کالم

پیغامِ پاکستان ،دستور اور قومی استحکام

1973 کا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ یہ ریاستِ پاکستان کی فکری بنیاد، اجتماعی عہد اور قومی عمرانی معاہدہ ہے۔ یہ وہ متفقہ فریم ورک ہے جسے تمام مکاتبِ فکر کے علما و مشائخ کی تائید حاصل رہی ہے اور جس نے واضح طور پر یہ اصول طے کیا کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ اسی دستور کی روح یہ بھی ہے کہ ریاست کے نظم، سلامتی اور ادارہ جاتی استحکام کو چیلنج کرنے والی کسی بھی مسلح جدوجہد کی نہ شرعی گنجائش ہے اور نہ آئینی جواز۔ مذہب کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا، یا لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی اختلافات کو بنیاد بنا کر تخریب و فساد پھیلانا شریعتِ اسلامیہ کی مخالفت اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔اسی آئینی و شرعی فہم کی منظم اور متفقہ تعبیر پیغامِ پاکستان کی صورت میں سامنے آئی، جو درحقیقت پاکستان کا اصل قومی بیانیہ ہے۔ پیغامِ پاکستان ایک فرد، جماعت یا حکومت کا بیانیہ نہیں بلکہ ریاست، علما، دانشوروں اور معاشرے کی اجتماعی دانش کا نچوڑ ہے۔ یہ وہ دستاویزی اعلامیہ ہے جس میں متفقہ طور پر یہ طے کر دیا گیا کہ خودکش حملے، مسلح بغاوت اورتکفیریت غیر شرعی اور آئینِ پاکستان سے بغاوت ہے۔ اس اعلامیے نے مذہب کے نام پر تشدد کی تمام صورتوں کو علمی، فقہی اور اخلاقی سطح پر رد کیا اور یہ پیغام دیا کہ اختلاف رائے کا حق موجود ہے مگر اس کا اظہار آئینی، پرامن اور جمہوری دائرے میں ہی ہو سکتا ہے۔نیشنل ایکشن پلان اسی قومی بیانیے کا عملی اور انتظامی اظہار ہے۔ 2014 کے بعد ریاست نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ محض عسکری اقدامات کافی نہیں، بلکہ فکری، تعلیمی، قانونی اور سماجی سطح پر بھی جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔ نیشنل ایکشن پلان نے دہشت گردی کی مالی معاونت، نفرت انگیز تقاریر، شدت پسند تنظیموں اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف واضح لائحہ عمل دیا۔ پیغامِ پاکستان نے اس لائحہ عمل کو شرعی و فکری جواز فراہم کیا، یوں ریاستی طاقت اور دینی استدلال ایک ہی سمت میں ہم آہنگ ہو گئے۔عالمی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پیغامِ پاکستان کی اہمیت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ دنیا کی بہت سی ریاستیں مذہبی انتہاپسندی کے مقابلے میں یا تو سیکولر جبر کی طرف گئیں یا مذہب کو کلیتا نجی دائرے تک محدود کر دیا۔ پاکستان نے اس کے برعکس منفرد راستہ اختیار کیا جہاں مذہب کو ریاستی بیانیے سے خارج کرنے کے بجائے، مستند علما کے ذریعے اس کی درست تعبیر پیش کی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مسلم ریاست میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا کہ غیر ریاستی مسلح جدوجہد نہ جہاد ہے اور نہ شریعت کا تقاضا۔ اس اعتبار سے پیغامِ پاکستان نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر ایک مثال بن کر ابھرا ہے۔تاہم قومی بیانیہ صرف دستاویزات سے زندہ نہیں رہتا، اسے معاشرتی تشکیل میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ دستورِ پاکستان کا تقاضا ہے کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں منافقت، تنگ نظری، عدم برداشت اور بہتان تراشی جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ بدقسمتی سے ہم نے مذہبی و سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کی روش اختیار کی، جس کا فائدہ شدت پسند بیانیوں نے اٹھایا۔ پیغامِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف ہی وہ اقدار ہیں جو ایک اسلامی جمہوری ریاست کی پہچان ہیں ۔ دفاعِ پاکستان صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ فکری سرحدوں کا تحفظ بھی اسی قدر اہم ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی ہو یا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈا، دونوں قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب، میڈیا مباحث اور ریاستی پالیسی سب ایک ہی قومی بیانیے کی ترجمانی کریں۔ نوجوان نسل کو یہ باور کرانا ہوگا کہ شریعت کا نفاذ بندوق سے نہیں بلکہ آئین، قانون اور اخلاقی تربیت سے ہوتا ہے۔پیغامِ پاکستان کسی ایک دور کی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسلسل قومی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم آئینِ پاکستان کو اپنی اجتماعی زندگی کا مرکز، شریعت کو عدل و رحمت کا نظام، اور اختلاف کو برداشت کے دائرے میں رکھنے کا عزم نہیں کریں گے، استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔ پیغامِ پاکستان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ریاست، دین اور قوم ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ضامن ہیں، اور یہی بیانیہ پاکستان کے محفوظ، مضبوط اور پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے