جاتا ہے۔ وہ ممالک جو بیرونی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، نہ صرف اپنی صنعتی بنیاد کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی، جدید انتظامی صلاحیتوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اسی راستے پر گامزن نظر آ رہا ہے جہاں حکومت سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرا رہی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام وزارتیں اور متعلقہ ادارے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ماہرین کی مشاورت کو اپنی پالیسی سازی کا حصہ بنائیں تاکہ قومی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ یہ سوچ اس امر کی غماز ہے کہ حکومت روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر علم، تحقیق اور جدت پر مبنی اقتصادی ماڈل کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے سرمایہ کاری کے میدان میں کئی اہم پیش رفتیں حاصل کی ہیں۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو درپیش انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے، ڈیجیٹل نظام کے فروغ اور اجازت ناموں کے حصول کے عمل کو آسان بنانے کے اقدامات بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ حالیہ دور چین کے دوران ہونے والے کاروباری معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے حال ہی میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ چین کے ساتھ طے پانے والے اربوں ڈالر کے معاہدوں کو جلد عملی شکل دی جائے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ بیرونی سرمایہ کاری کے فوائد صرف مالی وسائل تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، برآمدات بڑھتی ہیں اور مقامی افرادی قوت کو جدید مہارتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک سرمایہ کاری کے حصول کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد، وسیع قدرتی وسائل، اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع اور ابھرتی ہوئی منڈی سرمایہ کاروں کیلئے غیرمعمولی مواقع فراہم کرتی ہے۔اجلاس میں توانائی، صنعت، تجارت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں اصلاحات پر بھی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اصلاحات کا محور عوامی فلاح، طویل المدتی معاشی استحکام اور قومی خوشحالی ہونا چاہیے۔ انہوں نے برآمدات میں اضافے اور صنعتی پیداوار کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت صرف سرمایہ کاری کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس سرمایہ کاری کو قومی ترقی میں تبدیل کرنے کیلئے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔اقتصادی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی ترقی کے منصوبے اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کو ایک مضبوط اور خود کفیل معیشت بنانا ہے۔ آج پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کا پائیدار حل سرمایہ کاری، صنعت کاری اور برآمدات کے فروغ میں مضمر ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والا حالیہ اجلاس اسی قومی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر حکومتی اصلاحات، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان نہ صرف معاشی استحکام حاصل کرے گا بلکہ خطے میں سرمایہ کاری اور تجارت کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔بلاشبہ بیرونی سرمایہ کاری صرف سرمایہ کا نام نہیں بلکہ یہ ترقی، خوشحالی، روزگار، جدید ٹیکنالوجی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ پاکستان کی موجودہ معاشی حکمتِ عملی اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کو ترقی و استحکام کی نئی منزلوں کی جانب لے جانے کیلئے کوشاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے