کالم

ڈسلیکسیا(Dyslexia)۔۔۔!

ڈسلیکسیا ایک ذہنی بیماری ہے۔ڈسلیکسیا ایک ایسا مرض ہے جس کے مریضوں کو حروف کی پہچان نہیں ہوتی ہے، اس لئے ایسے افراد پڑھ لکھ نہیں سکتے ہیں۔1968ء سے پہلے ایسے مرض کے شکار افراد کو ورڈ بلائنڈ یا ریڈنگ ڈس ایبل یا لنرننگ ڈس ایبل بھی کہا جاتا تھا۔ 1968 ءمیںاس بیماری کےلئے ڈسلیکسیا کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ یہ مرض حمل اور پیدائش کے دوران دماغ کے مائیکرو ڈ ےمیج کے باعث ہوسکتا ہے، بچے میں یرقان اور دیگر بیماروں یا حاملہ عورت کی ناکافی خوراک یا ذہنی انتشار بھی اس مرض کا سبب ہوسکتا ہے۔ یہ مرض مرکزی اعصابی نظام میں خلل یا جینیاتی عوامل مرد وں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ ڈسلیکسیاکا مرض خاندانی بھی ہوسکتا ہے۔
اس مرض کا تب پتہ چلتا ہے ،جب بچہ بولنے کی عمر میںپہنچتا ہے لیکن وہ نہیںبولتا ہے۔ بچوں کے نہ بولنے کی اور بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔جب بچہ سکول جانے لگتا ہے تو بچے کو حروف پہچاننے، پڑھنے اور لکھنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں، اس کی ایک وجہ ڈسلیکسیا بھی ہوسکتی ہے لیکن بعض اساتذہ اور زیادہ تر والدین کو ڈسلیکسیا کا علم نہیں ہوتا ہے، وہ ان بچوں کو نالائق اور کم عقل سمجھتے ہیں اوروہ ان بچوں پر مختلف طریقوں سے پریشر ڈالتے ہیں، ان بچوں کو جسمانی اور ذہنی سزا بھی دیتے ہیں جو کہ کسی لحاظ سے درست نہیں ہے بلکہ اس سے مزید نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ڈسلیکسیا مرض میں مبتلا بچوںسمیت سبھی بچوں کو سزا نہیں دینی چاہیے ۔ سزا کو اصلاح کےلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔والدین اور اساتذہ ایسے بچوں کو قطعی نظر انداز نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے مرض میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔اگر بچہ لکھ پڑھ نہیں سکتا ہے تو آپ بچے کو ماہر اطفال، اعصابی اوردماغی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ ڈسلیکسیا کے ٹیسٹوں میں ای این ٹی،امراض چشم،اسپیچ تھراپی، پیڈیا ٹرک اور نفسیاتی ٹیسٹ شامل ہیں۔گو کہ اب تک ڈسلیکسیا کا کوئی علاج موجود نہیں ہے لیکن ڈاکٹر علامات اور شدت کو دیکھتے ہوئے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی کے مطابق ڈسلیکسیا میں مبتلا بچے کلاس روم میں موجود ہوتے ہیں لیکن ان میں لکھنے اور درست املا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔برطانیہ کی کیمرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک تحقیق میں بتایا کہ ڈسلیکسیا انسانوں کی بقا اور مستقبل میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ایک ریسرچ ٹیم کے سربراہ ہیلن ٹیلر نے کہا ہے کہ ڈسلیکسیا میں مبتلا افراد کے ذہن میں پہلے سے ہی موجود معلومات اور نئی معلومات کےلئے تجس کی کشمکش جارہی رہتی ہے۔دنیا کی معروف شخصیات بھی ڈسلیکسیا کی شکار رہی ہیں،نامور سائنس دان آئن سٹائن، برطانوی سپیس سائنس دان میگی ایڈرن ،برطانیہ کے مشہور بزنس مین سر رچرڈ برانس ،امریکی صدور میں جان ایف کینڈی، جارج واشنگٹن ، جارج ڈبیلو بش سمیت ایسے افراد کی فہرست طویل ہے۔
بالی وڈ اداکار سنی دیول کو بھی ڈسلیکسیا ہے، انھوں نے دی انڈیا ایکسپریس کو انٹرویو میں بتایا تھاکہ میں کافی عرصے سے ڈسلیکسیانامی بیماری سے لڑ رہا ہوں۔انہیں چھوٹی عمر میں سیکھنے کی صلاحیت میں کمی اور سیٹ پر لائنز یاد کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔اسی طرح بھارتی فلمساز شیکھر کپور نے انسٹا گرام پر انکشاف کیا تھا کہ وہ مکمل طور پر ڈسلیکسیا کا شکار ہوچکے ہیں۔ نوجوان گلوکار شاہ میر خان بھی ڈسلیکسیا کا شکار ہیں۔مولانا طارق جمیل کا بیٹا عاصم جمیل بھی اسی مرض میں مبتلاتھا، انھوں نے تیس اکتوبر2023ءکو خودکشی کی تھی۔
حکومت پاکستان نے ڈسلیکسیا ایکٹ 2020ءنافذ کیا ،اس کے مطابق ہر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کےلئے لازمی قرار دیا ہے کہ ڈسلیکسیا کے حوالے سے اپنے اساتذہ کو تربیت فراہم کریں ، ڈسلیکسیا کے مرض میں مبتلا بچوں کی شناخت کریں، ایسا طلبہ کو غیرروایتی اور جدید طریقوں سے تعلیم دیں۔بچوں کو کم نمبروں ، پاس یا فیل کی بنیاد پر سکولوں سے نہ نکالیں۔ڈسلیکسیاکے بچوں کےلئے خصوصی نصاب تیار کریں ۔ ڈسلیکسیا کا عالمی دن8 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ڈسلیکسیا کے بارے میں آگاہی فراہم کرناہے، ڈسلیکسیا میں مبتلا افراد کی سیکھنے کی کوشش میں ان کی مدد کےلئے موثر حکمت عملیوں کا نفاذ کرنا ہے ۔ ڈسلیکسیاکے والدین کو چاہیے کہ جب بچہ سکول سے گھر آتا ہے تو اس کو لازمی مکمل آرام کا موقع دیا کریں ۔ویسے بھی دوپہر یا سہ پہر کو ہرانسان کو بیس منٹ سے تیس منٹ تک آرم کرنا چاہیے،اس کو قیلولہ بھی کہتے ہیں۔اس سے انسانی صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔قیلولہ حضورکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں سے دنیا اور آخرت میں کامیابی و کامرانی ملتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اس کی عمرکے مطابق کتابیں اور کھلونے وغیرہ بھی دیں،ان سے وہ سیکھ سکتے ہیں۔مختلف رنگوں اور اشکال کی مشق کروائیں ۔ڈسلیکسیا کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں، اس لئے بچوں کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھیں اور اس پر کام کریں۔ایسے بچوں پرتوجہ دیںاور ان کی تعریف کریں ۔اساتذہ کو چاہیے کہ ڈسلیکسیا میں مبتلابچوں کو کم کام دیا کریں،ان کو غلطیوں پر سزا نہ دیں بلکہ پیار سے اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔اگر بچہ پڑھائی میں مطلوبہ نتائج نہ دے تو صبر اور حکمت کا مظاہرہ کریں۔ان کے ساتھ ڈسلیکسیا ایکٹ 2020ءکے عین مطابق سلوک کریں۔ بچوں کو پڑھانے میں روایتی طریقوں کی بجائے جدید اور دلچسپ انداز اپنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے