کالم

مذاکرات ہی حقیقت پسندانہ آپشن

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے اب تک اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کے لئے شدت کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ بلا تاخیر تہران کے ساتھ کامیاب مذاکرات چاہتے ہیں مگر ان کی دھمکیوں اور مسلسل یوٹرن کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز کو الٹنا اور بنا ہوا کام بگاڑنا چاہتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اس نکتہ کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا سب سے بڑا انحصار زبان بندی اور اعتماد سازی کے اقدامات میں ہے امریکی صدر کی ایران کے حوالے سے مزید سخت شرائط یقینا جاری مفاہمتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ہر گزر درست نہیں ہوگا کہ مذاکراتی عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے بڑے تنازعات میں اکثر وبیشتر فریقین سخت بیانات اور دبا کی حکمت عملی کے ساتھ رابطوں کے دروازے بھی کھلے رکھتے ہیں جبکہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک کے مجموعی اشارے بھی یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران مکمل محاذ آرائی کے بجائے کسی نہ کسی شکل میں مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مزید نئی اور سخت شرائط پیش کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی قیادت ایسا معاہدہ چاہتی ہے جسے وہ اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرسکے جبکہ دوسری جانب ایران اپنی خود مختاری قومی وقار اور بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے یہی وہ بنیادی تضاد ہے کہ جو مذاکرات کو مشکل بنا رہا ہے ڈونلڈ ڈرمپ کے مسلسل یوٹرن اور سخت موقف اختیار کرنے کا ایک مقصد اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ وہ تہران کے معاملے میں کسی بھی قیمت پر نرم رویہ اختیار نہیں کریں گے ایرانی قیادت نے برسوں کی پابندیوں دبا اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے نظام کو بر قرار رکھا ہوا ہے اور اب بھی ایرانی عوام کی اکثریت بھرپور طریقے سے اس کے ساتھ ہے اس لئے وہ دبا کے تحت فیصلے کرنے کے بجائے مزاحمت کی پالیسی کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتی ہے یہ اعصاب اور نفسیات کی جنگ ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر خود امریکہ کے اندر تنقید بڑھ رہی ہے ان کے بیانات اور فیصلوں کو عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا جارہا ہے دنیا کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ ایران اس جنگ میں فاتح رہا ہے امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہوں نے ایران کو سخت نقصانات پہنچانے کے باوجود خود بھی بہت سے زخم کھائے ہیں اور ان پر سخت دبا بھی ہے ٹرمپ کی شدید خواہش ہے کہ وہ اس جنگ سے نکل جائیں لیکن وہ اپنی سیاسی موت قبول نہیں کر سکتے ایسا کوئی بھی معاہدہ جو انہیں ہارا ہوا ظاہر کرے ان کی سیاسی موت ہو گی وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کر سکتے اس وقت ضد اور اور انا کو پس پشت ڈال کر وسیع تر عالمی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا آسان ہوتا ہے مگر بھڑکتی آگ کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ میں تہران کی جوہری صلاحیت اور منجمد اثاثوں کا معاملہ بنیادی رکاوٹ ہے ایران کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس کا مطمع نظر نہیں مگر اس کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کے لئے شبہات کا باعث بنا رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی خطرے کو بنیاد بنا کر گزشتہ برس ایران پر حملہ کیا اور رواں سال کی جنگ بھی اسی بہانے شروع کی گئی جس کی قیمت ایران امریکہ خلیجی ممالک اور پوری دنیا کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے متحارب ملکوں متاثرہ خطے اور دنیا کو اس مشکل سے نکالنے کے لئے نتیجہ خیز پیش رفت ناگزیر ہے یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی اس تنازعے کو طول دینے کا خواہش مند نظر نہیں آتا نہ ہی اس میں کسی کا کوئی فائدہ ہے امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عسکری طاقت ہے اس تنازعہ کا طول پکڑنا خود اس کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہے ایران پر حملے کے باعث امریکہ میں تیل کی قیمتوں مہنگائی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے اثرات پوری دنیا کے سامنے ہیں دنیا کی تقریبا 20 فیصد تیل کی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اس لئے کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلے جانے کے نتیجے میں امریکہ کی کئی ریاستوں میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی اس تنازع کے باعث رواں سال امریکہ میں مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اپریل میں پٹرول کی قیمتوں میں 5.5 فیصد اضافے کے ساتھ مہنگائی کا دبا بڑھ گیا جبکہ دوسری جانب امریکہ کے دفاعی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے پینٹا گون کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکہ کی جنگ پر اب تک 29 بلین ڈالر لاگت آئی ہے جبکہ دفاعی ماہرین اور امریکی قانون سازوں کے مطابق اس جنگ کی اصل لاگت 630 بلین ڈالر اور ایک ٹریلین ڈالر کے درمیان ہے ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ برس کیلئے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیاہے جو امریکہ کے موجودہ دفاعی اخراجات سے 42 فیصد زیادہ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ ہے یہ صورت حال کسی بھی طرح ایران کی عسکری مہم جوئی کو امریکہ کے حق میں ثابت نہیں کرتی چنانچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر مزید دبائو بڑھانے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے بار باریوٹرن لینے کی بجائے اس سلسلے کو جہاں تک ممکن ہو جلد از جلد بند کریں کیونکہ خلیجی خطے دنیا اور خود امریکہ کے لئے یہی بہتر ہے اس وقت پوری دنیا ایک پائیدار امن معاہدے کی خواہاں ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں عالمی معیشت کی نبض جنگ بندی کے معاہدے سے جڑی ہے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت اب بھی مفاہمتی عمل کیلئے ساز گار ماحول پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے البتہ حتمی معاہدے کا انحصار امریکہ اور ایران کے اپنے فیصلوں پر ہے فریقین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے جارحانہ بنایات سے مکمل گریز کریں خصوصا امریکی صدر ڈونلڈ ڈرمپ جلتی پر تیل ڈالنے کا جو کام کر رہے ہیں وہ کسی طور پر بھی دنیا کے مفاد میں نہیں’امریکہ مفاہمتی ماحول کو متاثر کرنیوالے غیر ضروری دبا کی پالیسی کو فوری ترک کرے امریکہ اور ایران کے مابین بعض معاملات پر اختلافات بر قرار ہونے کے باوجود معاہدے کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ اس نہج پر پہنچ کر معاملات اب ریورس نہیں ہوسکتے حالات اور واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو فریقین کے پاس اس کے سوا کوئی حل نہیں کیونکہ جنگ کے مقابلے میں مذاکرات اب بھی کم نقصان دہ اور زیادہ حقیقت پسندانہ آپشن ہیں اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ فریقین مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے